Iran, Navishta e Deewar Aur Islahat Mein Takheer Ki Qeemat (2)
ایران، نوشتہ دیوار اور اصلاحات میں تاخیر کی قیمت (2)
اصلاحات کی بات کی جائے تو سب سے بنیادی اصلاح معاشی شفافیت ہے۔ IRGC اور دیگر طاقتور اداروں کے معاشی کردار کو محدود کرنا یا کم از کم اس پر پارلیمانی نگرانی قائم کرنا، عوامی غصے کو کم کرنے کی سمت ایک بڑا قدم ہو سکتا ہے۔ کرپشن، اقربا پروری اور بند معیشت وہ عوامل ھیں جو عوام کو یہ احساس دلاتے ھیں کہ قربانیاں صرف ان سے لی جا رھی ھیں جبکہ طاقتور طبقہ محفوظ ہے۔
سیاسی اصلاحات میں اظہارِ رائے کی محدود مگر حقیقی آزادی نہایت اھم ہے۔ اگر میڈیا، سوشل میڈیا اور صحافت کو مکمل دشمن سمجھنے کے بجائے ایک حفاظتی والو کے طور پر دیکھا جائے تو ریاست پر دباؤ کم ھو سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ مکمل جبر وقتی سکون تو دیتا ہے مگر طویل المدتی عدم استحکام کو بھی جنم دیتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ھی کچھ عوامل بحران کو کم کر سکتے ھیں اگر ایران اور مغرب کے درمیان کسی حد تک پابندیوں میں نرمی، جوہری مذاکرات کی بحالی یا معاشی راھداریوں پر پیش رفت ھوتی ہے تو معیشت کو سانس مل سکتی ہے جس کا براہِ راست اثر عوامی غصے پر پڑے گا۔ تاہم بیرونی دباؤ، دھمکیاں یا کھلی مداخلت اکثر الٹا اثر ڈالتی ھیں اور ریاستی سختی کو مزید جواز فراھم کرتی ھیں۔
جو کہ بدستور کیا جا رھا ہے۔ جاوید رضا پہلوی کے ایرانی عوام سے خطابات سوشل میڈیا پر نشر کئے جا رھے ھیں۔ فیک نیوز کی بھی بھرمار ہے۔
ایک اھم مگر کم زیرِ بحث عنصر نفسیاتی تھکن بھی ہے۔ طویل احتجاج، گرفتاریوں اور جبر کے بعد بعض اوقات عوام وقتی طور پر پیچھے ہٹ جاتے ھیں لیکن اس کا مطلب مسئلے کا حل نہیں ھوتا۔ یہی دباؤ اگر اصلاحات میں تبدیل نہ ھو تو مستقبل میں زیادہ شدید شکل میں واپس آتا ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ ایران کا موجودہ بحران کسی ایک اقدام، کسی ایک فورس یا کسی ایک اصلاح سے ختم نہیں ھو سکتا۔ یہ ایک کثیرالجہتی بحران ہے جس کا حل بھی کثیرالجہتی ہونا چاھیے۔ طاقت کے استعمال سے احتجاج دبایا جا سکتا ہے مگر ختم نہیں۔ اصل حل معاشی انصاف، محدود سیاسی اصلاحات، سماجی احترام اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کی جزوی بحالی میں مضمر ہے۔ اگر ریاست یہ راستہ اختیار کرتی ہے تو بحران کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر احتجاج ختم ہونے کے بجائے شکل بدلتا رھے گا اور ایران ایک طویل عدم استحکام کے دور میں داخل ھو سکتا ہے اور ھر بار ایسا ھی لگتا ہے کہ شاید ایران اس سیاسی، معاشی اور معاشرتی عدم استحکام سے شاید کبھی باھر نہ نکلے۔
IRGC جسے اردو میں سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کہا جاتا ہے۔ یہ ایران کا ایک نہایت طاقتور عسکری، سیکیورٹی اور نظریاتی ادارہ ہے جو عام فوج سے الگ ہے اور براہِ راست ایران کے سپریم لیڈر کے ماتحت کام کرتا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد نئے قائم ہونے والے نظام کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی قوت میں تبدیل ہوگیا جو صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی اور سماجی سطح پر بھی غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔
IRGC کا قیام انقلابِ ایران کے فوراً بعد عمل میں آیا کیونکہ انقلابی قیادت کو خدشہ تھا کہ شاہِ ایران کے دور کی فوج یا ریاستی ادارے کسی بھی وقت انقلاب کے خلاف بغاوت کر سکتے ھیں۔ چنانچہ ایک ایسی فورس بنائی گئی جو نظریاتی طور پر انقلاب کی وفادار ھو اور جس کی اولین ترجیح ریاست نہیں بلکہ اسلامی نظام اور ولایتِ فقیہ کا تحفظ ھو۔ یہی وجہ ہے کہ پاسداران کی وفاداری براہِ راست سپریم لیڈر سے منسلک ہے نہ کہ منتخب حکومت یا پارلیمنٹ سے۔
اس کے ساتھ بسیج ملیشیا بھی پاسداران انقلاب کا حصہ ہے جو بظاہر رضاکار فورس کہلاتی ہے مگر عملی طور پر احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے، سڑکوں پر نگرانی رکھنے، جاسوسی اور حکومت مخالف سرگرمیوں کو دبانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ بسیج میں نوجوان، طلبہ اور عام شہری شامل ھوتے ھیں جنہیں نظریاتی تربیت دی جاتی ہے۔
ایران میں جب بھی بڑے عوامی احتجاج ھوتے ھیں، خواہ وہ مہنگائی کے خلاف ھوں یا سیاسی آزادیوں کے مطالبات پر مبنی، پاسداران انقلاب اور اس سے منسلک فورسز سب سے پہلے متحرک ھوتی ھیں۔ گرفتاریوں، کریک ڈاؤن، انٹرنیٹ بندش اور مظاہروں کو طاقت سے روکنے میں یہی ادارہ مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی عوام کے ایک بڑے طبقے میں پاسداران کو خوف، جبر اور ریاستی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ سرکاری بیانیے میں اسے انقلاب کا محافظ اور ملکی سلامتی کا ضامن قرار دیا جاتا ہے۔ ایران کے اندر یہ ادارہ نہایت مقدس اور طاقتور سمجھا جاتا ہے اور اس پر تنقید کو اکثر نظام دشمنی کے مترادف قرار دیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر پاسداران انقلاب ایران کا سب سے طاقتور ادارہ ہے جو فوج، خفیہ ایجنسی، نظریاتی محافظ اور معاشی قوت سب کچھ ایک ساتھ ہے۔ ایران میں کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی، اصلاحات یا حتیٰ کہ ممکنہ انتظامی تبدیلی کی راہ میں یہ ادارہ سب سے بڑی رکاوٹ بھی ہے اور سب سے فیصلہ کن عنصر بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے حالیہ حالات، احتجاج یا رجیم چینج کی کسی بھی بحث میں پاسداران کو سمجھے بغیر تصویر مکمل نہیں ہوتی۔
ایران میں مذہب بیزاری، الحاد، لاادریت اور روایتی مذہبی بیانئے سے ذہنی دوری کوئی اچانک پیدا ہونے والا رجحان نہیں۔ میرے بہت سے دوست اور ناقدین کافی عرصے سے میرا مذاق اڑاتے اور غصہ بھی ھوتے رھے ھیں جب میں انہیں ایران میں مذھب بیزاری، لاادریت اور الحاد کی بابت 70 فیصد تعداد بتاتا ھوں۔ نیز انہی میں سے زرتشتیت کی طرف رجعت کے مدعیان کا ذکر کرتا ھوں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں سے ایک دھائی تو ایران میں اس بابت خود میرے ذاتی مشاھدات رھے ھیں جس میں خاموش مگر وسیع سماجی تبدیلی رونما ھوئی ہے، خاص طور پر شہری علاقوں، نوجوانوں، طلبہ اور تعلیم یافتہ طبقے میں۔ مذہب جو کبھی ریاستی بیانیے کی روح سمجھا جاتا تھا، اب بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے جبر، نگرانی اور پابندی کی علامت بنتا جا رھا ہے۔ جب مذہب ریاستی طاقت کے ساتھ جُڑ جائے تو وہ عقیدے کے بجائے ضابطہ بن جاتا ہے اور ایران میں یہی عمل مذہب کو عوامی سطح پر کمزور کر چکا ہے۔ جس کے ثبوت کے طور پر ایران میں متعدد حوزہ جات علمیہ (بڑے دینی مدارس) میں جلاؤ گھیراؤ کے حالیہ واقعات کا رونما ھونا ہے۔ آخوند و ملا سمیت، ولایتِ فقیہ کی بابت لاف زنی پر مشتمل نعرے تو آپ سب سن ھی چکے ھونگے۔ یہ کوئی خوش آئند بات نہیں ہے۔ دین حکمت سے اگر حکمت منہا ھو جائے تو یہی کچھ ھونا بعید نہیں ھوتا۔
