Iran Mein Mazhab Bezari, La Diniyat, Ilhad Aur Zartastiat Ki Taraf Rajat
ایران میں مذھب بیزاری، لادینیت، الحاد اور زرتشتیت کی طرف رجعت

مذاھب سے بیزاری اور لادینیت نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور یہ دنیا کے تمام مذاھب کے لیے پریشان کُن ہے۔ ایران میں 2014 سے 2019 تک چونکہ میرے کام (مارکیٹنگ) کی نوعیت ہی ایسی تھی کہ روزانہ بیسیوں افراد سے ملنا ہوتا ہے۔ غیر ملکی (خارجی) ہونے کے ناطے لوگ مجھ سے باتیں، تبادلہ خیال، گپ شپ کھل کر کرتے تھے۔ میں نے نوٹ کیا کہ وہاں بہت سے لوگ لادینیت کی طرف مائل ہیں یا پھر یکسر لادین ہیں۔ ان لوگوں میں ہر مذھب سے متعلقہ لوگ شامل ہیں۔ پہلے پہل تو میں انہیں لبرل اور آزاد خیال سمجھتا رہا۔ مگر جب تھوڑا عرصہ مجھے مزید وہاں گزرا، تب تو جیسے یوں لگتا تھا جیسے ہر پانچواں چھٹا فرد لادین ہے۔
یہاں پاکستان میں ایک محقق دوست نے بتایا کہ ایران میں الحاد بڑی تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔ بیرون ملک بیٹھے جلا وطن ایرانی، مذہبی حکومت کے خلاف اسے سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ دے رہے ہیں۔ مریم نمازی نامی ایرانی ملحدہ نے لاکھوں ایرانی ملحدین پر مشتمل ایک سوشل میڈیا کمیونٹی بنائی ھوئی ہے اور وہ سب گویا ایران میں تبلیغ الحاد کے داعی ھیں۔ عموماً ملحد حضرات وہاں یہ کہتے پائے گئے کہ سب سے برتر مذہب انسانیت ہے۔ اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ انسانیت کا یہ درس اخلاقیات، مذاھب ہی کی دین تو ہے۔
یہ درج بالا پیرا گراف میں نے 2015 میں لکھا تھا۔ اس کے بعد وھاں میرا قیام 6 سال رھا۔ اس مرتبہ اپریل 2025 میں میں دوبارہ ایران گیا تھا۔۔ یا للعجب کہ لوگ کھلم کھلا اپنی لادینیت، الحاد اور زرتشتی کی طرف رجعت کی باتیں کرتے ھوئے پائے گئے۔
میں مشہد ائیرپورٹ سے ٹیکسی میں بیٹھا، مجھے روضہ پاک امام علی رضاؒ جانا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور ایک بزرگ آدمی تھا۔ گپ شپ شروع ھوئی تو خارجی پاکستانی ھونے کے سبب اس نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان سے زیارت کیلئے آئے ھو یا سیاحت کیلئے۔ میں نے جواب دیا دونوں کیلئے۔ تب میں نے اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ دیکھی۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ زیارت سے تمہیں کیا فائدہ ملے گا؟ میں نے اس سے پوچھا کہ آپ شیعہ ھو یا سنی؟ اس نے بلا جھجھک کہا کہ "بی دین ام" یعنی میں بے دین ھوں۔ اس کے بعد میں نے اس سے گفتگو کا سلسلہ روک دیا۔ منزل پر پہنچ کر مزار مبارک کے اندر گئے۔ مزار مبارک کے اندر نیچے تہہ خانے میں غالباً خلیفہ ھارون الرشید اور کچھ دیگر برگزیدہ ھستیاں مدفون ھیں۔ میں وھاں بھی جانا چاہ رھا تھا۔
مزار مبارک کی وسعت گویا ایک بھول بھلیوں پر محیط ہے۔ تین چار لوگوں سے نیچے جانے کا راستہ پوچھا تو ان میں سے ایک نے بھی وھی طنزیہ سوال کیا کہ زیارات سے تمہیں کیا ملے گا؟ وھیں میں نے جوابی سوال داغا کہ تم یہاں کیا کر رھے ھو؟ تو وہ گویا ھوا کہ میرے لئے تو فقط یہ جائے تفریح ہے۔ خیر ھمیں ھارون الرشید کے مزار کی نشاندھی تو کسی نے نہیں کی بلکہ اکثریت اس حقیقت سے ھی ناواقف تھی۔ سو دستیاب مزارات پر ھی فاتحہ خوانی کی۔ واپس اوپر آ کر زری امام علی رضا مقدس سے کچھ فاصلے پر مختصر دورانیے کا مراقبہ کیا اور وھاں سے نکل آئے۔ اس مرتبہ وھاں سے میں کم و بیش 15 شہر گھوم کر آیا ھوں۔ سیکڑوں لوگوں سے ملا۔
پاکستانی کمیونٹی کے بہت سے پڑھے لکھے اور سر بر آوردہ لوگوں سے ملاقات ھوئی ان سے ایران میں الحاد کی بابت پوچھا تو سب لوگوں نے بتایا کہ 70 سے 80 فیصد ایرانی لادینیت کی طرف جا چکے ھیں۔ پاکستانی کمیونٹی کے ھی ایک سربراہ جو تقریباً بیس پچیس سالوں سے ایران میں مقیم ھیں اور وہ فقہ جعفریہ سے متعلق ھیں، انھوں نے کہا کہ "مکی بھائی، انتہائی تاسف سے کہنا پڑ رھا ہے کہ ایران میں لادینیت 80 فیصد کی حد کراس کر چکی ہے اور لوگ ایام مقدسہ منانے کی بابت اب ھمارا استہزاء اور مذاق اڑاتے ھیں۔ یقین کیجئے مجھے اب بھی یقین نہیں آ رھا تھا۔
یزد میں میں زرتشتیوں کے ھوٹل میں ٹھہرا۔ وھاں بہت سے لوگوں سے ملا، انٹرویوز کئے، مختلف امور پر سوالات کئے، الحاد کی بابت یقین محکم ھونے لگا کہ ایرانیوں میں 70/80 فیصد نہ سہی، یہ تناسب 50 فیصد سے قدرے بڑھ چکا ہے۔ ان میں سے بہت سوں نے کہا کہ بے دین ھونا بہتر ہے اور اگر کوئی دین اپنانا ھی ہے تو کیوں نا ایران کا قومی و تاریخی دین زرتشتیت اپنایا جائے۔ اسی بات پر یزد میں زرتشت ھوٹل مالک نے بھی خوشی کا اظہار کیا کہ ایرانی قوم کثیر تعداد میں اپنے سابقہ اور اصل دین کی طرف رجعت اختیار کر رھی ہے۔

