Sher e Khuda, Haider e Karrar Hazrat Ali Ki Wiladat e Ba Saadat
شیرِ خدا، حیدرِ کرار حضرت علیؓ کی ولادتِ باسعادت

حضرت علی بن ابی طالبؓ اسلامی تاریخ کی اُن عظیم شخصیات میں سے ہیں جن کی پوری زندگی ایمان، شجاعت، علم اور عدل کا عملی نمونہ ہے۔ آپؓ کی ذات سیرتِ نبوی ﷺ کا عکس اور خلافتِ راشدہ کا روشن ستون ہے، مگر حضرت علیؓ کا سب سے نمایاں پہلو آپؓ کی پیدائشِ مبارک اور بے مثال بہادری ہے، جس نے آپؓ کو تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
مولائے کائنات، شیرِ خدا حضرت علیؓ کی ولادت 13 رجب، قبلِ ہجرت عام الفیل کے 30 سال بعد بروز جمعہ کو خانۂ کعبہ کے اندر ہوئی۔ یہ ایسا اعزاز ہے جو تاریخِ انسانی میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ آپؓ کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسدؓ بیت اللہ میں داخل ہوئیں اور وہیں حضرت علیؓ کی ولادت ہوئی۔ اہلِ علم کے نزدیک یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ آپؓ کی پوری زندگی توحید، حق اور مرکزِ اسلام سے جڑی رہے گی۔ آنکھ کھولی تو کعبہ میں، پرورش پائی تو رسولِ اکرم ﷺ کی آغوش میں، یوں آپؓ کی شخصیت ابتدا ہی سے نورِ نبوت کے زیرِ سایہ پروان چڑھی۔
حضرت علیؓ نے کم عمری میں اسلام قبول کیا اور سب سے پہلے ایمان لانے والے بچوں میں شامل ہوئے۔ آپؓ رسولِ اکرم ﷺ کے گھر میں رہتے تھے اسی لیے اخلاق، شجاعت، صداقت اور غیرتِ دینی آپؓ کی فطرت کا حصہ بن گئی۔ شبِ ہجرت حضور ﷺ کے بستر پر سونا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ جان نچھاور کرنے کی ایسی مثال ہے جس نے حضرت علیؓ کو وفا اور قربانی کی علامت بنا دیا۔
شیرِ خدا حضرت علیؓ کی جوانی شجاعت و بہادری کا استعارہ ہے۔ غزوۂ بدر (2ھ) میں آپؓ نے کفار کے نامور سرداروں کو واصلِ جہنم کیا اور اسلام کی پہلی بڑی فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ غزوۂ اُحد (3ھ) میں شیرِ خدا حضرت علیؓ ثابت قدمی کے ساتھ رسولِ اکرم ﷺ کے دفاع میں ڈٹے رہے۔ غزوۂ خندق (5ھ) میں عمرو بن عبدود جیسا مشہور پہلوان خندق پار کرکے مقابلے پر آیا تو حضرت علیؓ نے اسے للکارا اور ایک ہی وار میں اسلام کو ایک عظیم خطرے سے بچا لیا۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "علیؓ کی ایک ضرب، ثقلین کی عبادت سے بہتر ہے"۔
حضرت علیؓ کی بہادری کا عروج غزوۂ خیبر (7ھ) میں نظر آتا ہے۔ جب کئی سردار ناکام لوٹے تو رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "کل میں علم اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں"۔ اگلے دن یہ علم حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دیا گیا۔ آپؓ نے مرحب کو قتل کیا، قلعہ فتح کیا اور یوں "شیرِ خدا" اور "حیدرِ کرار" کے القابات ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ثبت ہو گئے۔
حیدرِ کرار حضرت علیؓ کی شجاعت صرف میدانِ جنگ تک محدود نہ تھی بلکہ حق کے اظہار اور عدل کے قیام میں بھی نمایاں تھی۔ خلافت کے دوران بھی آپؓ نے باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ اگرچہ آپؓ کو 35ھ میں خلافت ملی اور جنگِ جمل (36ھ) اور جنگِ صفین (37ھ) جیسے مشکل حالات پیش آئے، مگر آپؓ نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی۔ بالآخر 21 رمضان 40ھ کو کوفہ میں حالتِ نماز میں شہادت پا کر یہ ثابت کر دیا کہ حق کی راہ میں جان دینا ہی اصل کامیابی ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کے بارے میں فرمایا: "میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں" اور ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: "علیؓ سے محبت ایمان ہے اور علیؓ سے بغض نفاق ہے"۔ حضرت علیؓ کے اقوال میں بھی بہادری اور حکمت جھلکتی ہے فرماتے ہیں "بزدلی سے زیادہ کوئی غربت نہیں اور شجاعت سے بڑی کوئی دولت نہیں"۔ ایک اور مقام پر فرمایا "حق کے ساتھ رہو، چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ رہ جاؤ"۔ علامہ اقبالؒ نے حضرت علیؓ کی ولادت، شجاعت اور کردار کو مردِ مومن کا کامل نمونہ قرار دیا:
مسلمِ اوّل، شہِ مرداں علی
عشق کو جس نے بنایا ہے جلی
حضرت علیؓ کی ولادتِ کعبہ، بے مثال شجاعت اور اصولی زندگی اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام میں اصل عظمت طاقت نہیں بلکہ حق، عدل اور ایمان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہی پیغام حضرت علیؓ نے اپنے عمل سے دیا اور یہی پیغام آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

