Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Mehnat Kash o Mazdoor: 1886 Se 2026 Tak

Mehnat Kash o Mazdoor: 1886 Se 2026 Tak

محنت کش و مزدور: 1886 سے 2026 تک

دنیا بھر میں یکم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے مگر یہ دن محض ایک رسم نہیں بلکہ محنت کشوں کی ایک تاریخ، ایک قربانی اور ایک مسلسل جدوجہد کی علامت ہے۔ اگر ہم 1886 سے 2026 تک کا سفر دیکھیں تو ہر چیز بدل چکی ہے مگر حقیقت میں محنت کش آج بھی کئی محاذوں پر اُسی جدوجہد میں مصروف ہیں جو اُنہوں نے 1886 میں شروع کی تھی۔

محنت کشوں کی اپنے حقوق بارے آواز بلند کرنا اور مطالبات منوانا ہمیں 1886 کے امریکہ میں شکاگو کی سڑکوں پر لے جاتی ہے۔ شکاگو اس وقت صنعتی انقلاب میں اپنے عروج پہ تھا۔ مگر اس ترقی کے سفر میں محنت کشوان اور مزدوروں کا استحصال بھی بہت زیادہ ہو رہا تھا۔ صنعتوں میں 12 سے 16 گھنٹے کام لینا معمول بن چکا تھا۔ مزدور کی اجرت کم اور حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے اور کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔ آخر اُس نظام سے تنگ آ کر مزدوروں نے 8 گھنٹے اوقاتِ کار کے لیے منظم انداز میں آواز بلند کرنا شروع کر دی۔ اس تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں البرٹ پارسنز (Albert Parsons) اور آگسٹ سپائیز (August Spies) شامل تھے جنہوں نے مزدوروں کو منظم کیا اور اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سکھایا۔

یکم مئی 1886 کو شروع ہونے والی ہڑتال نے 3 اور 4 مئی کو ایک خونی موڑ اختیار کیا جب "مارکیٹ اسکوائر" میں ایک جلسہ منعقد تھا جو کہ تصادم میں بدل گیا۔ جلسے میں بم دھماکہ ہوا، پولیس فائرنگ ہوئی اور کئی مزدور جان کی بازی ہار گئے۔ بعد ازاں مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور بعض کو پھانسی دے دی گئی۔ مگر ان کی قربانی رائیگاں نہ گئی دنیا نے بالآخر 8 گھنٹے کام کے اصول کو تسلیم کر لیا۔

آج 2026 میں ہم ایک ترقی یافتہ دنیا کا حصہ ہے جہاں قوانین موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا انصاف بھی موجود ہے؟ پاکستان میں مزدور و محنت کش تقریباً 7 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہیں جن میں سے لگ بھگ 60 سے 65 فیصد غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو کسی باقاعدہ معاہدے، سوشل سیکیورٹی یا پنشن کے بغیر کام کرتا ہے۔ کم از کم اجرت کا اعلان تو کیا جاتا ہے مگر اس پر عملدرآمد اکثر کاغذوں تک محدود رہتا ہے۔ نہ ہی یہ لوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی پہ آواز بلند کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی قانونی کاروائی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں ایک غیر تحریری مگر طاقتور نظام موجود ہے جسے عام زبان میں "سیٹھ کلچر/نظام" کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں مزدور کو ایک مشین سمجھا جاتا ہے، جس سے زیادہ سے زیادہ کام لیا جائے اور کم سے کم معاوضہ دیا جائے۔ اوور ٹائم اکثر بغیر ادائیگی کے کروایا جاتا ہے اور اگر کوئی مزدور آواز اٹھائے تو اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ قانونی طور پر اوور ٹائم کا معاوضہ دینا لازم ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں مزدور روزانہ اضافی گھنٹے کام کرتے ہیں اور اس کا کوئی معاوضہ نہیں پاتے۔ یہ استحصال اب کھلے عام نہیں بلکہ ایک منظم خاموشی کے ساتھ جاری ہے۔

اسلام نے مزدور اور محنت کش کو انتہائی عزت دی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو"۔ یہ تعلیم نہ صرف انصاف بلکہ فوری ادائیگی اور انسانی وقار کی ضمانت دیتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں دیانتداری، انصاف اور حقوق العباد پر زور دیا گیا ہے جس میں محنت کش کے حقوق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ خلفائے راشدین کے ادوار میں مزدور کے ساتھ حسنِ سلوک اور اس کے حقوق کی پاسداری کو ریاستی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ اگر آج ہم ان اصولوں کو حقیقی معنوں میں نافذ کریں تو معاشی ناانصافی کا بڑا حصہ خود بخود ختم ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں مختلف مزدور تنظیمیں اور یونینز محنت کشوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان میں پاکستان ورکرز فیڈریشن (PWF)، آل پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن (APTUF)، نیشنل لیبر فیڈریشن (NLF) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) قابل ذکر ہیں۔ یہ تنظیمیں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، اجرتوں میں اضافے، بہتر کام کے حالات اور قانون پر عملدرآمد کے لیے آواز بلند کرتی ہیں۔ تاہم ان کی رسائی اور اثر و رسوخ اب بھی محدود ہے، خاص طور پر غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے مزدوروں تک۔

اگر ہم حکومتی پالیسیوں پر نظر ڈالیں تو ماضی میں کچھ مثبت اقدامات بھی کیے گئے۔ 1970 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں مزدوروں کو یونین بنانے کا حق دیا گیا اور لیبر قوانین کو مضبوط کیا گیا۔ بعد ازاں نجکاری کے ادوار میں یہ تحفظ کمزور پڑ گیا۔ 18ویں ترمیم کے بعد لیبر قوانین صوبوں کے حوالے کیے گئے مگر عملدرآمد آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ یوں اگر 1886 اور 2026 کا موازنہ کیا جائے تو فرق واضح ہونے کے باوجود ایک مماثلت برقرار ہے، وہ ہے "محنت کش کی جدوجہد" جو ابھی تک جاری ہے۔ پہلے ادوار میں استحصال کھلم کھلا ہوتا تھا اور آج نظام کے پردے میں چھپا ہوا ہے۔

پہلے مزدور سڑکوں پر تھے، آواز بلند کرتے تھے، حقوق مانگتے تھے مگر آج وہ خاموش دباؤ کا شکار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم صرف یکم مئی کو تقاریر اور تعطیلات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ قوانین پر سختی سے عملدرآمد، مزدوروں کو بااختیار بنانا اور استحصالی رویوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب تک محنت کش خوشحال نہیں ہوگا ترقی کا ہر دعویٰ ادھورا ہی رہے گا۔

Check Also

Insaf Ya Intiqam?

By Shair Khan