Thursday, 03 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Safdar Hussain Jafri
  4. Masail e Mushkila Ka Hal Aur Hazrat Ali Ki Hazir Jawabi

Masail e Mushkila Ka Hal Aur Hazrat Ali Ki Hazir Jawabi

مسائلِ مشکلہ کا حل اور حضرت علیؑ کی حاضر جوابی

اس کارگاہِ عالم میں پیغمبر اکرمﷺ کے علاوہ اتنی وسیع النظر اور جامع علوم شخصیت کہیں نظر نہیں آتی جس کی فکری و نظری تجلیوں اور علمی و تحقیقی کرنوں سے ہر دبستانِ فکرو جہانِ دانش نے روشنی حاصل کی ہو۔ نظر و فکر کی کتنی راہیں تھیں جو آپ کی بدولت کھلیں اور علم و تحقیق کے کتنے مخفی گوشے تھے جو آپ نے بے نقاب کیے۔ آج دنیا میں جہاں جہاں علم و حکمت کی شمعیں روشن اور فکر و دانش کے چراغ فروزاں نظر آتے ہیں وہ اسی قندیلِ درخشاں کی تابندگیوں کا کرشمہ اور اسی مشعلِ ضوفشاں کی درخشندگیوں کا پر تو ہے۔

تاریخ شاہد ہے کہ عوام سے لے کر مسند نشینانِ خلافت تک آپ کے چشمہِ علم سے سیرابی کے محتاج رہے اور انہیں جب بھی کسی مشکل مسئلہ میں الجھن ہوتی تو آپ کے در پر دستک دیتے اور آپ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اس الجھن کو دور کر دیتے۔ آپ کے اس علمی استغنا پر نظر کرتے ہوئے خلیل ابنِ احمد فراہیدی نے کتنا حقیقت کو لیے ہوئے یہ جملہ کہا ہے:

"آپ کا دوسروں سے بے نیاز ہونا اور تمام لوگوں کا اپنی احتیاج کو ان سے وابستہ کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ امامِ کُل ہیں"۔

صحابہ کبار نہ صرف آپ کی علمی برتری کے معترف تھے بلکہ پیش آئند مسائل میں انہی کی طرف رجوع کرتے اور آپ پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلوں کو بڑی آسانی سے حل کر دیتے تھے۔

حضرت عمر کو بھی کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہوتا تو آپ سے رہنمائی حاصل کرتے اور اگر کوئی حکم دے چکے ہوتے اور حضرت علیؑ اس کے خلاف حکم دیتے تو اپنے فیصلے میں تبدیلی کرکے اعلانیہ کہتے: لولا علی لھلک عمر (ریاض النضرہ ج 2 ص256) اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہو چکا ہوتا۔

امیرالمومنینؑ مشکل سے مشکل مسائل اور پیچیدہ سے پیچیدہ نزاعات کے حل کرنے میں حیرت انگیز دستگاہ رکھتے تھے اور جن مسائل کا حل تلاش کرنے میں اہلِ نظر کی فکری قوتیں اور ذہنی کاوشیں بیکار ہوجاتی تھیں آپ کا ذہنِ رسا انہیں فوراً حل کر دیتا تھا۔ اگرچہ علما و فقہاء نے مسائلِ مشکلہ کے عنوان سے بہت سی پیچیدہ گتھیوں کو سلجھایا ہے مگر اس منزل کے پہلے راہ پیما آپ ہیں اور آپ ہی کے افکار و نظریات کی روشنی نے اس منزل کی طرف رہنمائی کی ہے۔

ذیل میں اس سلسلہ کے چند قضایا و مسائل اور سوال درج کیے جاتے ہیں جن میں آپ کے علمِ لدنّی کا جلوہ نظر آتا ہے اور آپکی عالمانہ فراست جھلکتی ہے۔