حجاب کی زبردستی، طرزِ لباس پر کنٹرول، موسیقی، تفریح، میل جول، انٹرنیٹ، کتابوں، فلموں اور حتیٰ کہ ذاتی تعلقات پر ریاستی نگرانی نے ایک پوری نسل کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں بلکہ اس مذہبی ڈھانچے کا ہے جو روزمرہ زندگی میں سانس لینے کی اجازت بھی نظریاتی اجازت نامے سے مشروط کرتا ہے۔ اسی کے رد عمل میں عشرے سے لکھ رھا ھوں کہ ایرانی عورت آزادی کی حدیں درون خانہ تو کب سے پھلانگ چکی ہے اب ظاھراً بھی کھلم کھلے والا حساب ہے اور حکومت بے بس۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ احتجاجات میں صرف معاشی نعرے نہیں بلکہ مذہبی علامتوں کی نفی، انقلابی شعار سے بیزاری اور زن، زندگی، آزادی جیسے نعرے گونج رھے ھیں، جو دراصل ایک سیکولر، لبرل اور شخصی آزادی پر مبنی طرزِ زندگی کی خواہش کا اظہار ھیں۔
ہڑتالوں اور مظاہروں میں تاجر طبقے، بازار، طلبہ و طالبات و برابر تعداد میں خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت اسی سماجی تبدیلی کا عملی اظہار ہے۔ تہران کے بازار کی بندش محض کاروباری احتجاج نہیں بلکہ ان کے مطابق ایک علامتی بغاوت ہے اس ریاستی نظم کے خلاف جو مذہبی ضابطوں کے نام پر معیشت کو بھی یرغمال بنائے ھوئے ہے۔ اب دکان دار، اساتذہ، نرسز اور سرکاری ملازمین صرف تنخواہوں یا قیمتوں کی بات نہیں کر رھے بلکہ ایک ایسے نظام سے نجات چاہتے ھیں جو ان کی نجی زندگی، رائے اور شناخت تک پر حاوی ہے۔
اظہارِ رائے کی آزادی اس بحران کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔ ایران میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ بول نہیں سکتے، بلکہ یہ ہے کہ وہ سوچ بھی محتاط ھو کر کرتے ھیں۔ صحافت، سوشل میڈیا، ادب، فن اور علمی مکالمہ سب ریاستی نگرانی اور سنسرشپ کے شکنجے میں ھیں۔ یہی گھٹن آہستہ آہستہ اجتماعی غصے میں تبدیل ھوئی اور یہی غصہ آج احتجاج، ہڑتالوں اور سول نافرمانی کی صورت میں سامنے آ رھا ہے۔ یہ ایک ایسا احتجاج ہے جو اکثر خاموش ہے مگر اسی خاموشی میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔
ریاست کا ردعمل اس فکری بحران کو مزید گہرا کر رھا ہے۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی، بسیج اور دیگر سیکیورٹی ادارے بدستور نظام کے محافظ ھیں مگر وہ ایک ایسے سماج کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رھے ھیں جو ذہنی طور پر ریاستی بیانیے سے نکل چکا ہے۔ طاقت وقتی طور پر جسم کو جھکا سکتی ہے، ذہن کو نہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو ایران کے موجودہ بحران کو پچھلے تمام احتجاجوں سے مختلف بناتا ہے۔
