Wednesday, 24 July 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saira Kanwal
  4. Naik Aurat Kon Hai?

Naik Aurat Kon Hai?

نیک عورت کون ہے؟

لوگ کہتے ہیں اگر شوہر بیوی کی یا بیوی شوہر کی تعریف کرے تو اسے قابل غور نہ سمجھا جائے کیونکہ رشتہ قریبی اور بھرم والا ہے۔ گزشتہ دنوں عمران خان کے کچھ بیانات کا چرچا ہے۔ دراصل عمران خان کے سارے بیانیے بری طرح پٹ چکے ہیں۔ اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ میڈیا میں خود کو زندہ کیسے رکھیں۔ سو انہوں نے جیسے ریحام خان کا استعمال کیا تھا اسی طرح اپنی تیسری زوجہ بشریٰ کا استعمال شروع کر دیا۔

پہلے انہوں نے بشریٰ کو اپنی مرشد قرار دیا پھر یوٹرن لیا اور کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ پھر کہا میں نے بشریٰ بیگم جیسی نیک عورت پوری زندگی میں نہیں دیکھی۔ انہوں نے چھ ماہ ایک کمرے میں گزار دیئے۔ انہیں باہر کے ٹرپ سے کوئی دلچسپی نہیں نہ ہی شاپنگ کرنا پسند ہے۔ ان کے بغیر زندگی کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔

مجھے یہ سب سن کر عمران خان پر بڑا ترس آیا۔ ہر مرد کا پہلا آئیڈیل اس کی ماں ہوتی ہے۔ وہ اپنی ماں کی عادتیں اپنی بہن، بیوی حتٰی کہ اپنی بیٹی میں بھی ڈھونڈتا ہے۔ افسوس عمران خان نے اپنی اس مرحومہ والدہ کو بے توقیر کر دیا۔ جن کا نام بیچ کر وہ ابھی تک نوٹ چھاپ رہے ہیں۔ بہنوں کے کردار پر بھی سوال اٹھا دیا۔ جو ان کے پیچھے رسوا ہو رہی ہیں۔ بیٹی کی تو بات ہی نہ کریں اسے تو وہ سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ساتھ ہی اپنی پارٹی کی خواتین کا اسٹیٹس بھی بتا دیا کہ ان کے لیڈر کی نظر میں ان کا کردار کیا ہے؟

اس بیان سے واضح ہے کہ عمران خان نے اپنی پوری زندگی میں کوئی نیک عورت دیکھی ہی نہیں۔ چھ ماہ کمرے میں بند رہ کر آپ کی زوجہ اپنی اس پرآسائش زندگی کی واپسی کے چلے کاٹ رہی تھیں جو ان کے ہاتھوں سے نکل گئ۔ بازاروں میں دھکے کھا کر بھاؤ تاؤ کرکے شاپنگ تو محدود وسائل والی عورتیں کرتی ہیں۔ جن کو ہیروں سے لے کر ڈنر سیٹ تک گھر بیٹھے مل رہا ہو۔ انہیں شاپنگوں کا شوق نہیں ہوتا۔

جس کمرے میں انہوں نے چھ ماہ گزارے وہ چھ بائی چھ کا کمرہ نہیں بلکہ آسائشوں سے بھرپور ایک اتنا وسیع کمرہ تھا جتنا کے کسی غریب کا پورا گھر ہوتا ہے۔ آپ کی زوجہ بیٹے بیٹیوں کی خوشیاں دیکھ کر آپ کے پاس آئی ہے۔ ان کی زندگی کے کون سے مسائل ہیں جو انہیں کمرے سے باہر نکلنے کی ضرورت محسوس ہو۔ عمران خان آپ نے صرف اپنے خاندان اور اردگرد کی عورتوں کو بے توقیر نہیں کیا بلکہ آپ نے اس ملک کی تمام خواتین بالخصوص متوسط طبقے کی خواتین کو بے توقیر کر دیا۔ اس ملک کے ہر گلی محلے میں ایسی خواتین ہیں جو دامن پھیلا دیں تو ان کے آنچل پر سجدہ جائز ہو۔

مجھے اپنی مرحومہ ساس اور والدہ پر فخر ہے۔ جنہوں نے اپنی تمام زندگی گھروں میں شوہر کی خدمت اور اولاد کی پرورش میں گزار دی۔ جو اتنی معصوم اور سیدھی تھیں کہ باہر کی دنیا بھی شوہر اور اولاد کی آنکھوں سے دیکھتی تھیں۔ جو شوہروں کی سخت گیری کے باوجود ان کی وفادار رہیں۔ اور مجھے یقین ہے کہ کم و بیش ہر پاکستانی مرد نے عورت کا کوئی نہ کوئی خوبصورت اور نیک روپ ضرور دیکھا ہوگا۔

پھر عمران خان پر ترس کھانا تو بنتا ہے نہ؟

ویسے ناجانے کیوں اس ںے وقت کی راگنی سے یہ کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ عمران خان بشریٰ بیگم سے یہ کہہ رہے ہیں کہ پلیز اب تم نہ چھوڑ کر چلی جانا اس لئے میڈیا پر ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ تاکہ لحاظ رہ جائے۔ کوئی ان پر ترس کھا لے اور وہ پریس کانفرنس نہ ہو جس کے چرچے شروع ہو گئے ہیں۔ جناب مکافات عمل تو ضرور ہوگا۔ کیوں کہ یہ تو کائناتی سچ ہے۔ جو بویا ہے وہ تو کاٹنا ہی پڑےگا ویسے بھی آسائشوں کے عادی کہاں جیل کی سختیاں کاٹ سکتے ہیں۔ وہ سمجھوتے پر اتر آتے ہیں۔

عمران خان آپ کا تماشا بنانے کے لئے سر پر کالی بالٹی رکھوا دی کہ شاید آپ خود ہی پیچھے ہٹ جائیں مگر یہ تھوڑی پتا تھا کہ آپ کا لیول اتنا گرا ہوا ہے کہ سر پر ڈبہ رکھ کر بھی باہر چلے جائیں گے۔ اب بیچاری کس طرح آپ سے جان چھڑوائے۔ اس لئے آپ بشریٰ بیگم کی تعریفوں کے پل باندھنا بند کر دیں۔ یہ کارڈ کافی پھس پھسا سا ہے۔ چل نہیں پائے گا۔ اور وہ آپ کو چھوڑ کر بھی جائیں گی۔

اگر آپ کی قسمت میں لکھا ہوا تو، اس لئے عوام کے سامنے فضول گفتگو سے پرہیز کریں۔ کچھ کرنا ہی ہے تو ہماری جان چھوڑ دیں۔ مزید تباہی نہ مچائیں۔ پہلے ہی آپ کی بچھائی بارودی سرنگوں پر ہم عوام ہی چل رہے ہیں۔

Check Also

Honey Trap Ke Shikar Afrad

By Muhammad Wasif Akram