Saturday, 05 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Safdar Hussain Jafri
  4. Masail e Mushkila Ka Hal Aur Hazrat Ali Ki Hazir Jawabi (2)

Masail e Mushkila Ka Hal Aur Hazrat Ali Ki Hazir Jawabi (2)

مسائلِ مشکلہ کا حل اور حضرت علیؑ کی حاضر جوابی (2)

مولا سے پوچھا گیا وہ کیا چیز ہے جو گھٹتی اور بڑھتی رہتی ہے؟ آپ نے فرمایا وہ قمر ہے۔ پھر پوچھا گیا وہ کیا چیز ہے جس میں نہ کمی ہوتی ہے نہ زیادتی؟ فرمایا وہ سمندر ہے۔ پھر پوچھا گیا وہ کیا چیز ہے جو گھٹتی ہے مگر بڑھتی نہیں؟ آپ نے فرمایا زندگی۔

ایک شامی شخص نے مولائے کائنات علی ابنِ ابی طالب سے سوال پوچھا:

وہ کون سے انبیا ہیں جن کی زبان عربی تھی؟

وہ کون سے انبیا ہیں جن کے دو نام ہیں؟

سب سے پہلے شعر کس نے کہا؟

حضرت نوح کی کشتی کیسی تھی؟

مولا علیؑ نے فرمایا: پانچ انبیا کی زبان عربی تھی۔ یعنی حضرت ہودؑ، حضرت صالحؑ، حضرت شعیبؑ، حضرت اسماعیلؑ اور نبیِ آخرالزمان سیّدُالانبیا حضرت محمّد ﷺ۔ وہ پانچ پیغمبر ہیں جن کے دو دو نام تھے: یعنی پہلے حضرت یعقوبؑ جن کا دوسرا نام اسرائیلؑ تھا۔ دوسرے حضرت خضرؑ جن کا دوسرا نام قالسیا تھا۔ تیسرے حضرت یونسؑ جن کا نام ذوالنون تھا۔ چوتھے حضرت عیسیٰؑ جن کا دوسرا نام مسیح تھا۔ پانچویں سیّد المرسلین حضرت محمّد ﷺ آپﷺ کا دوسرا نام احمد تھا۔

پہلے شعر کہنے والے حضرت آدمؑ تھے جنہوں نے ہابیل کی وفات پراشعار کہے تھے۔

پھر جنابِ امیرالمومنین نے اس شامی کے چوتھے سوال کا جواب دیا، فرمایا: کشتیِ نوح کی لمبائی آٹھ سو ہاتھ اور چوڑائی پانچ سو ہاتھ تھی اور بلندی اسّی ہاتھ تھی۔

شامی نے سوال کیا: حضرت نوحؑ کا نام کیا تھا؟

حضرت نے فرمایا: حضرت نوحؑ کا نام عبد الغفّار تھا۔

قریش کی ایک عورت کے پاس دو افراد آئے اور 100 دینار "سونے کا سکّہ" (ایک دینار حضرت عمر کے دور میں 10 درہم"چاندی کے سکّوں" کے برابر تھا) بطورِ امانت اسے دے کر کہنے لگے: اگر ہم دونوں میں سے کوئی ایک تنہا آئے اور تم سے دیناروں کا مطالبہ کرے تو اسے نہ دینا۔ لیکن اگر ہم دونوں ایک ساتھ آئیں تو پھر واپس کر دینا۔

ایک سال بعد ایک آدمی آیا اور دیناروں کا مطالبہ کرنے لگا اور اس نے بتایا کہ اس کے ساتھی کا انتقال ہوگیا ہے۔ عورت دینار دینے سے انکار کر رہی تھی لیکن عورت کے رشتہ داروں نے اس پر زور دیا تو مجبوراً اس نے دینار واپس کر دیے۔ ایک سال بعد دوسرا مرد آیا اور اس نے دیناروں کا مطالبہ کر دیا۔

عورت نے کہا کہ تمہارا دوست آیا تھا اس نے کہا کہ تم دنیا سے چلے گئے ہولہٰذا اس نے مجھ سے دینار لیےاور چلا گیا۔

اب دونوں اس معمّے کو نمٹانے کے لیے حضرت عمر کے پاس آئے اور اپنا ماجرا بیان کیا۔ حضرت عمر نے مرد کو حق بجانب جانتے ہوئے عورت کو کہا کہ 100 دینار ادا کرے۔ لیکن عورت نے انہیں قسم دی کہ حق کے ساتھ فیصلہ کیجیے اور میری مشکل کا حل مولا علی سےکرا دیجیے، حضرت عمر نے عورت کی یہ درخواست قبول کر لی۔

حضرت علی نے دونوں کی گفتگو سنی اور سمجھ گئے کہ دونوں آدمیوں نے چال چلی ہے لہٰذا مدّعی سے فرمایا: کیا تم نے نہیں کہا تھا کہ جب تک ہم دونوں نہ آئیں، ہم میں سے کوئی ایک تنہا آئے تو دینار نہ دینا؟ اس آدمی نے کہا: جی ہاں! ایسا ہی ہے۔

حضرت علی نے فرمایا: تمہارے دینار اب میرے پاس ہیں تم جاؤ اور اپنے دوسرے ساتھی کو بھی لے آؤ تاکہ تمہارے دینار تمہیں واپس دیے جائیں۔ (وہ آدمی گیا پھر واپس پلٹ کے نہ آیا)

جب حضرت عمر نے یہ فیصلہ سنا تو کہا: پروردگار مجھے علی ابنِ ابی طالب کے بعد زندہ نہ رکھے!