یہاں رجیم چینج کے امکانات کو سمجھنا ضروری ہے۔ پہلا امکان فوری عوامی انقلاب کا ہے مگر اس کی راہ میں قیادت کی عدم موجودگی، اپوزیشن کی تقسیم اور سیکیورٹی اداروں کی مضبوطی بڑی رکاوٹیں ھیں۔ دوسرا امکان طویل اندرونی زوال کا ہے، جس میں نظام برقرار رھتے ھوئے اپنی اخلاقی، سماجی اور معاشی بنیادیں کھوتا چلا جائے۔ تیسرا امکان کنٹرولڈ تبدیلی کا ہے، جس میں ریاست کچھ سماجی نرمی، محدود مذہبی آزادی اور معاشی اصلاحات کے ذریعے وقت خریدنے کی کوشش کرے۔ چوتھا امکان بیرونی دباؤ کے ذریعے بالواسطہ تبدیلی کا ہے، اگرچہ براہِ راست امریکی حملے یا فوجی رجیم چینج کے امکانات کم ھیں کیونکہ اس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ھو سکتے ھیں۔
لیکن ایک پہلو سب سے زیادہ فیصلہ کن بنتا جا رھا ہے اور وہ ہے نئی نسل کی مذہبی اور نظریاتی لاتعلقی۔ یہ نسل نہ انقلابِ 1979 کی وارث ہے نہ مذہبی تقدس کی محافظ اور نہ ہی ریاستی بیانیے کو ماننے والی۔ ان کے لیے آزادی کا مطلب صرف سیاسی نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی پر مسلط مذہبی و اخلاقی پابندیوں سے نجات کا مطلب لیتی ہے۔ یہی وہ خاموش آتش فشاں ہے جو آج احتجاج میں ےے اور کل کسی بھی بڑی آتش فشانی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ایران آج ایک سست مگر گہرے زلزلے کی کیفیت میں ے۔ عمارت ابھی کھڑی ہے مگر بنیادیں ہل چکی ھیں۔ یہ بحران شاید فوری طور پر کسی انجام تک نہ پہنچے مگر یہ بھی واضح ہے کہ موجودہ نظام اسی شدت، اسی مذہبی سختی اور اسی سماجی جبر کے ساتھ زیادہ دیر تک قائم رہنا مشکل ھوتا جا رھا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایران بدلے گا یا نہیں؟ بلکہ یہ ہے کہ یہ تبدیلی کتنی پُرامن ھوگی؟ کتنی مہنگی ثابت ھوگی؟ اور ریاست اسے قبول کرنے میں کتنی دیر لگائے گی؟ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ جب سماج ذہنی طور پر آزاد ہو جائے تو طاقت اسے ہمیشہ کے لیے قید نہیں رکھ سکتی۔
ایران اس وقت جس بحرانی کیفیت سے گزر رھا ہے وہ محض معاشی بدحالی یا وقتی احتجاج کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر اور تہہ دار بحران ہے جس میں ریاست، مذہب، سیاست، معیشت اور سماج سب ایک دوسرے سے ٹکرا رھے ھیں۔ جنوری 2026 تک پہنچتے پہنچتے ایران ایک ایسی کیفیت میں داخل ہو چکا ہے جہاں بظاہر نظام اپنی جگہ قائم ہے مگر اس کے اندرونی جملہ ستون شدید دباؤ، تھکن اور عوامی لاتعلقی کا شکار ھو چکے ھیں۔ یہ بحران سڑکوں پر نظر آنے والے مظاہروں سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ ایک فکری، نفسیاتی اور تہذیبی تصادم ہے جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ پنپ رہا تھا اور اب مختلف شکلوں میں ظاہر ہو رہا ہے۔
ایران ایک بار پھر عالمی توجہ کے مرکز میں ہے مگر اس بار وجہ کوئی اچانک انقلاب یا فوری نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسا مسلسل، گہرا اور خاموش بحران ہے جو بیک وقت سیاست، معیشت، سماج اور ریاستی رِٹ کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ جنوری 2026 تک ایران کی صورتحال کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملک ٹوٹ نہیں رھا مگر وہ ایران بھی نہیں رھا جو 2010 یا حتیٰ کہ 2020 میں دکھائی دیتا تھا۔ یہاں سب کچھ اپنی جگہ موجود ہے۔ حکومت، فوج، پاسدارانِ انقلاب، آئین، پارلیمان، عدلیہ مگر ان سب کی اخلاقی اور نفسیاتی بنیادیں شدید کمزور ھو چکی ھیں۔
