Monday, 05 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Safdar Hussain Jafri
  4. Janab e Fatima Bint e Asad Aur Maulood e Kaaba

Janab e Fatima Bint e Asad Aur Maulood e Kaaba

جنابِ فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہِ علیھا اور مولودِ کعبہؑ

جنابِ فاطمہ بنتِ اسد حضرت علیؑ کی والدہ گرامی تھیں۔ جنابِ اسدؑ، قیلہ بنتِ عامر کے بطن سے حضرت ہاشمؑ کے فرزند تھے۔ اس لحاظ سے آپ ہاشمؑ کی پوتی اور رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی اور حرمِ حضرتِ ابوطالبؑ ہونے کی بنا پر چچی ہوئیں۔ جب آنحضرتﷺ جنابِ ابوطالبؑ کی کفالت میں آئے تو انہی کی گود پیغمبر ایسے ہادیِ اکبر اور رہنمائے اعظم کی گہوارہِ تربیت بنی اور انہی کی آغوشِ محبّت و شفقت میں پرورش پائی۔ اگر حضرت ابوطالبؑ نے تربیت و نگہداشت میں باپ کے فرائض انجام دیے تو فاطمہ بنتِ اسدؑ نے اسی طرح محبّت و دلسوزی سے دیکھ بھال کی کہ یتیمِ عبداللہ ﷺ کو ماں کی کمی کا احساس نہ ہونے دیا۔

آپ اپنے بچوں سے زیادہ حضورﷺ کا خیال رکھتیں اور ان کے مقابلہ میں اپنی اولاد تک کی پرواہ نہ کرتیں۔ ان کی محبّت و التفات کا یہ عالم تھا کہ جب خرما کے درختوں میں پھل آتا تو صبح تڑکے اٹھ کر خرموں کے پکے ہوئے اور صاف دانے چن کر حضور ﷺ کے لیے علیحدہ رکھ دیتیں اور صبح سرکار ﷺ کی خدمت میں پیش کرتیں اور جب دستر خوان بچھتا تو اس پر سے کچھ کھانا الگ کرکے رکھ دیتیں کہ اگر کسی وقت وہ (حضور ﷺ)کھانا مانگیں تو انہیں دے سکیں۔

پیغمبرِ اکرم بھی انہیں ماں سمجھتے، ماں کہ کر پکارتے اور ماں ہی کی طرح عزت و احترام کرتے تھے، چنانچہ ان کی شفقت و محبّت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: "ابو طالبؑ کے بعد اُن سے زیادہ کوئی مجھ پر شفیق و مہربان نہیں تھا"۔ (الالستیعاب ج 2)

آنحضرت ﷺ اُن کی مادرانہ شفقت و نظرِ محبّت سے اتنا متاثر تھے کہ منصبِ رسالت پر فائز ہونے کے بعد اپنے فرائضِ منصبی سے وقت نکالتے، اُن کے ہاں آتے اور اکثر دوپہر کے اوقات انہی کے ہاں گزارتے۔ ابنِ سعد نے لکھا ہے: "رسول اللہ ﷺ آپ کی زیارت کو آتے اور دوپہر کو انہی کے ہاں استراحت فرماتے"۔ (طبقات، ج8)

آپ کے بطن سے ابوطالبؑ کی سات اولادیں ہوئیں جن میں تین صاحبزادیاں تھیں: ریطہ، جمانہ اور فاختہ جو اُمِّ ہانی کی کنیت سے معروف ہیں اور چار صاحبزادے تھے: طالب، عقیل، جعفرؑ اور علیؑ۔ طالب عقیل سے دس سال بڑے تھے اور عقیل جعفر سے دس سال بڑے تھے اور جعفرؑ حضرت علی سے دس سال بڑے تھے۔ جنابِ ابوطالبؑ ہاشمی تھے اور جنابِ فاطمہ بنتِ اسدؑ بھی ہاشمیہ تھیں اور مادری پدری دونوں نسبتوں سے ہاشمی ہونے کا شرف سب سے پہلے ابو طالبؑ و فاطمہؑ ہی کی اولاد کو حاصل ہوا۔ ابنِ قتیبہ نے تحریر کیا ہے: "فاطمہ بنتِ اسد پہلی ہاشمیہ خاتون ہیں جن سے اولاد ہوئی"۔ (المعارف، صفحہ 88)

