Bare Taya Abbu (2)
بڑے تایا ابو (2)

کچھ عرصہ قبل میں نے اپنی تحریر میں ہمارے معاشرے کے ایک بے حد دلچسپ کردار" بڑے تایا ابو"کی عادات و خصائل پر قلم اٹھانے کی جرات کی تھی۔ میں نے دریا کو کوزے میں بند کیا تھا کیوں کہ بڑے تایا ابو کی حرکات پر زیادہ روشنی ڈالنے سے عام عوام ڈر سی جاتی ہے کہ کہیں کوئی گستاخی نا ہو جائے اور عام عوام کو "نائٹ سوٹ" بھی بدلنے کا وقت نا ملے۔
سو ڈرتے، کانپتے، لرزتے، لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں۔ کیوں کہ ہم عام عوام کے پاس "تحریر اور آواز" کے علاؤہ ہے ہی کیا؟ بس اسی کا استعمال کرکے شور مچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور خواص کی سمع خراشی کا باعث بنتے ہیں۔
تو عرض کیا ہے کہ عام عوام دیکھ رہی ہے آج کل بڑے تایا ابو بڑے غصے میں رہتے ہیں۔ جو چھوٹے عقلمند بھائی ان کی فطرت سمجھ چکے ہیں۔ وہ انھیں طریقے سے ہینڈل کرکے اپنے مفادات پورے کر رہے ہیں اور ان کی انا کے بھی لاڈ اٹھا رہے ہیں۔ مگر کچھ بھائی ان کی چاپلوسی اور خوشامد سے اکتا چکے ہیں۔ سو بغاوت کا علم اٹھا کر جنگ کا طبل بجا چکے ہیں۔ یہ بات بڑے تایا ابو کو بے حد ناگوار گزری اور ان کی برداشت کے بند ٹوٹ گئے۔ انھوں نے نافرمان چھوٹے بھائی کو سزا دینے کا سوچا۔
بڑے تایا ابو ہمیشہ سے "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے نظریے کی تائید کرتے رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ وہ چھوٹے غریب بھائیوں کو اپنے مال و دولت میں سے مختصر حصہ امداد کی صورت میں دینے کے بھی عادی رہے ہیں۔ تا کہ ان کے "درباریوں" کی تعداد میں کمی نا ہو جائے۔ مگر پھر بھی بعض اوقات انھیں انتہائی اقدامات اٹھانے پڑ ہی جاتے ہیں۔
پھر وہ غصے میں حکم صادر کرتے ہیں اور تعمیل کی صورت میں "باغیوں" کو اٹھا کر ان کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے۔ بڑے تایا ابو کی اپنی عدالتیں، اپنے وکیل اور اپنے ہی جج ہیں۔ تو ظاہر ہے فیصلے بھی ان کی پسند سے آتے ہیں۔
بڑے تایا ابو چاہتے ہیں کہ وہ دادا ابو کی جگہ لے کر پوری دنیا پر حکم چلائیں۔ جو پیار، پیسے سے مانتا ہے اسے وہ عطا کر دیا جائے اور جو عزت و وقار کو مقدم رکھتا ہے اسے باغی قرار دے کر پہلے پابندیاں لگائی جائیں۔ پھر اس کا بائیکاٹ کیا جائے اور پھر بھی قابو میں نا آئے تو "اپنی عدالتیں " لگا کر سزا صادر کر دی جائے۔ اور ہر صورت اپنی اجارہ داری قائم کی جائے۔۔
عام عوام کو لگتا ہے یہ کردار رہتی دنیا تک ختم نہیں ہوگا۔ یہ کردار نبھانے والے دار فانی سے کوچ کر جائیں گے مگر کردار زندہ رہے گا اور کوئی نا کوئی اس کردار کو نبھانے کے لیے آتا رہے گا۔۔
میرے رب نے شیطان کو روز محشر تک کی چھوٹ دے رکھی ہے۔۔ مگر شر کو مٹانے کے لیے خیر بھی موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
عام عوام ہر لمحہ اپنے پیارے ملک کی سالمیت اور حفاظت کے لیے دعا کرتی ہے۔ کیوں کہ ہماری نسلوں نے انہی "شیطانی پھندوں" سے بچ کر پروان چڑھنا اور پھلنا پھولنا ہے۔۔

