Iran America Tasadum
ایران امریکہ تصادم

ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی اب اس سطح پر پہنچ چکی ہے جہاں دونوں فریق جانتے ھیں کہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں مگر دونوں یہ بھی سمجھتے ھیں کہ پسپائی کی قیمت اندرونی سیاسی سطح پر موت کے مترادف ھوگی۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو اس پورے بحران کو خطرناک بناتا ہے۔ نہ امریکہ کھل کر پیچھے ہٹ سکتا ہے اور نہ ایران دباؤ میں آ کر سر جھکا سکتا ہے، چنانچہ عملی طور پر واحد راستہ یہ بچتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو فیس سیونگ دیتے ہوئے چند محدود جھڑپیں کریں، کچھ علامتی اہداف کو نشانہ بنایا جائے، میڈیا میں فتح کے بیانیے تراشے جائیں اور پھر خاموشی سے معاملہ ٹھنڈا کر دیا جائے۔ اس کے سوا ھر راستہ یا تو اندھا ہے یا اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔
اگر یہ فیس سیونگ ماڈل ناکام ہوا اور جنگ واقعی کھل کر شروع ہوگئی تو تصویر خاصی واضح ہے۔ امریکہ اپنی عسکری برتری کی بنیاد پر ایران کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کے بڑے شہروں، عسکری اڈوں اور صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ایران اس جنگ کو محض اپنی سر زمین تک محدود نہیں رکھے گا۔ وہ اپنی پوری قوت مجتمع کرکے سامراجی مفادات کو ہر ممکن حد تک نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا اور یہ نقصان صرف ایران یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رھے گا بلکہ عالمی سطح پر محسوس کیا جائے گا۔ یہ روایتی دو ریاستی جنگ نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسی جنگ ہوگی جس کے کئی محاذ ھوں گے، کئی سطحیں اور کئی غیر ریاستی کردار بھی میدان میں ھوں گے۔
آبنائے ہرمز اس پورے کھیل کی سب سے نازک کڑی ہے۔ یہ محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کے تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ ایران کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ امریکہ کی اصل کمزوری تہران نہیں بلکہ عالمی توانائی کا نظام ہے۔ ایران کو اس راستے کو مکمل بند کرنے کی بھی ضرورت نہیں، صرف یہ پیغام دینا کافی ہے کہ وہ جب چاھے اسے غیر محفوظ بنا سکتا ہے۔ یہی عدم تحفظ تیل کی قیمتوں کو آسمان پر لے جائے گا، یورپ کی معیشت کو ھلا دے گا، چین، جاپان اور بھارت جیسے ممالک کو بحران میں ڈال دے گا اور خود امریکہ پر بھی اندرونی سیاسی دباؤ کئی گنا بڑھ جائے گا۔
امریکہ کے لیے ایران صرف ایک دشمن ریاست نہیں بلکہ یورپ پر اپنی دھاک برقرار رکھنے، اسرائیل کو مطمئن رکھنے، خلیج میں اپنی عسکری موجودگی کو جائز ثابت کرنے اور داخلی سیاست میں طاقتور قیادت کا تاثر قائم رکھنے کا ذریعہ بھی ہے۔ مڈٹرم یا صدارتی انتخابات ھوں، امریکی سیاست میں ہمیشہ بیرونی دشمن کو ایک کارڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسی لیے اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو وہ کسی چھوٹے موٹے آپریشن پر اکتفا نہیں کرے گا۔ اس کا ھدف ایران کی جوابی صلاحیت کو ایک ہی وار میں مفلوج کرنا ہوگا، میزائل نیٹ ورک، ریڈار سسٹمز، نیوکلیئر انفراسٹرکچر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز سب نشانے پر ہوں گے مگر یہی وہ مقام ہے جہاں امریکہ کی اصل غلط فہمی شروع ہوتی ہے۔
