Mazahmat Aur Tehzeebon Ki Jangen
مزاحمت اور تہذیبوں کی جنگیں
ہمارا نامزد کردہ ٹرمپ بہادر آٹھ، نو یا دس جنگیں رکوانے کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنے سب سے چہیتے اور گہرے یار نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کو ایک میمنا سمجھ کر ایک خونخوار بھیڑئیے کی طرح اس پر جھپٹ پڑا ہے جس کے نتیجہ میں پوری دنیا سہم کر رہ گئی، یہاں تک کہ ہم جیسے شاہین بھی۔ ایران کے رہبر اعلیٰ اور روحانی پیشوا اپنی اور اپنے خاندان کی شہادت کے بعد امام خمینی سے بھی زیادہ روحانی درجے پر فائز ہوچکے، جس کے بعد پوری دنیا کربلا اے کربلا کی دہائی دے رہی ہے۔ ہر طرف احتجاج، گریہ زاری اور ماتم بپا ہے۔
اپنی اعلیٰ قیادت کی شہادت کے بعد ایران حسینیت کی راہ پر گامزن ہوچکا اور شہادت یا زندگی اس کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ شہادت ہی اس کی منزل نظر آ رہی ہے۔ ٹرمپ اس وقت دنیا کا وہ انوکھا لاڈلا ہے جو ہر وقت کھیلن کو مانگ چاند۔ لیکن اب کی بار شاید چاند کے بجائے سورج اس کے ہاتھ پر رکھ دیا گیا جس کی تپش ساری دنیا محسوس کررہی ہے۔ ہرطرف ہاہا کار مچی ہے خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک اس آگ میں جل رہے ہیں۔
امریکہ کا ایران پر اچانک حملہ کوئی وقتی عسکری کارروائی نہیں، یہ ایک طویل سامراجی منصوبے کی کڑی ہے جس کا مقصد اسلامی دنیا کو ایک ایک کرکے غیر موثر بنانا، کمزور کرنا اور مزاحمت کی صلاحیت سے محروم کرنا ہے۔ تہران اور دیگر ایرانی شہروں میں ہونے والے دھماکوں کی گونج صرف عمارتوں تک محدود نہیں، یہ پوری امتِ مسلمہ کے شعور، ضمیر اور اجتماعی مستقبل پر حملہ ہے۔ ان حملوں میں شہریوں کا زخمی ہونا اس حقیقت کو مزید بے نقاب کرتا ہے کہ یہ جنگیں اب فوجوں کے درمیان نہیں رہیں بلکہ براہِ راست عوام کے خلاف لڑی جا رہی ہیں، گھروں، بازاروں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے ایک فطری ردعمل ہے لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ جواب دیا گیا یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ یہ جنگیں شروع کیوں ہوئیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ یہ جنگیں اس لیے نہیں ہوئیں کہ ایران خطے کے لیے خطرہ ہے، یہ اس لیے ہوئیں کہ ایران جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ یہ جنگیں اس لیے نہیں ہوئیں کہ امن خطرے میں ہے، یہ اس لیے ہوئیں کہ خودمختاری سامراجی نظام کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو عراق میں نظر آئی، افغانستان میں آزمائی گئی، شام میں دہرائی گئی، لیبیا میں مسلط کی گئی اور اب ایران میں کھل کر سامنے آ چکی ہے۔
یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی پالیسی چین کا تسلسل ہیں۔ یہ حادثات نہیں، منصوبہ بندی ہیں۔ یہ ردعمل نہیں، تسلط ہے۔ عراق میں لاکھوں مسلمان قتل کیے گئے، افغانستان میں نسلیں اجاڑ دی گئیں، شام میں شہر ملبے میں بدل دیے گئے، لیبیا میں ریاستی ڈھانچہ توڑ کر پورے معاشرے کو انتشار میں دھکیل دیا گیا۔ یہ صرف جنگیں نہیں تھیں بلکہ پورے معاشروں کی تباہی تھی۔ معیشتیں برباد ہوئیں اور ریاستیں کمزور کرکے عالمی طاقتوں کے تابع بنا دی گئیں۔ امریکی مداخلت کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ ہلاکتیں لاکھوں میں ہیں، جن میں وہ عام مسلمان بھی شامل ہیں جو نہ کسی جنگ کا حصہ تھے نہ کسی محاذ پر موجود تھے مگر سامراجی پالیسیوں کی قیمت انہوں نے اپنی جانوں سے ادا کی۔