حالیہ برسوں میں ایران میں احتجاج کسی ایک واقعے یا کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رھے۔ اب نعروں میں صرف حکومت یا کسی صدر کا نام نہیں، بلکہ ریاستی علامتیں، مذہبی نعرے اور انقلابی بیانیہ بھی براہِ راست نشانے پر آ چکا ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احتجاج دب جائیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف سطح سے غائب ہوں گے۔ زمین کے اندر زندہ رھیں گے۔ ایران میں اب احتجاج کا مطلب صرف سڑکوں پر نکلنا نہیں رھا بلکہ یہ ایک نفسیاتی کیفیت بن چکا ہے۔ خاموش بغاوت، سول نافرمانی، نظام سے ذہنی لاتعلقی اور اجتماعی بے اعتمادی اس بحران کی اصل شکل ھیں۔ ریاست مظاہرین کو منتشر کر لیتی ہے مگر عوام کو قائل کرنے میں مسلسل ناکام ھو رھی ہے۔
اکثر لوگ 1979 کے انقلاب سے موازنہ کرتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایک بار پھر وہی منظر دہرایا جا سکتا ہے؟ اس سوال کا سادہ جواب نفی میں ہے۔ 1979 میں ایرانی فوج نے فیصلہ کن مرحلے پر غیر جانبداری اختیار کر لی تھی، علما اور عوام ایک پیج پر تھے اور ایک متفقہ قیادت موجود تھی۔ آج ان میں سے کوئی عنصر مکمل طور پر موجود نہیں۔ فوج اور پاسدارانِ انقلاب اب بھی ریاست کے ساتھ کھڑے ھیں۔ اپوزیشن شدید منتشر ہے اور کوئی ایسا قومی لیڈر موجود نہیں جس پر مذہبی، سیکولر، قوم پرست اور نوجوان سب متفق ھو سکیں۔
لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ موجودہ نظام مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاریخ ھمیں بتاتی ہے کہ ریاستیں اکثر اسی وقت گرتی ھیں جب وہ خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتی ھیں۔ ایران میں سب سے بڑا خطرہ سڑکوں پر نہیں بلکہ معیشت میں چھپا ھوا ہے۔ اگر افراطِ زر اسی رفتار سے بڑھتی رھی، اگر کرنسی مزید گری، اگر ریاست اپنے ملازمین، سکیورٹی اداروں اور فوجی اہلکاروں کی مراعات برقرار نہ رکھ سکی، تو وفاداریاں نظریے سے نکل کر روٹی کے سوال سے جڑ جائیں گی۔
فی الحال ایرانی اسٹیبلشمنٹ کی حکمتِ عملی یہ دکھائی دیتی ے کہ فقط وقت خریدا جائے۔ چین اور روس کے ساتھ تعلقات، محدود اقتصادی اصلاحات، چہرے بدل کر بیانیہ نرم کرنے کی کوششیں اور سختی و نرمی کا ملا جلا استعمال۔ یہ سب اسی حکمتِ عملی کا حصہ ھیں۔ امکان یہ بھی ھو سکتا ہے کہ آنے والے چند برسوں میں ایران میں کوئی اچانک انقلاب نہیں آئے گا بلکہ ایک کنٹرولڈ تبدیلی کا عمل چلے گا۔ نیا صدر، نسبتاً معتدل زبان، مذہبی سختی میں تدریجی کمی اور عالمی برادری سے محتاط رابطہ، یہ سب اس عمل کی ممکنہ شکلیں ھیں۔
مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران میں نئی نسل کا ریاست سے تعلق تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ نسل انقلاب کے نعروں، جنگِ ایران و عراق کے جذبات اور مذہبی تقدس سے ذہنی طور پر کٹ چکی ہے۔ ان کے لیے ریاست ایک محافظ نہیں بلکہ ایک رکاوٹ بن چکی ہے۔ یہی نسل اگر آنے والے برسوں میں معاشی طور پر مزید مایوس ھوئی تو احتجاج ایک بار پھر شدت اختیار کر سکتے ھیں اور ھر بار تو کھانے کو رس ملائی بھی نہیں ملتی۔
ایک سست مگر گہرے زلزلے کی کیفیت میں ہے۔ عمارت ابھی کھڑی ہے مگر اس کی بنیادیں ہل چکی ھیں۔ یہ بحران شاید 2026 میں اپنے انجام کو نہ پہنچے، مگر یہ بھی واضح ہے کہ موجودہ نظام اسی شکل میں 2030 تک چل جانا آسان ھرگز نہیں ھوگا۔ کوئی نہ کوئی نیا سماجی یا سیاسی معاہدہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
