Friday, 28 February 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saira Kanwal
  4. Peca Act

Peca Act

پیکا ایکٹ‎

پیارے ملک پاکستان میں سوشل میڈیا ٹیکنالوجی شاید ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوئی۔ پوری دنیا میں جدیدیت سے فائدہ اٹھا کر ترقی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں جدیدیت کو انتہائی غیر مناسب کاموں کے لیے استعمال کیا گیا اور شاید اب بھی کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ہر پہلو کو دیکھیں۔ حقیقت کم فسانہ زیادہ نظر آتا ہے اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر سوشل میڈیا یوزر اسے فیک سمجھنے کے باوجود خود اس عمل کا حصہ دار بنتا ہے۔ ہمیں واضح محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ یہ خبر یا ویڈیو فیک ہے۔ مگر مجھ سمیت سب اسے تسلی سے پڑھتے اور دیکھتے ہیں اور کچھ بہادر تو صرف ایک ٹچ سے اس جھوٹ کو بے ضرر سمجھ کر پھیلانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے۔

ہم لوگ مزید کی تلاش میں ایک دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اسلامی اقدار تو ایک طرف، اخلاقی معیار بھی ختم ہو رہے ہیں۔ عورت کا کسی بھی عہدے یا شعبے میں کام کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جس کا دل چاہے۔ موبائل گیلری ہیک کرے، تصویروں کے زریعے ذہنی گندگی کا اظہار کرے اور دوسرے کو جیتے جی زندہ گاڑ دے۔ عام سے لے کر خواص تک کسی کی عزت محفوظ نہیں۔

ہم نے تو نعوذباللہ دین کا بھی مذاق بنا لیا۔ اپنی طرف سے احادیث اور احکامات گھڑنا شروع کر دئیے اور پھر انھیں ہر روز فارورڈ میسجز کے زریعے پھیلانا شروع کر دیا۔ مشہور شخصیات کی شادی، طلاق اور بعض اوقات مرنے کی خبر بڑی تسلی سے بنا کر پوسٹ یا وی لاگ کی صورت میں شئیر کر دی جاتی ہے اور پھر ہر شخص اپنے نیٹ پیکج سے پوری طرح مستفید ہونے کے لیے اسے دوسروں تک ایک فرض سمجھ کر پہنچاتا ہے۔

ہم لوگوں نے شہداء کو بھی اس گندگی میں گھسیٹ لیا۔ ان کی تضحیک آمیز پوسٹ شئیر کرتے وقت ہم اتنے گر جاتے ہیں کہ پستی کو بھی شرم آتی ہے۔ کبھی نہیں سوچتے کہ ان والدین کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جنھوں نے اپنے جگر کا ٹکڑا اس وطن پر قربان کر دیا۔

ہر اہم تعیناتی کی صرف خبر نہیں دی جاتی بلکہ اس بیچارے بندے کی اگلی اور پچھلی کم از کم سات نسلوں کا شجرہ نسب سوشل میڈیا پر شئیر کیا جاتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی کسی جرم کا مرتکب ہوا ہو تو وہ بھی اس بیچارے کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر سارے صحافی حضرات اس پر ایک وی لاگ تو لازم کرتے ہیں تا کہ عام عوام میں سے کوئی بھی شخص ان معلومات سے بے خبر نا رہ جائے اور اس کی زندگی میں جو خلا باقی رہ گئے ہیں وہ پر ہو جائیں۔

حکومت وقت بھی ان معاملات میں پیچھے نہیں۔ کوئی قانون ابھی پیش ہی ہوتا ہے۔ وزرا فوراََ اپنے اپنے صحافیوں کو اس کے خلاف یا حق میں وی لاگ کرنے کا اشارہ کر دیتے ہیں اور صحافی حضرات تو ایسے مواقعوں کے انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی بحث و مباحثہ شروع ہو جاتا ہے۔ کوئی اپنی چڑیا کا ذکر کرتا ہے کوئی ہدہد اور کوئی اپنے کبوتر کی خبر سناتا ہے۔ سب بھول جاتے ہیں۔ اصل میں یہ پرندے کوے ہیں جنھیں چغل خور کا خطاب ملا تھا۔

سیاسی جماعتوں کی خواتین، شوبز کی اداکاراؤں کی فیک ویڈیوز دیکھ کر خود پر شرمندگی ہونے لگتی ہے کہ ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ہمارا دین اور والدین کی تربیت ایسی تو نا تھی۔

مانتی ہوں اختلاف کرنا، جمہوری عمل کا حصہ ہے۔ عوام کا رائے دینا جمہوریت کا حسن ہے۔ مگر ہر شے حد میں ہی اچھی لگتی ہے اور جب کوئی عمل حد سے باہر نکلنے لگے، پھر اسے قانون کے زریعے ہی قابو میں کیا جاتا ہے۔

جب ہر ایک کی عزت پامال ہونے لگے تو قانون کو حرکت میں آنا ہی پڑتا ہے۔ ورنہ معاشرے الجھنوں اور جھوٹ کا شکار ہو کر کمزور ہو جاتے ہیں اور اغیار کو ایسی ریاست تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔

کوئی بھی قانون فرد واحد کے لیے بنتا اور نا ہی اس پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہےکہ ایک ایک بندے سے اس کی پسند پوچھ کر قانون بنایا جائے۔ اعتراض کرنے کے لیے نمائندے پارلیمنٹ اور سینٹ میں موجود ہیں۔ اگر وہ پسند کا قانون پاس نہیں کرواتے تو اگلی مرتبہ انھیں ووٹ دے کر مت جتوائیں۔

مگر عام عوام کی رائے میں بے مقصد تنقید نا کریں۔ صرف ذاتی فائدے کے لیے پورے نظام کو ہلانے کی ناکام کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

کہاوت مشہور ہے پہلے سوچو، پھر تولو اور آخر میں بولو۔ دین اسلام میں بھی بغیر تحقیق کے خبر پھیلانے سے منع فرمایا گیا ہے۔ تو پھر پریشانی کس بات کی؟ عام عوام سمجھنے سے قاصر ہے۔

میں نا وکیل ہوں، نا صحافی ہوں میں تو صرف عام عوام کی حیثیت میں یہ جانتی ہوں کہ جھوٹی خبر اور بے ہودہ فیک ویڈیوز بنانے، پھر انھیں پھیلانے پر اگر سزا مل رہی ہے تو ضرور ملنی چاہیے۔ قانون میں کوئی کمی ہوگی تو وقت کے ساتھ تبدیلی آ جائے گی۔ کم از کم ان باتوں کو بریک تو لگے گی۔ اس میں آخر کیا قباحت ہے؟

گزارش ہے کہ معاشرے کے بگاڑ کو سدھارنے کا سبب بنیں۔ نا کہ بے مقصد شور مچائیں۔

Check Also

Normal Mulk

By Javed Chaudhry