ایک شخص نے حضرت ابوبکر سے پوچھا کہ وہ شخص کون ہو سکتا ہے جس نے صبح کے وقت ایک عورت سے عقد کیا شام کو اس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس کے بعد وہ شخص مر گیا اور بیوی اور یہ نومولود بچہ اس کے وارث قرار پائے۔ حضرت ابوبکر کوئی جواب نہ دے سکے۔ امیرالمومنین نے سنا تو فرمایا کہ وہ عورت اپنے آقا کی حاملہ کنیز تھی۔ آقا نے اسے آزاد کر دیا اور پھر اس سے نکاح کر لیا۔ صبح کو عقد ہوا اور شام کو ولادت ہوئی اور اس کے مرنے کے بعد یہی دونوں اس کے وارث ہوں گے۔

ایک شخص نے اپنے غلام کو حضرت کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ یہ میرا غلام ہے اور اس نے مجھ سے اجازت حاصل کیے بغیر عقد کر لیا ہے، فرمایا کہ تم اسے اس عورت سے الگ کر دو۔ اس نے غلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم اس عورت کو طلاق دے دو۔ حضرت نے یہ سنا تو فرمایا کہ تم نے طلاق کا حکم دے کر اپنی رضا مندی کا اظہار اور نکاح کے جواز کا اقرار کیا ہے لہذا اب اسے اختیار ہے چاہے طلاق دے یا نہ دے۔

حضرت کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے یہ قسم کھائی تھی کہ اگر وہ رمضان کے مہینے میں اپنی بیوی سے ہمبستری نہ کرے تو اسکی بیوی کو تین طلاقیں ہو جائیں گی۔ حضرت نے فرمایا کہ وہ اسے لے کر سفر پر روانہ ہو جائے اور پھر دن کے وقت ہمبستری کرے۔ امیرالمومنین نے یہ ان لوگوں کے چھٹکارے کی ایک صورت تجویز کی ہے جو قسم کے ذریعے طلاق کو صحیح سمجھتے ہیں۔

ایک شخص نے حاضرِ خدمت ہو کر کہا کہ میرے سامنے چند خرمے رکھے ہوئے تھے۔ میری بیوی نے ایک خرمہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا، میں نے قسم کھائی کہ وہ نہ اسے پھینکے اور نہ نگلے فرمایا وہ آدھا کھا لے اور آدھا پھینک دے تم قسم سے بری الذّمہ ہو جاؤ گے۔

ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ وہ کون سی عبادت ہے کہ اگر بجا لائی جائے تو عقوبت اور اگر ترک کی جائے تو عقوبت؟ فرمایا کہ وہ نماز ہے جو نشہ کی حالت میں پڑھی جائے کیونکہ نشہ میں نہ نماز درست ہے نہ تکلیف ساقط۔

یہودیوں کی ایک جماعت نے چند سوالات کے ضمن میں پوچھا کہ وہ کون تھا جس نے اپنی قوم کو ڈرایا اور وہ نہ انسانوں میں سے تھا اور نہ جنوں سے۔ فرمایا وہ چیونٹی تھی جس نے حضرت سلیمان کے لشکر کو دیکھ کر کہا: "اے چیونٹیو! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل ڈالے انہیں خبر بھی نہ ہونے پائے"۔ (القرآن: سورہ نمل)

پوچھا وہ کون سی جگہ تھی جس پر ایک ہی مرتبہ سورج چمکا اور پھر اس جگہ پر سورج کی شعاعیں نہیں پڑیں؟ فرمایا وہ دریائے نیل کی نچلی سطح ہے جس پر سے بنی اسرائیل گزرے اور فرعون اور اس کا لشکر موجوں کی لپیٹ میں آیا۔

پوچھا مخلوقات میں وہ کون کون سے جاندار ہیں جو ماں کے شکم سے پیدا نہیں ہوئے؟

فرمایا وہ آدم، جنابِ حوّا، حضرت موسیٰ کا اژدہا، حضرت صالح کی اونٹنی، حضرت ابراہیم کے ہاتھ سے ذبح ہونے والا مینڈھا اور وہ پرندہ جس کا ڈھانچہ حضرت عیسیٰ نے بنایا اور وہ اللہ کے حکم سے پرواز کرنے لگا۔