جنابِ فاطمہ بنتِ اسدؑ اسی دودمانِ ہاشمی کی فرد تھیں جو اخلاق و کردار، طرزِ بودو ماند اور تہذیب و معاشرت کے اعتبار سے دوسرے خاندانوں سے مختلف، جاہلیت کے اثرات سے بیگانہ اور انسانی اقدار کا نمائندہ تھا۔ آپ میں موروثی صفات و خاندانی خصوصیات پوری طرح راسخ تھیں۔ اپنے آباؤ اجداد کی طرح مسلکِ ابراہیمی کی پابند، دینِ حنیف کی پَیرو اور کفرو شرک کی آلائشوں سے پاک و صاف تھیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علیؑ سے صلبی و خلقی اشتراک کے سلسلہ میں فرمایا: "خدائے بزرگ و برتر نے ہمیں حضرت آدمؑ کی صُلب سے پاکیزہ شکموں کی طرف منتقل کیا۔ جس صُلب سے میں منتقل ہوا اُسی صلب سے ایک ساتھ علیؑ مُنتقل ہُوئے یہاں تک کہ خداوندِ عالم نے مجھے آمنہؑ کے شکمِ اقدس میں اور علیؑ کو فاطمہ بنتِ اسدؑ کے پاکیزہ شکم میں ودیعت فرمایا"۔

جنابِ فاطمہؑ خاندانی رفعت، نسبی شرافت اور پاکیزگی، سیرت کے ساتھ اسلام، بیعت اور ہجرت میں بھی سبقت کا شرف رکھتی ہیں۔ ابنِ صباغ مالکی نے تحریر کیا ہے: "فاطمہ بنتِ اسد اسلام لائیں، پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہجرت کی اور سابق الاسلام خواتین میں سے تھیں"۔ (فصول المہمہ، ص13)

ابوالفرج اصفہانی تحریر کرتے ہیں: "زبیر ابنِ عوام کہتے ہیں کہ جب آیہ: یا ایھا لنبی اذا جَاءک المومنات۔ نازل ہوا تو میں نے پیغمبرِ اکرم ﷺ کو عورتوں کو بیعت کی دعوت دیتے ہوئے سُنا اور فاطمہ بنتِ اسدؑ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی"۔

آپ غزوہِ بدر میں اُن خواتین میں شامل تھیں جو مجاہدین کو پانی پلاتی اور زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں اس اسلامی جذبہِ خدمت کے ساتھ ایک مُنتظم اور سلیقہ مند خاتون کی طرح گھر کانظم قائم رکھتیں اور گھر اور باہر کے کام زیادہ تر خود انجام دیتیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا کہ اللہ نے آپ کو چار فرزند عطا کیے۔ آپ کے سب فرزند قابلِ ذکر اور جداگانہ مقام رکھتے ہیں، لیکن آپ کے دو بیٹوں جنابِ جعفرِ طیّارؑ، اور، جنابِ مولا علیؑ کی عظمت و منزلت و رفعت کے کیا کہنے۔ مولا علیؑ کہ جن کے متعلق پیغمبرِ اکرم ﷺ نے فرمایا: علیؑ مجھ سے ہے میں علیؑ سے ہوں، جس کا میں ﷺ مولا ہوں اس کے علیؑ مولا ہیں، علیؑ کی محبت ایمان کی اور علیؑ کا بغض نفاق کی علامت ہے، اور، علیؑ کا ذکر عبادت ہے۔ مومنین آؤ ذکرِؑ علی کرتے ہیں۔

حُسنِ حق واقفِ اَسرارِ جلی یاد آیا
مرکزِ فَقرِ دوعالم کا ولی یاد آیا

جب کبھی ماہِ رجب صحنِ حرم سے گزرا
مسکراتے ہوئے کعبہ کو علیؑ یاد آیا

(محسن نقویؒ)

آج تیرہ رجب کی مناسبت سے جنابِ فاطمہ بنتِ اسد سلام اللہِ علیھا کی بارگاہِ اقدس میں اُن کی آغوشِ طاہرہ میں مولا علیؑ کے ظہور کی مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے گھر میں مولا علیؑ کی ولادتِ باسعادت کے لیے تشریف لے گئیں اور بیت اللہ کو اپنا بیٹا دان کرکے اس گھر کی شان بڑھائی، بقول استاد قمر جلالویؒ کے:

مِل گیا جبریل سے جب آنے والے کا سراغ
کھل اُٹھا کعبہ خوشی سے ہوگیا دل باغ باغ

اے قمر اللہ کے گھر میں اندھیرا دیکھ کر
فاطمہ بنتِ اسد نے کردیا روشن چراغ

(استاد قمر جلالوی)