ایک ایسے موڑ پر جہاں ہر راستہ مشکل ہے مگر سب سے مشکل راستہ وہ ہے جس میں یہ مان لیا جائے کہ کچھ بدلنے کی ضرورت ھی نہیں۔ تاریخ ایسے انکار کو کبھی معاف نہیں کرتی۔
ایران اس وقت تاریخ کے اُس موڑ پر کھڑا ہے جہاں ریاست اور معاشرہ ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کو آزما رھے ھیں۔ بظاہر نظام قائم ہے، ادارے کام کر رھے ھیں، قوانین نافذ ھیں مگر اس ظاہری استحکام کے نیچے ایک گہرا خلا پیدا ہو چکا ہے۔ یہ خلا معاشی نہیں، صرف سیاسی بھی نہیں، بلکہ فکری، سماجی اور اخلاقی نوعیت کا ہے اور یہی وہ مرحلہ ھوتا ہے جہاں ریاستیں اچانک نہیں بلکہ بتدریج کمزور ہو کر ایک دن خود کو بے وزن پاتی ھیں۔
ایران میں حالات پر وقتی قابو پانا اب بھی ممکن ہے۔ احتجاج دبائے جا سکتے ھیں، انٹرنیٹ بند ہے، سڑکیں خالی کرائی جا سکتی ھیں، خوف کی فضا قائم رکھی جا سکتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ خوف اب مرکزی عنصر نہیں رھا۔ ایک پوری نسل ے جو مذہبی بیانئے سے جذباتی طور پر کٹ چکی ہے، جس کے لیے ریاستی تقدس ایک رسمی لفظ بن چکا ہے اور جس کے نزدیک زندگی کے بنیادی فیصلوں پر ریاستی اجارہ داری ناقابلِ قبول ھو چکی ہے۔ ایسے میں طاقت وقتی خاموشی تو خرید سکتی ہے، اطاعت نہیں۔
ایران میں میرے مشاھدات ھیں کہ یہ معاشرہ جامد ھرگز نہیں ہے۔ یہاں خاموشی بھی معنی رکھتی ہے اور نعرہ بھی۔ موجودہ بحران کی شدت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ صرف معاشی پابندیوں یا بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی سماجی تضادات کا حاصل ہے۔ مذہب جو کبھی عوامی قوت کا سرچشمہ تھا اب ریاستی طاقت کے آلے کے طور پر دیکھا جا رھا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں نظام اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتا ہے، خواہ اس کے پاس کتنی ہی فورس کیوں نہ ھو۔
ریاستی اصلاحات کی بات اب محض ایک تجویز نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ ایرانی معاشرہ ساختی تبدیلی چاہتا ہے۔ ایسی تبدیلی جو عورت کو ریاست کی ملکیت کے تصور سے نکالے، رائے کو جرم نہ سمجھے، مذہب کو زبردستی کے بجائے انتخاب بنائے اور قانون کو خوف نہیں بلکہ انصاف کا نشان بنائے۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ نظام کل گر جائے گا، اصل خطرہ یہ ہے کہ نظام قائم رھتے ھوئے بھی غیر متعلق ہو چکا ہے۔ تاریخ میں ایسی ریاستیں زیادہ دیر نہیں چلتیں۔ سوویت یونین ہو یا مشرقی یورپ، مثالیں یہ بتاتی ھیں کہ جب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر ادارے صرف سنسان عمارتیں رہ جاتے ھیں۔
ایران کے لیے ابھی بھی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ھوا مگر تیزی سے تنگ ضرور ھو رھا ہے۔ اگر اصلاحات جلد، سنجیدہ اور عوامی شرکت کے ساتھ نہ ھوئیں تو پھر تبدیلی آئے گی مگر وہ فریقین کے لئے خوفناک بھی ھو سکتی ہے۔
نوشتۂ دیوار ہمیشہ واضح ھوتا ہے، مسئلہ صرف یہ ھوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اسے پڑھنے میں دیر کر دیتے ھیں۔ ایران آج اسی تاخیر کی قیمت ادا کرنے کے دھانے پر کھڑا ہے۔ بار بار یہ سوال کھڑا ھوتا ہے کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں؟ مگر درحقیقت سوال یہ ھونا چاھیئے کہ کیا ریاست اسے خود تشکیل دے گی یا تاریخ زبردستی لکھے گی؟

