Belagam Ghore
بے لگام گھوڑے

عمران خان نے ملک پاکستان کی عام عوام کے لیے کوئی پائیدار کام نا بھی کیا ہو۔ بس ایک کام ضرور کر دیا اور وہ کام ہے سوشل میڈیا کی طاقت کو مضبوط کر دیا۔ عمران خان نے اس طاقت سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اب بھی اٹھا رہے ہیں۔ بد زبانی، بد اخلاقی، فیک اکاؤنٹس، فیک تصاویر، فیک نیوز، پروپیگنڈا یہ سب ذلالتیں تحریک انصاف کی عطا کردہ ہیں۔ جنھوں نے پاکستانی معاشرے کے اخلاق کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ مگر سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اس ذلالت کو تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے اندر سمو لیا اور جیسے بعض اوقات نقل اصل سے زیادہ دلفریب لگتی یے۔ بالکل اسی طرح سیاسی جماعتوں نے اپنا راستہ چھوڑ کر تحریک انصاف کا راستہ اپنا لیا اور بھرپور طریقے سے اپنا لیا ہے۔ اب نقل اصل سے زیادہ خوش نما ہو چکی ہے۔
حالات یہ ہو گئے کہ پیارے ملک پاکستان میں جب بھی اشرافیہ یا صاحب اقتدار کے کسی ظلم یا زیادتی کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔ ان کے پیڈ کارکنان آپ کو پاگل، نفسیاتی مریض قرار دے دیتے ہیں۔ یہ پیڈ کارکنان عام عوام سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ مگر اپنے ایک پیسے کے لئے دوسروں کے لاکھوں برباد کرنے والے ہیں۔ یہ نقل کو اصل ثابت کرنے کے گھن چکر میں پھنس چکے ہیں۔
اس دوڑ میں کچھ سیاسی جماعتوں نے اپنی رفتار کم کر لی اور سنبھل گئے۔ وہ جان گئے کہ سوشل میڈیا کی طاقت پاکستان کی سیاست میں اتنی بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ مگر کچھ سیاسی جماعتیں جو تحریک انصاف سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
اور ان کے سوشل میڈیا سیل ہر وہ کام کر رہے ہیں، جو تحریک انصاف نے کیا تھا۔ گندی زبان، گالم گلوچ تنقید کرنے والے کو گھر تک پہنچا کر آنا، اپنی لیڈرز خواتین ہونے کے باوجود۔ دوسری خواتین کے ساتھ بد زبانی کرنا، ان کی کردار کشی کرنا اور پھر الزام تحریک انصاف پر لگا دینا۔۔ کیوں کہ تحریک انصاف بدنام ہو چکی۔ اب جو چاہے وہ کہے۔ کیا فرق پڑتا یے؟ خیال رہے تحریک انصاف کی اس بدنامی اور بربادی میں سو فیصد ہاتھ خود عمران خان کا یے۔
عمران خان کا تعلق اس برادری سے ہے جو کہتے ہیں میں نہیں۔۔ تو کوئی اور بھی کیوں؟ وہ خود کہتے تھے میری کون سا ملیں چل رہی ہیں جن کے بند ہونے کا خدشہ ہے،؟ انھیں اپنی عزت کی پرواہ کبھی نہیں رہی تھی۔
مگر دوسری سیاسی جماعت کو تو اپنی قیادت کی عزت کا احساس ہونا چاہیے۔ گھر کا ایک بچہ ایسا ضرور ہوتا ہے جو سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار رہتا ہے۔ کیا سیاسی جماعت کا وہ بچہ ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا ہے؟ دل میں اکثر خیال آتا ہے۔۔
اپنے اس تماشے میں سیاسی جماعتوں نے پاک فوج کو گھسیٹنا شروع کر دیا ہے۔ قربانی کے بکرے کو کھا پلا کر پیار سے بہلا پھسلا کر چھری تیز کی جا رہی ہے۔ بہت سنبھل کر طریقے سے پاک فوج کے اس بیانیے کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
سنیئر جہاندیدہ صحافی حضرات جو سامنے والے کے منہ سے اپنی پسند اور منشا کے الفاظ نکلوانے کے کام میں ماہر ہیں۔۔ ان سے کام لیا جا رہا ہے اور حیرانی ہے کہ کسی کو سمجھ کیوں نہیں آرہا ہے؟ زیادہ دور نا جائیں۔ ہم عام عوام نے اشفاق کیانی صاحب، راحیل شریف صاحب، قمر باجوہ صاحب کا تعریف سے تنقید کا سفر دیکھا ہے۔ ان کو نام لے کر حقارت سے پکارتے سنا اور پڑھا ہے اور یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نا ان پیڈ لوگوں کی تعریف اچھی اور نا ہی تنقید پر یقین ہے۔۔
سوشل میڈیا کے گندے پانی کا سیلاب سب کی عزت کیسے بہا لے جاتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔۔ باپ، انکلز، بھائی بہن بنتے دیکھے ہیں۔ بعد میں جلسوں میں انہی کے خلاف نعرے بھی سنے ہیں۔۔
آج ڈگڈگی پر ناچنے والے سوشل میڈیا سیل کے پیڈ کارکنان یاد رکھیں۔ قبر سب کی اپنی اور حساب بھی اپنا اپنا۔۔ ویسے بھی یہ پتلیاں ہے۔۔ نچانے والی انگلیاں بدلتی رہتی ہیں۔ مگر ان کا کھیل ختم نہیں ہوتا۔۔
گزارش ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اگر اپنا وجود اور سیاست قائم رکھنی ہے تو اپنے سوشل میڈیا سیل کے بے لگام گھوڑوں کو قابو میں کریں۔ نقاد کی زبان بندی سے رک جائیں۔۔ عوام تو بے بس ہے مگر خالق ومالک بے بس نہیں۔۔