ایک غیر مسلم ریاضی دان جنابِ امیرالمومنینؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھے وہ عدد بتائیے جو دو سے بھی تقسیم ہوسکے، تین سے بھی چار سے بھی، پانچ سے بھی چھے سے بھی، سات سے بھی آٹھ سے بھی، نو سے بھی اور دس سے بھی برابر تقسیم ہو سکے اور پھر کوئی کسر باقی نہ بچے۔

امیرالمومنین نے جواب دیا سال میں جتنے مہینے ہوتے ہیں انہیں ہفتہ کے دنوں پر ضرب دواس طرح جو عدد آئے اسے مہینے کے دنوں سے ضرب دینے سے وہ مطلوبہ عدد آجائے گا جو 2 سے لے کر 10 تک ہر ہندسہ سے برابر تقسیم ہو جائے گا یعنی سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں اور ایک ہفتہ میں 7 دن ہوتے ہیں دونوں کو آپس میں ضرب دینے سے 84 آتا ہے: 12Ꭓ7=84

اب 84 کو مہینہ کے دنوں یعنی 30 سے ضرب دی جائے تو2520 آتا ہے: 84Ꭓ30=2520

2520 ایک ایسا عدد ہے جو 2 سے لے کر 10 تک برابر تقسیم ہوجاتا ہے۔ حل کرکے دیکھ لیجیے۔

امیرالمومنین کے اس جواب کو سن کے وہ شخص مطمئن ہوگیا اور اسلام قبول کر لیا۔

مولا علیؑ کے عہد میں ایک شخص کی دو کنیزیں تھیں دونوں کے یہاں ولادت ہوئی۔ ایک کے یہاں لڑکی اور دوسری کے یہاں لڑکا پیدا ہوا۔ جس کنیز کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تھی اس نے موقع دیکھ کر اپنی لڑکی کو دوسری کنیز کے لڑکے سے بدل دیا۔ دونوں کنیزیں لڑکے کی دعویدار تھیں۔ مقدمہ امیرالمومنینؑ کی خدمت میں پہنچا۔ مولا نے حکم دیا دونوں کے دودھ کا وزن کیا جائے جس کا دودھ بھاری ہوگا لڑکا اسی کا ہوگا۔

حضرت عمر کے دور میں ایک عورت ایک انصاری جوان پر فریفتہ ہوگئی تو اس نے جوان کو خلافِ عفّت کام پر اکسایا لیکن وہ جوان راضی نہ ہوا اور کسی طرح عورت کے جال میں نہ پھنسا۔

لہٰذا عورت نے ایک حیلہ اپنایا اور وہ یہ کہ انڈا توڑ کر اس کی زردی پھینک دی اور اس کی سفیدی اپنی رانوں اور کپڑوں پر ڈال کر فریاد کرتی ہوئی حضرت عمر کے سامنے پیش ہوئی اور کہنے لگی: اس جوان نے زبردستی مجھ پر تجاوز کیا، مجھے میرے خاندان میں رسوا کر دیا اور یہ اس کی اس قبیح حرکت کا ثبوت ہے۔ حضرت عمر نے عورتوں کو بلا کراس عورت کے دعویٰ کے بارے میں دریافت کیا تو عورتوں نے گواہی دے دی کہ اس عورت کے بدن پر آبِ پشت کے آثآر موجود ہیں۔

حضرت عمر نے اس تہمت کے ثابت ہونے کے بعد اس جوان پر حدِّ زنا جاری کرنا چاہی تو وہ شخص فریاد کرنے لگا: خدارا میرے بارے میں تحقیق کر لو! خدا کی قسم! میں خلافِ عفّت کام کرنے کا مرتکب نہیں ہوا ہوں بلکہ یہ عورت خود مجھے فریب دینا چاہتی تھی لیکن میں نے دھوکہ نہ کھایا۔