ایک شخص نے خطبہ کے دوران پوچھا کہ وہ کون سا جاندار ہے جو دوسرے جاندار کے شکم سے نکلا مگر ان دونوں میں کوئی قرابت نہ تھی؟

فرمایا وہ یونس ابنِ متی تھے جو مچھلی کے پیٹ سے نکلے۔

پوچھا گیا کہ وہ کون سا درخت تھا جسے پانی سے سیراب نہیں کیا گیا؟ فرمایا کہ وہ درخت جو حضرت یونس پر سایہ ڈالنے کے لیے اگا۔ قرآن مجید میں ہے: "ہم نے ان کے سر پر (سایہ کے لیے)کدو کا درخت اگایا"۔

پوچھا گیا وہ کون ذی روح ہے جو جماد سے پیدا ہوا؟ فرمایا وہ ناقہِ صالح ہے۔

ایک شخص نے پوچھا وہ کون ہے جو زندہ ہے تو پانی پیتا ہے (پانی سے سیراب ہوتا رہا) اور مرنے کے بعد کھاتا ہے؟

فرمایا وہ عصائے موسیٰ تھا۔ جب تک وہ درخت کا جزو رہا پانی سے سیراب ہوتا رہا اور جب شاخ سے الگ ہو کر مردہ ہوگیا تو جادوگروں کی رسیوں اور چھڑیوں کو نگل گیا۔

پوچھا کہ دو گھٹنے بڑھنے والی چیزیں کون سی ہیں جن کا گھٹاؤ بڑھاؤ نظر نہیں آتا؟

فرمایا کہ وہ شب و روز ہیں جو گھٹتے بڑھتے رہتے ہیں۔ پوچھا کہ وہ کون سا پانی تھا جو نہ زمین سے پھوٹا اور نہ آسمان سے برسا؟

فرمایا وہ پسینہ تھا جو حضرت سلیمان نے گھوڑوں کو دوڑا کر حاصل کیا تھا اور ملکہِ سبا بلقیس کے پاس بھیجا تھا۔

پوچھا کہ وہ کون سی چیز ہے جو بے جان ہونے کے باوجود سانس لیتی ہے؟ فرمایا وہ صبح ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: "و الصبحِ اذا تنفس" صبح کی قسم جب وہ سانس لے (روشن ہو جائے)۔

پوچھا کہ وہ کون سی قبر ہے جو صاحبِ قبر کے ساتھ گھومتی پھرتی رہی؟ فرمایا وہ مچھلی ہے جس کے شکم میں حضرت یونس رہے۔

پوچا گیا وہ کون ہے جس کا شمار نہ انسانوں میں ہوتا ہے اور نہ جنوں میں اور اس پر وحی نازل ہوئی؟ فرمایا وہ شہد کی مکھی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: "تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی"۔

پوچھا گیا کہ وہ مبعوث ہونے والا کون ہے جو نہ جن و انس میں سے اور نہ ملائکہ و شیاطین میں سے ہے؟

فرمایا وہ کوّا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: "فبعثَ اللہ غرابا: خدا نےایک کوّے کو بھیجا"۔

پوچھا گیا کہ وہ رسول کون ہے جو نہ انسانوں اور جنوں میں سے ہے اور نہ فرشتوں اور شیطانوں میں سے؟

فرمایا وہ ہد ہد ہے جسے حضرت سلیمان نے کہا: "اذھب بکتابی فھٰذا القہ الیھم۔ ہمارا یہ خط لے کر جا اور اان لوگوں کے آگے ڈال دے"۔

