Awam Ki Hard State
عوام کی ہارڈ اسٹیٹ

جب سے ہمارے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تب سے پاکستان کا ہر خواص اس کے اصل معنی کو تلاش کرنے کی تگ ودو میں مصروف ہے۔ خیال رہے صرف خواص۔ کیوں کہ عوام کے لیے زندگی اور سٹیٹ ہمیشہ ہارڈ ہی رہے ہیں اور بیچاری عوام سب کا مشترکہ، پسندیدہ سافٹ ٹارگٹ ہے اور رہے گی۔
خواص کی اس قدر پریشانی یا کہہ لیں "دھیان" سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس ریاست کے اصل بادشاہ کون ہیں؟ اور ان کے ایک ایک لفظ کی کیا اہمیت ہے؟
میں نے نے کہیں پڑھا تھا کہ انسان کی مسکراہٹ، نظر اور الفاظ بے حد قیمتی ہوتے پیں۔ ان کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ ایک مسکراہٹ، ایک نظر چند الفاظ دوسرے کو "قابل " نا ہونے کے باوجود اہم بنا دیتے ہیں۔
میرے خیال میں اشرافیہ، صاحب اقتدار اور خواص کے مسکراہٹ، نظر اور الفاظ قیمتی اور اہم ہوتے ہیں۔ عام عوام کی ہر شے بے وقعت اور سستی ہوتی ہے۔
زرا اندازہ کریں۔ ایک لفظ ہارڈ اسٹیٹ کی اہمیت کیا ہے؟ کہ پہلے جید تجزیہ نگار اس لفظ کے معنی پر غور کرتے رہے۔ پھر میڈیا پر آکر اس لفظ پر کیے گئے مباحثے کا حصہ بنتے رہے۔ صحافی حضرات، قانون کے اجارہ دار، سیاست دان، غرض ہر کوئی اس سوچ میں مبتلا نظر آرہا ہے کہ ہارڈ اسٹیٹ میں کیا کچھ"ہارڈ" ہوگا؟
کچھ لوگ اپنی پسند یا پیڈ پسند کا تجزیہ دے کر بتانا یا کہیں سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ "ہارڈ اسٹیٹ" کا لفظ اصل میں" کس" لیے استعمال ہوا تھا؟
ہارڈ اسٹیٹ میں قانون کو عمل درآمد کروانا مقصود ہے۔ یا معاشی طور پر مضبوط بنانا ہے؟
پاکستان کے ہر ادارے میں سے کرپشن کو نکال باہر کرنا ہے، یا حفاظت کے حصاروں کو مزید ہارڈ کرنا ہے؟
قانون کا ڈنڈا صرف بے بس عوام پر چلنا ہے یا بلا امتیاز ہر کاروائی ہونی ہے؟
ان باتوں کی وضاحت نا بھی ہو تو عام عوام کی زندگیوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ فرق جن افراد کو پڑنا ہے، وہ ہی پریشان ہیں اور بولنے والے کو بتا رہے ہیں کہ جناب آپ نے ہارڈ اسٹیٹ کا لفظ "اس" مقصد کے لیے استعمال کیا تھا نا؟
ہماری تو صرف یہ دعا اور آرزو ہے۔ کہ پاکستان تا قیامت سلامت رہے۔ کیوں کہ ہماری نسلوں نے یہیں پروان چڑھنا ہے۔ ہم نے علاج بھی یہیں کروانا ہے اور سیاحت بھی اسی ملک میں کرنی ہے۔
ہمارے بچے تعلیم بھی یہاں حاصل کریں گے اور روزگار بھی یہیں ملے گا انشاء اللہ۔ تو پاکستان کو اس کے دشمنوں کے لیے" ہارڈ " اور عوام کے لیے "سافٹ " ہونا چاہیے۔