یہ حقیقت اب ناقابلِ انکار ہے کہ امریکی پالیسی کا ہدف ہمیشہ وہ اسلامی ممالک رہے ہیں جو خودمختار خارجہ پالیسی رکھتے ہوں، مزاحمتی صلاحیت رکھتے ہوں، دفاعی طاقت رکھتے ہوں اور وسائل سے مالا مال ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ عراق افغانستان، شام، لیبیا اور اب ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک منظم حکمتِ عملی ہے جس کے تحت ہر اس ریاست کو توڑا جاتا ہے جو عالمی طاقت کے سامنے جھکنے سے انکار کرے۔ آج بھی بعض حلقے اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ کوئی اسلامی ملک محفوظ ہے، کہ یہ جنگ کسی ایک ریاست کا مسئلہ ہے، کہ یہ ایک محدود تنازع ہے۔ یہ سوچ محض سادہ لوحی نہیں بلکہ خطرناک خود فریبی ہے۔ سامراج کبھی ایک پر رک کر مطمئن نہیں ہوتا۔ طاقت کا نشہ حد نہیں پہچانتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جو طاقت مزاحمت کو کچلتی ہے، وہ اگلے ہدف کی تلاش فوراً شروع کر دیتی ہے۔ امریکہ نے ان تمام مسلم ممالک کو یا تو توڑ دیا ہے یا غیر موثر بنا دیا ہے جو اس کی جارحیت کا موثر جواب دے سکتے تھے۔ آج خطے میں عملی مزاحمتی صلاحیت رکھنے والے ممالک میں صرف ایران اور پاکستان باقی بچے ہیں۔ ایران پر حملہ اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ جنگ وسائل پر لڑی جاتی ہے۔ یہ جنگ تیل پر لڑی جاتی ہے، گیس پر لڑی جاتی ہے، معدنیات پر لڑی جاتی ہے، جغرافیے پر لڑی جاتی ہے اور عالمی کنٹرول پر لڑی جاتی ہے۔
امریکہ عراق اور شام کے تیل کے ذخائر پر عملی کنٹرول حاصل کر چکا ہے، افغانستان جغرافیائی دبائو اور خطے کی نگرانی کا مرکز بن چکا ہے، لیبیا توانائی کی عالمی سیاست میں ایک مہرہ بن چکا ہے۔ ان جنگوں کے نتیجے میں نہ صرف لاکھوں مسلمان جان سے گئے بلکہ کھربوں ڈالر کے وسائل، توانائی ذخائر، تجارتی راستے، اسٹریٹجک علاقے اور معاشی مفادات عالمی طاقتوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو گئے۔ یہ جنگیں معاشی قبضہ تھیں، یہ وسائل کی جنگ تھیں، یہ عالمی بالادستی کی جنگیں تھیں۔ یہ امر بھی باعث توجہ ہے کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے بعد کیا۔ جو اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کی دلیل ہے اسلامی دنیا کی سب سے بڑی کمزوری اس کی خاموشی ہے، اس کی سب سے بڑی غلطی اس کی غیر جانبداری ہے اور اس کی سب سے بڑی تباہی اس کا باہمی انتشار ہے۔ اب جب ایران پر حملہ ہوا ہے تو بیشتر دارالحکومت خاموش ہیں۔ یہ خاموشی حکمت نہیں، یہ خودکشی ہے۔ یہ غیر جانبداری دانشمندی نہیں، یہ غلامی ہے۔ یہ خاموشی امن نہیں، یہ اگلی باری کی تیاری ہے۔
یہ جنگ ایران کی نہیں، یہ امت کے وجود کی جنگ ہے۔ یہ جغرافیے کی جنگ نہیں، یہ شناخت کی جنگ ہے۔ یہ ریاستوں کی جنگ نہیں، یہ تہذیبوں کی جنگ ہے۔ اگر آج بھی اسلامی دنیا نے اجتماعی قدم نہ اٹھایا، اگر آج بھی مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی نہ بنی، اگر آج بھی مشترکہ سفارتی موقف نہ اختیار کیا گیا، اگر آج بھی مشترکہ سیاسی بیانیہ تشکیل نہ پایا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ ایران کے بعد کس کی باری آئے گی، بیانات سے نہیں ہوگا، قراردادوں سے نہیں ہوگا بلکہ وسائل، دفاعی طاقت، جغرافیہ اور مزاحمتی صلاحیت سے ہوگا اور یہ فیصلہ اسلامی دارالحکومتوں میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں ہونا ہے۔ یہ وقت مذمت کا نہیں، حکمتِ عملی کا ہے۔ یہ وقت خوف کا نہیں، اتحاد کا ہے۔ یا تو اسلامی دنیا مل کر سامراجی جبر کے سامنے دیوار بنے، یا پھر تاریخ میں صرف مظلوموں کی فہرست بڑھتی جائے گی۔
کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ جنگ و جدل کا میدان صرف اور صرف مسلمان ممالک ہی ہیں باقی تمام مغربی دنیا میں سکون ہی سکون ہے اور مسلم امہ کے امیرترین اور وسائل سے مالامال ممالک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کئے ایک ایک کرکے خونی بلے کا شکار بنتے چلے جارہے ہیں لیکن اتحاد واتفاق ابھی تک نابود ہے بلکہ اس وقت مسلمان مسلمان کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ یہاں تک کہ افغان باقی کہسار باقی کا نعرہ لگانے والے اب خود ان افغانیوں کو نمک حرام قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف برسر پیکارہیں۔ مجاہدین اور مومنین فتنہ الخواج قرار پائے ہیں جن کی سرکوبی کا چیلنج اب ان کے لئے سب سے بڑا درد سر ہے۔