حضرت عمر نے امیرالمومنین سے کہا: اے ابوالحسنؑ! آپ کی کیا رائے ہے؟

امیرالمومنینن نے اس کے کپڑے دیکھے اور فرمایا: گرم گرم پانی لاؤ، حضرت نے گرم گرم پانی کپڑوں پر ڈالا تو وہ سفیدی (انڈے کی) فوراً جمع ہوگئی۔ امامؑ نے اسے اٹھا کر بتایا کہ دیکھو اس میں سےانڈے کی سفیدی کی بوُ آرہی ہے۔ پھر مولا علی نے اس عورت سے سختی سے فرمایا تو اس نے بھی اپنی مکاری کا اعتراف کر لیا، لہٰذا اس طرح اس پاکیزہ کردار جوان کی آبرو اللہ جلّ شانہ نے محفوظ رکھی۔

اسلام کے مسلّمہ عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ کافر کو مرنے کے بعد عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ حضرت عثمان کے دورِ حکومت میں ایک شخص اسلام کے اس اہم عقیدہ پر اعتراض کرتے ہوئے کسی کافر کی کھوپڑی قبر سے برآمد کرکے حضرت عثمان کے پاس لایا اور کہنے لگا: اگر کافر مرنے کے بعد آگ میں جلتا ہے تواس کھوپڑی کو گرم ہونا چاہیے، لیکن دیکھو یہ میرے ہاتھ میں ہے لیکن بلکل بھی گرم نہیں ہے!

خلیفہ کچھ جواب نہ دے سکے لہٰذا انہوں نے امیرالمومنین سے رجوع کیا۔ حضرت نے اپنی عالمانہ فراست سے اس کا اتنا پیارا جواب دیا کہ جس سے معترض بھی لاجواب ہوگیا۔

حضرت نے فرمایا: لوہا اور چقماق کے پتھر لاؤ۔ اس کے بعد آپ نے دونوں کو باہم ضرب لگائی تو اس میں سے آگ کی چنگاری نکلنا شروع ہوگئی۔

پھر آپ نے فرمایا: دیکھو ہم لوہے اور پتھر کو چھوتے ہیں لیکن حرارت کو محسوس نہیں کرتے جبکہ دونوں میں حرارت بھری ہوئی ہے جس کا خاص شرائط کے ساتھ احساس کیا جاتا ہے۔ بس کیا قباحت ہے کہ قبر میں کافر کا عذآب بھی ایسا ہی ہو!

کافر مولا علی کا یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا اور حضرت عثمان بے اختیار پکار اٹھے: "لولا علیُ لھلکَ عثمان" اگر علی نہ ہوتے تو عثمان ہلاک ہوجاتا!

(فروغ، ولایت از جعفر سبحانی)

معمر ابنِ عبداللہ کا کہنا ہے کہ ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے قبیلہ "جھینہ" کی ایک عورت سے شادی کی، ٹھیک شادی کے چھ ماہ بعد ولادت ہوگئی۔ شوہر حضرت عثمان کے پاس گیا اور اس نے بیوی کی شکایت کر دی۔

حضرت عثمان نے اس کی بیوی کو حآضر کرنے کا حکم دیا۔ جب وہ عورت کپڑے بدل کے گھر سے نکلنا چاہتی تھی تو دیکھا کہ اس کی بہن اسے دیکھ کر رو رہی ہے۔ اس نے بہن سے مخاطب ہو کرکہا: تم کیوں رورہی ہو؟ خدا کی قسم میرے شوہر کے علاوہ کسی نے بھی مجھےہاتھ نہیں لگایا جو خدا چاہے گا وہی کرےگا۔

جب عورت نے حضرت عثمان کے سامنے حآضری دی تو انہوں نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔

یہ خبر امیرالمومنین کو ملی تو فوراً حضرت عثمان کے پاس آئے اور فرمایا: یہ کیا کر رہے ہو؟

کہنے لگے: شادی کے چھ ماہ بعد اس عورت کے ولادت ہوگئی ہےکیا ایسا ممکن ہے؟

حضرت نے فرمایا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ کہا: کیوں نہیں۔

فرمایا: کیا تم نے نہیں سناکہ خداوند فرماتا ہے: "و حمَلُہ و فصالُہ ثٰلٰثونَ شھراً" حمل و شیر خوارگی کی مدت تیس ماہ ہے۔

اور دودھ پلائی کے بارے میں فرماتا ہے: "حَولینَ کاملین" پورے دو سال دودھ پلاؤ۔

پس اس بنا پر 30 ماہ میں سے باقی چھ ماہ کم از کم مدّتِ حمل ہے۔

حضرت عثمان نے فرمایا: واقعی اس بات کی طرف میں متوجہ نہ تھا۔

پھر عورت کو واپس لوٹانے کا حکم دیا۔ راوی کا بیان ہے کہ اتُفاقاً جب وہ بچہ بڑا ہواتو بلکل اپنے باپ کی شبیہ تھا اور اس کے باپ نے اس کی فرزندی کو قبول کر لیا تھا (احقاق الحق جلد8ص241)۔

Check Also

Khamoshi Akhir Kab Tak?

By Qadir Khan Yousafzai