مولا علی کی ولادت کے مضمون میں سرائیکی مولائی شاعری میں جنابِ فوق سے لے کر فردوسیِ پاکستان نذر حسین ارشاد جھنڈیر، اور، جناب سرور کربلائی نے بہت کچھ اور باکمال لکھا، لیکن سرائیکی مولائی شاعری میں مختصر بحر میں، ایک ایک سطر میں مدحت کے مضامین کا قلزم سمو دینے والے شاعر جنابِ زوار حسین زوار کے کیا کہنے ان کا ایک قطعہ جنابِ فاطمہ بنتِ اسدؑ کی شان میں پیشِ خدمت ہے:

ملی سعادت علی دی ما کوں جہاں دے کامل ولی توں پہلے
خدا دا گھر کہیں کوں مل نہیں سنگدا ایں پاک گھر دی کلی توں پہلے

مولودِ کعبہ لارَیب علیؑ ہے عجیب عظمت دا زاویہ ہے
جہان ڈٹھے ایہ بی بی آئی ہے خدا دے گھر وچ علیؑ توں پہلے

(زوار حسین زوار آف خان گڑھ)

حضرت علیؑ اللہ کے متبرک و باعظمت گھر میں روزِ جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل میں پیدا ہوئے۔ یہ شرف خاص نہ ان سے پہلے کسی کو ملا اور نہ ان کے بعد کسی کو حاصل ہوگا۔

مولا علیؑ کے اس شرفِ خاص کے متعلق ایک ہندو شاعر شری ماتھر نے کیا خوب صورت قطعہ لکھا ہے:

ہزاروں اشک ہو آنکھوں میں دریا ہو نہیں سکتا
کوئی بھی جلوہ ہو خالق سا جلوہ ہو نہیں سکتا

علی کے ماسوا اس دنیا میں کوئی بھی ہو ماتھر
خدا کے گھر میں مر سکتا ہے پیدا ہو نہیں سکتا

محدثین و اہلِ سیر نے اُسے حضرت امیرالمونینؑ کے مختصات میں شمار کرتے ہوئے اپنے کتب و مصنّفات میں اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ حاکمِ نیشا پوری تحریر کرتے ہیں: "اخبارِ متواترہ سے ثابت ہے کہ امیرالمومنین علی ابنِ ابی طالبؑ کرم اللہ وجہہ وسطِ خانہ کعبہ میں فاطمہ بنتِ اسدؑ کے بطن سے متولّد ہوئے"۔ (المستدرک، ج3، صفحہ 483)

عصرِ نَو کے مؤرخ عباس محمود عقاد نے اس مبارک پیدائش کو خانہ کعبہ کی عظمتِ پارینہ کی تجدید اور اور خدائے واحد کی پرستش کے دورِ جدید سے تعبیر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: " علی ابنِ ابی طالبؑ خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے اور خدا وندِ عالم نے اُن کے چہرے کو بتانِ کعبہ کے آگے جھکنے سے بلند تر رکھا۔ گویا اس مقام پر حضرت کی پیدائش کعبہ کے نئے دور کا آغاز اور خدائے واحد کی پرستش کا اعلانِ عام تھا"۔

آج مولائے متقیان، ابولآئمہ، وصیِ رسولﷺ، زوجِ بتولؑ، مولائے کائنات جنابِ امیرالمومنینؑ کی ولادت کی مبارک باد بارگاہِ رسالت مآب ﷺ، جنابِ ابوطالبؑ، جنابِ فاطمہ بنتِ اسدؑ، امام زمانہ جنابِ صاحب العصر والزمانؑ کی بارگاہِ اقدسہ میں میں پیش کرتے ہوئے جملہ مسلمانانِ عالم بالخصوص غزہ و سوڈان و شام و لبنان و کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے عافیت و سلامتی و امن کی التجا کرتے ہیں۔ محبانِ اہلِ بیت و موالیانِ حیدرِ کرار کو جشنِ مولودِ کعبہ، و، تیرہ رجب کی عیدِ سعید مبارک ہو۔

مہتاب کے ہاتھوں میں ہے خورشید مبارک
وجہ ُاللہ کے چہرے کی حسیں دید مبارک

کعبے میں علیؑ بھیج کے بس تیرہ رجب کو
اللہ نے محمدﷺ سے کہا عید مبارک۔۔!

(شوکت رضا شوکت)

Check Also

Venezuela Ka Sadar Agwa Aur Amereci Samraj

By Imran Ismail