Wednesday, 01 February 2023

Important Notice

Our facebook page was hacked by some hacker. Now they are posting in-appropriate content over there. We have no control over that page. You are requested to un-follow that page (DailyUrduColumns) and like & follow our new page on (DailyUrduColumnsOfficial).

  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Saira Kanwal

Kya Gandagi Aham Masala Nahi?

صفائی نصف ایمان ہے۔ یہ حدیث بچپن سے ہمیں پڑھائی جا رہی ہے اور ہم اکثر بچوں کو سمجھانے کے لئے اس حدیث کا استعمال بوقت ضرورت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کیا اس نصف ایمان میں صرف ہمارے خاندان اور ہمارے گھر ہی آتے ہیں؟ ظاہر ہے آپ لوگ باہر گلیوں اور سڑکوں کو تو صاف نہیں کر سکتے۔ لیکن آپ اپنی ذاتی حیثیت میں انھیں گندہ کرنے سے تو خود کو روک سکتے ہیں۔

صفائی کے لحاظ سے شہباز شریف کا دور ایک سنہرا دور تھا۔ لاہور کی سڑکوں کو روزانہ کی بنیاد پر دھویا جاتا تھا۔ اور یہ سڑکیں شیشے کی طرح چمکتی تھیں۔ عثمان بزدار کے چار سالہ دور حکومت میں بغض شہباز شریف میں سب سے پہلے لاہور کی صفائی کے پروگرام بند کیے گئے۔ ہر طرف بکھرے کاغذ، کچرے کے ڈھیر لاہور کا مقدر ٹھرے۔ درمیان میں کچھ عرصے کے لئے حمزہ شہباز شریف جب آئے تو ایک دم دوبارہ سب متحرک ہو گئے روزانہ کی بنیاد پر صفائی کا کام شروع ہوگیا۔

بقر عید اسی عرصے میں آئی ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی سر پر کھڑا ہو کر کام کروا رہا ہو۔ لیکن یہ خوشی بھی عارضی ثابت ہوئی۔ محترم پرویز الہٰی صاحب کے پاس اتنی پریشانیاں ہیں کہ ایسے چھوٹے کاموں کے لئے ان کے پاس وقت ہی نہیں۔ عمران خان کے زمان پارک والے گھر کو قلعے کی طرح مضبوط بنانا۔ ان کے صاحبزادگان کے لئے پروٹوکول کا انتظام کرنا تحریک انصاف کے کارکنان کو مطمئن کرنا یہ کوئی آسان کام تھوڑی ہیں۔ ایسے میں آدھے ایمان کی فکر کون کرے؟

میری حکمرانوں سے التجا ہے کہ اللہ کا واسطہ اور کچھ نہیں تو عوام کو صاف ماحول ہی دے دیں۔ ذہنی پریشانی اور مہنگائی کا شکار لوگ جب باہر نکلیں تو کم از کم صاف ماحول میں ایک لمبا سانس لینے کو ہی دل چاہے۔ اندر صاف آکسیجن ہی چلی جائے۔ اتنا مشکل اور ناممکن تو نہیں عوام کی اس بےضرر خواہش کو پورا کرنا۔

Check Also

Pakistan Mein Koi Manmohan Singh Nahi Aayega

By Wusat Ullah Khan