Wednesday, 18 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rizwan Ahmad Qazi
  4. Basant: Patang Urana Bamuqabla Patang Katna

Basant: Patang Urana Bamuqabla Patang Katna

بسنت: پتنگ اڑانا بمقابلہ پتنگ کاٹنا

لاہور میں دو روزہ بسنت 7 اور 8 فروری کو منائی جا رہی ہے۔ ایک دن گزر چکا دوسرا آج ہے۔ چھتوں پر پتنگیں، گلیوں میں ڈھول، ہواؤں میں موسیقی اور سڑکوں پر جشن کا سماں ہے۔ مگر اسی ملک میں صرف ایک دن پہلے جمعہ 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں 31 افراد شہید اور 161 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ قوم ابھی لاشیں اٹھا رہی تھی، زخمی اسپتالوں میں کراہ رہے تھے، مائیں اپنے بیٹوں کو ڈھونڈ رہی تھیں پنجاب حکومت نے اپنی سرگرمیاں منسوخ کر دیں جبکہ کچھ حکومتی وزراء بسنت مناتے نظر آئے جبکہ لاہور میں بسنت کی خوشیاں جوں کی توں جاری رہیں۔ یہ منظر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے اجتماعی رویّے پر سنجیدگی سے سوال کریں! کیا کسی زندہ قوم کا ردِعمل ایسا ہی ہوتا ہے؟

بسنت برصغیر کا قدیم تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو تہذیب سے ملتی ہیں نہ کہ اسلامی تہذیب سے مگر بعد ازاں یہ روایت پنجاب میں پھیلی اور لاہور میں پتنگ بازی کے ساتھ منسلک ہوگئی۔ بعض حلقے اسے صوفی روایت سے جوڑتے ہیں اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا حوالہ دیتے ہیں کہ ان کے عہد میں امیر خسروؒ نے بہار کی آمد پر زرد لباس پہن کر خوشی کا اظہار کیا مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محض ایک ثقافتی اظہار تھا اسے کبھی بھی اسلامی تہوار کی حیثیت حاصل نہیں رہی۔ اولیاء اللہ کا پیغام ہمیشہ انسان دوستی، سادگی اور احتیاط رہا ہے نہ کہ شور و غوغا اور ایسے کھیل جن سے انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو۔

دنیا کے کئی ممالک جیسے چین، جاپان، کوریا اور تھائی لینڈ میں پتنگ محض تفریح کا ذریعہ ہے، وہاں پتنگ اڑائی (کائٹ فلائنگ) جاتی ہے نہ کہ پتنگ کاٹی (کائٹ فائٹنگ) جاتی ہے۔ پاکستان میں، خاص طور پر لاہور میں یہ کھیل مقابلہ بازی میں بدل گیا۔ ایک دوسرے کی پتنگ کاٹنے کے جنون نے ڈور کو باریک شیشے سے مانجھنے اور دھات سے بدل دیا جس کے نتیجے میں یہ تفریح موت کا کھیل بن گئی۔ موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹے، بچے چھتوں سے گر کر جان سے گئے، بجلی کے نظام متاثر ہوئے اور کئی گھرانے ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔ انہی المناک واقعات کے باعث 2007 میں حکومت کو "کائٹ فلائنگ ایکٹ" پاس کرکے بسنت پر پابندی لگانا پڑی۔

آخری باضابطہ بسنت 2003 میں منائی گئی اور اب 2026 میں سخت ایس او پیز کے تحت لاہور میں محدود پیمانے پر دوبارہ بسنت کی اجازت دی گئی ہے جس میں دھاتی اور کیمیکل مانجھے پر مکمل پابندی اور دیگر حفاظتی اقدامات شامل ہیں مگر محض قانون سازی کافی نہیں۔ اصل سوال ہمارے اجتماعی شعور کا ہے۔ جب تک ہم پتنگ کو تفریح کے بجائے جنگ سمجھتے رہیں گے ہر بسنت کسی نئے سانحے کا خدشہ لیے جنم لیتی رہے گی۔ میو ہسپتال انتظامیہ کےمطابق بسنت کے پہلے روز 2 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہو چکے ہیں جو پتنگ لوٹنے کے دوران کرنٹ لگنے، چھتوں سے گرنے اور ڈور پھرنے سے زخمی ہوئے۔

اسلام انسانی جان کو سب سے زیادہ محترم قرار دیتا ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں کوئی بھی ایسی سرگرمی جس سے دوسروں کی جان یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہو، ناقابلِ قبول ہے۔ علماء کرام واضح طور پر کہتے ہیں کہ بسنت چونکہ غیر اسلامی تہوار سے وابستہ ہے اور اس کے ساتھ جان و مال کا ضیاع بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ محض تفریح کے نام پر انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنا نہ دینی طور پر جائز ہے اور نہ اخلاقی طور پر درست۔

حضرت نظام الدین اولیاءؒ جیسے بزرگوں کا نام بسنت کے ساتھ جوڑنا بھی ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اگر ہم واقعی صوفی روایت کے امین ہیں تو ہمیں ان کے پیغامِ محبت، برداشت اور انسانیت کو اپنانا ہوگا، نہ کہ ایسی رسومات کو فروغ دینا جن کے نتیجے میں مائیں اپنے بیٹوں کے جنازے اٹھائیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک طرف ملک دہشت گردی کے زخم سہہ رہا ہے، شہداء کے گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہے اور دوسری طرف ہم ڈھول کی تھاپ پر ناچ رہے ہیں۔ کیا یہی قومی حساسیت ہے؟

کوئی بھی ثقافت انسانی جان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔ مہذب معاشرے وہ ہوتے ہیں جو تفریح کو سلامتی اور اجتماعی غم کے احترام کے تابع رکھتے ہیں۔ رنگین پتنگیں آسمان کو ضرور خوبصورت بنا دیتی ہیں، مگر وہ ڈور جو کسی کا گلا کاٹ دے اور وہ جشن جو شہداء کے خون سے بے نیاز ہو، کسی تہذیب کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ حقیقی خوشی وہ نہیں جو چند لمحوں کی ہوتی ہے، بلکہ وہ ہے جو انسانوں کو محفوظ رکھے۔

اگر بسنت کی قیمت انسانی جان ہے اور اگر ہمارے تہوار ہمارے شہداء کی چیخیں دبانے لگیں تو پھر اس سے اجتناب ہی عقل، اخلاق اور دین تینوں کا تقاضا ہے۔ ہمارا فرض قوم میں شعور بیدار کرنا اور انہیں محفوظ، باوقار اور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تفریح کے درست اصولوں سے آگاہ کرنا ہے، تاکہ ہمارے اسلامی اور ملی تشخص کو کوئی گزند نہ پہنچے۔

Check Also

The Sands Of Time

By Rauf Klasra