ایران کو بمباری سے تباہ کرنا نظری طور پر ممکن مگر عملی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ ایران پچھلے دو دہائیوں سے ایک روایتی ریاست نہیں بلکہ ایک زیرِ زمین تہذیب بن چکا ہے۔ اس نے اپنی قیادت کے لیے کئی پرتوں پر مشتمل حفاظتی نظام قائم کر رکھا ہے، 31 صوبوں کو ایمرجنسی کی صورت میں مکمل معاشی اور دفاعی خودمختاری دے دی گئی ہے، آٹھ ممالک سے جڑی سرحدوں سے بارٹر ٹریڈ سسٹم کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے اور دفاعی صنعت کو شہروں سے نکال کر پہاڑوں اور سرنگوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق ایران میں چار ھزار سے زائد زیرِ زمین سرنگیں موجود ھیں جن میں میزائل لانچرز، ڈرون فیکٹریاں، نیوکلیئر لیبارٹریاں، فوجی کمانڈ سینٹر اور اسلحہ کے ذخائر مسلسل فعال ھیں۔ یہ سرنگیں محض چھپنے کے لیے نہیں بلکہ پورے زیرِ زمین شہروں کا نیٹ ورک ھیں جہاں سے جنگ جاری رکھی جا سکتی ہے۔
امریکہ کی سب سے بڑی فینٹسی یہ ہے کہ وہ ایران میں رجیم چینج کر سکتا ہے۔ یہی غلط فہمی ویتنام، عراق، لیبیا اور افغانستان میں بھی تھی۔ ایران میں کوئی ایسی مرکزی آمریت نہیں جسے گرا کر سب کچھ ختم ہو جائے۔ یہاں نظامِ حکومت ادارہ جاتی ہے، طاقت مختلف مراکز میں تقسیم ہے، فوجی، مذہبی، انقلابی اور معاشی قوتیں ایک دوسرے میں پیوست ھیں۔ قیادت ختم بھی ھو جائے تو نظام باقی رہتا ہے۔ یہ ایسی ریاست ہے جو سر قلم ہونے کے بعد بھی لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایٹمی حملے کا تصور زیادہ تر نفسیاتی دباؤ ہے، عملی حقیقت نہیں۔ ایران، جاپان نہیں کہ دو بموں کے بعد شکست تسلیم کر لے۔ اگر اسرائیل واقعی ایٹمی حملہ کرتا ہے تو ایران ضرور تباہ ہوگا مگر اس کے بعد اسرائیل کا وجود بھی سوالیہ نشان بن جائے گا۔ پورا خطہ مستقل نیوکلیئر وار زون میں بدل جائے گا اور مسلم دنیا میں نسل در نسل انتقام کا بیانیہ پیدا ہوگا۔ یہ ایسا بٹن ہے جسے دبانا آسان ہے مگر اس کے بعد دنیا کو واپس نارمل کرنا ناممکن۔
ایران کی اصل طاقت اس کے میزائل نہیں بلکہ اس کا غیر مرکزی عالمی نیٹ ورک ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں ملیشیائیں، شام میں پراکسی فورسز، یمن میں حوثی، افغانستان، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں مختلف نیٹ ورکس سب اسی حکمت عملی کا حصہ ھیں۔ پاسداران انقلاب، زینبیون، فاطمیون اس کے علاؤہ ھیں۔ مگر اصل خطرہ یہ ہے کہ ایران صرف شیعہ آبادی تک محدود نہیں بلکہ بڑی تعداد میں سنی ہمدرد بھی رکھتا ہے جو دنیا بھر میں انفرادی سطح پر سائبر حملے، انفراسٹرکچر سبوتاژ، توانائی نظام پر حملے اور ٹارگٹ کارروائیاں کر سکتے ھیں۔ یہ جنگ ریاست بمقابلہ ریاست نہیں بلکہ ریاست بمقابلہ عالمی سامراج غیر مرئی مزاحمت کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
سب سے خطرناک پہلو یہ نہیں کہ جنگ ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ کوئی ایک فریق غلط اندازہ لگا بیٹھے۔ امریکہ یہ سمجھے کہ ایران جواب نہیں دے گا، ایران یہ سوچ لے کہ امریکہ پیچھے ھٹ جائے گا، اسرائیل کوئی سرپرائز اسٹرائیک کر دے یا کوئی پراکسی گروہ حد سے آگے نکل جائے تو ایک چھوٹا سا واقعہ پوری دنیا کو آگ لگا سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی جنگیں اکثر ارادے سے نہیں بلکہ غلط فہمی، غلط اندازوں سے شروع ھوتی ھیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد نسبتاً محفوظ راستہ یہی ہے کہ دونوں فریق محدود سطح پر طاقت کا مظاہرہ کریں، ایک دوسرے کو فیس سیونگ دیں اور پھر خاموشی سے پیچھے ھٹ جائیں، سرد جنگ البتہ بدستور جاری رھے گی۔ کھلی جنگ کی صورت میں امریکہ جیت بھی گیا تو ہار جائے گا، ایران ھار بھی گیا تو شکست قبول نہیں کرے گا، اسرائیل محفوظ بھی رھا تو پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ھو جائے گا اور دنیا زندہ بھی رھی تو پہلے جیسی نہیں رھے گی۔
یہ وہ تصادم ہے جہاں سب کچھ ممکن ہے مگر کچھ بھی حتمی نہیں، سب جیت سکتے ھیں مگر کوئی خوش نہیں ہوگا اور سب ھار سکتے ہیں مگر کوئی مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا۔ اسی لیے چند جھڑپیں، چند دھمکیاں اور پھر خاموش پسپائی ھی وہ راستہ ہے جو تباھی کو وقتی طور پر ٹال سکتا ہے، اس کے سوا ہر راستہ اندھا بھی ہے اور یقینی خودکشی بھی۔