کعب احبار نے پوچھا کہ وہ کون ہے جس کا کوئی باپ نہیں اور وہ کون ہے جس کا کوئی قوم و قبیلہ نہیں اور وہ کون ہے جس کا کوئی قبلہ نہیں؟ فرمایا جس کا کوئی باپ نہیں وہ حضرت عیسیٰ ہیں اور جس کا کوئی قبیلہ نہیں وہ حضرت آدم ہیں اور جس کا کوئی قبلہ نہیں وہ خانہ کعبہ ہے۔

ایک شخص نے پوچھا وہ دو بھائی کون تھے جو ایک دن پیدا ہوئے اور ایک دن مرے۔ ان میں سے ایک کی عمر پچاس برس تھی اور دوسرے کی عمر ڈیڑھ سو برس تھی؟ فرمایا وہ دو بھائی عزیر اور عزرہ تھے۔ اللہ نے عزیر کو سو سال مردہ رکھا اور پھر اسے جلایا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: "فا ماتہ اللہ مائۃ عام ثمَّ بعثہ۔ (سورۃ البقرہ) خدا نے اسے موت دی اور سو برس تک مردہ رکھا۔ پھر اسے زندہ اٹھایا"۔

ابو سعید خدری نے پیغمبرِ اکرمﷺ کی یہ حدیث بیان: "ایک صدی کے بعد روئے زمین پر ایک بھی زندہ باقی نہیں رہے گا"۔

لوگ اس حدیث کو سن کر پریشان ہو گئے۔ حضرت سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ابو سعید نے صحیح بیان کیا ہے، مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ سو برس کے بعد زمین آدمیوں سے خالی ہو جائے گی۔ بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے پیغمبرِ اکرمﷺ کو دیکھا ہے، ایک صدی کے بعد ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہے گا۔

ایک شخص نے آپ سے کہا آپ کی تلوار کتنی چھوٹی ہے۔

حضرت نے اسے یہ جواب دے کر خاموش کر دیا کہ: میں قدم آگے بڑھا کے اسے طویل کر لیتا ہوں۔

ایک شخص نے جو بظاہر دوست اور بباطن آپ سے عناد رکھتا تھا آپ کی بڑھ چڑھ کر مدح اور توصیف کی تو فرمایا: "جو تمہاری زبان پر ہے میں اس سے کم ہوں اور جو کچھ تمہارے دل میں ہے اس سے زیادہ ہوں"۔

ایک مرتبہ آپ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے درمیان چل رہے تھے ان دونوں کا قد حضرت کے قد سے نکلتا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے آپ کے قد پر طنز کرتے ہوئے کہا: یا علی انتَ فینا بمنزلۃِ النون فی لنا۔ "اے علی آپ ہمارے درمیان اس طرح ہیں جیسے، لنا، میں، نون"۔

حضرت علی نے فوراً جواب دیا: " لولا اَنا بینکما لکنتما لا۔ اگر میں تم دونوں کے درمیان نہ ہوتا تو تم، لا، ہوتے۔

مطلب یہ کہ جس طرح، لنا، میں سے، نون، نکال دیا جائے تو باقی، لا، رہ جاتا ہے، اسی طرح میں الگ ہو جاؤں تو تم، لا شئی، ہو کر رہ جاؤ گے۔

ایک مرتبہ پیغمبرِ اکرم ﷺ حضرت علی اور چند صحابہ کھجوریں کھا رہے تھے۔ آنحضرتﷺ کھجوریں کھاتے اور گٹھلیاں حضرت علی کے سامنے رکھ دیتے۔ آپﷺ کی دیکھا دیکھی صحابہ نے بھی گٹھلیاں آپ کے آگے ڈھیر کرنا شروع کر دیں۔ جب فارغ ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ کھجوریں کس نے کھائی ہیں۔ صحابہ نے کہا: جس کے آگے گٹھلیاں زیادہ ہیں اسی نے کھجوریں کھائی ہیں۔

حضرت علی نے کہا: ایسا نہیں بلکہ جس نے کھجوروں سمیت گٹھلیاں کھائیں وہ زیادہ کھانے والا ہے۔

Check Also

Qaumi Ezazat

By Zulfiqar Ahmed Cheema