Solar Sarfeen Par Naya Sitam Kyun?
سولر صارفین پر نیا ستم کیوں؟

28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور کوئی ملک بھی اس سے مستثنیٰ نہیں لیکن مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کے ممالک میں ہا ہا کار مچی ہے، جو آگ پٹرول اور گیس نے لگائی ہے اس میں عام آدمی کی زندگی ہر آن انگاروں پر لوٹ رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہر خطہ کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔
اس سال بھی پاکستان میں گرمی کی شدت میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔ ایسے میں وہ لوگ جن کے پاس تھوڑی بہت جمع پونجی تھی انہوں نے اس عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لئے جیسے تیسے شمسی توانائی کے ذریعے اپنی زندگیوں کو اطمینان بخش بنانے کے لئے سولر انرجی کی طرف رجوع کرنا شروع کردیا۔ حکومت نے بھی اس رجحان کی حوصلہ افزائی کے لئے باقاعدہ مہم چلائی جس کی کامیابی کے لئے ذرائع ابلاغ پر اربوں روپے کے اشتہار چلائے گئے اور جب عوام کی اکثریت اس طرف مائل ہوگئی تو ان کے خلاف شکنجہ کسا جانے لگا۔
ملک میں مہنگی بجلی، بار بار لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران کے باعث جب عوام نے اپنی جمع پونجی لگا کر سولر سسٹم نصب کیے تو اسے قومی مفاد کا قدم قرار دیا گیا۔ حکومت نے نہ صرف شمسی توانائی کی حوصلہ افزائی کی بلکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے صارفین کو یہ سہولت بھی دی کہ وہ اضافی بجلی قومی گرڈ کو فراہم کرکے اپنی لاگت کم کرسکیں۔ مگر اب نیپرا کی جانب سے سولر صارفین خصوصاً آن گرڈ صارفین کے لیے نئے ضابطے اور فیسوں کے نفاذ نے عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ کیا حکومت واقعی سستی بجلی پیدا کرنے والے شہریوں کی حوصلہ افزائی چاہتی ہے یا انہیں دوبارہ مہنگی بجلی کے نظام کا قیدی بنانا چاہتی ہے؟
حالیہ اطلاعات کے مطابق نیپرا نے نیٹ میٹرنگ اور گرین میٹر کے حوالے سے نئی شرائط عائد کی ہیں جن کے تحت نئے سولر صارفین کو نیپرا سے باضابطہ منظوری لینا ہوگی اور اس کے لیے ایک ہزار روپے فی کلوواٹ فیس ادا کرنا پڑے گی۔ یعنی اگر کوئی شہری دس کلوواٹ کا نظام لگاتا ہے تو اسے صرف اجازت کے لیے دس ہزار روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔ یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پہلے 25 کلوواٹ تک کے سسٹمز کے لیے یہ فیس نہیں تھی، مگر اب تمام نئے صارفین پر لاگو ہوگی۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پہلے ہی نیپرا نیٹ میٹرنگ کے نظام کو بدل کر "نیٹ بلنگ" کی طرف جا چکا ہے۔ پہلے صارفین اضافی بجلی گرڈ میں دے کر تقریباً اسی قیمت پر یونٹس ایڈجسٹ کروا لیتے تھے، مگر اب بجلی گرڈ کو کم نرخ پر فروخت ہوگی جبکہ صارفین کو گرڈ سے بجلی مہنگے نرخ پر خریدنا ہوگی۔
نئی پالیسی کے تحت اضافی بجلی تقریباً 11 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدی جائے گی جبکہ صارفین کو وہی بجلی 40 سے 50 روپے فی یونٹ کے حساب سے ملے گی۔ اس تبدیلی کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ سولر لگانے والے صارفین کی سرمایہ کاری کی واپسی کا دورانیہ بڑھ جائے گا اور نیٹ میٹرنگ کی کشش کم ہو جائے گی۔ جو نظام پہلے عوام کو توانائی کے بحران سے نکلنے میں مدد دے رہا تھا، اب اسی پر ایسے بوجھ ڈالے جا رہے ہیں جو لوگوں کو شمسی توانائی سے بدظن کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ نیپرا نے وضاحت کی ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ معاہدے رکھنے والے صارفین کی شرائط فوری طور پر تبدیل نہیں ہوں گی اور ان کے معاہدے اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہیں گے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ تمام موجودہ سولر صارفین پر فوری طور پر نئی فیسیں یا نئی نیٹ بلنگ لاگو کر دی گئی ہے۔ اصل تبدیلی نئے صارفین اور نئے کنکشنز کے لیے ہے۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود اصل مسئلہ برقرار ہے۔ اگر حکومت ایک طرف عوام کو متبادل توانائی اپنانے کی ترغیب دے اور دوسری طرف ریگولیٹری ادارے اس راستے میں رکاوٹیں کھڑی کریں تو عوام کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچتا ہے۔
بجلی کے بحران کے اس دور میں، جب صنعتی لاگت بڑھ رہی ہے اور گھریلو صارفین بھاری بلوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، شمسی توانائی ایک امید کی کرن تھی۔ اگر اس امید کو بھی بیوروکریسی اور اضافی محصولات کی نذر کر دیا گیا تو ملک توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہ تاثر ب مضبوط ہو رہا ہے کہ سولر صارفین کے لیے سختیاں دراصل مہنگے بجلی گھروں اور آئی پی پیز کے مفادات کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ جب صارفین اپنی بجلی خود پیدا کریں گے تو گرڈ سے خرید کم ہوگی، جس سے بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور مہنگے پیداواری معاہدوں پر دبائو پڑے گا۔
ایسے میں اگر سولر صارفین پر اضافی فیسیں، کم خریداری نرخ اور پیچیدہ ضابطے نافذ کیے جائیں تو عوام اسے ایک منصفانہ توانائی پالیسی نہیں سمجھیں گے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں درآمدی ایندھن پر انحصار پہلے ہی معیشت پر بھاری بوجھ ہے، وہاں شمسی توانائی کا فروغ قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ یہ نہ صرف درآمدی ایندھن کا بوجھ کم کرتا ہے بلکہ ماحول دوست توانائی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں قابلِ تجدید توانائی کو سبسڈی دیتی ہیں، جبکہ یہاں اس پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ یہ رویہ قومی توانائی پالیسی کے بنیادی مقاصد سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔
وفاقی حکومت اگرچہ اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیپرا ایک قومی ریگولیٹری ادارہ ہے اور اس کی پالیسیوں کے اثرات براہِ راست عوام اور معیشت پر پڑتے ہیں۔ اس لیے حکومت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ یہ نیپرا کا فیصلہ ہے۔ اگر نیپرا کے فیصلے عوامی مفاد کے خلاف جا رہے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مداخلت کرے اور ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو عوام اور قومی مفاد کے مطابق ہوں۔
شمسی توانائی کے صارفین کو اضافی مالی بوجھ سے بچانا اور نیٹ میٹرنگ پالیسی کو عوام دوست بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی توانائی بحران سے نکلنا چاہتی ہے تو اسے شمسی توانائی کے راستے میں رکاوٹیں نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔ بصورت دیگر مہنگی بجلی، عوامی بے چینی اور صنعتی بحران مزید گہرا ہوگا اور اس کا نقصان صرف صارفین کو نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کو اٹھانا پڑے گا۔

