Friday, 04 April 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Rao Ghulam Mustafa
  4. Awam Ke Masail Ka Hal Zaroori

Awam Ke Masail Ka Hal Zaroori

عوام کے مسائل کا حل ضروری

عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ ورلڈ بنک کے اندازوں کے مطابق سنہ 2026ء تک یہ شرح 40 فیصد سے اوپر رہنے کا امکان ہے۔ یہ اعداد و شمار معاشی سمت کو درست دھارے میں لانے والے حکمرانوں کے لئے غور و فکرکے متقاضی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں معاشی و سیاسی صورتحال نازک مراحل میں ہے۔

پاکستان کے موجودہ زمینی حقائق، جیسا کہ سیاسی و معاشی عدم استحکام اور امن و امان کی ناقص صورتحال میں معشیت کو استحکام دینا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ لیکن معاشی استحکام کے لئے کوئی سنجیدہ عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔ پاکستان کی معیشت کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ شارٹ ٹرم (قلیل مدتی) اہداف ہونا چاہئیے۔ حکومت کی توجہ ایسے اہداف پر ہے جو لانگ ٹرم (طویل مدتی) ہیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مقرر کئے گئے شارٹ ٹرم اہداف حاصل نہیں کئے جا رہے جیسا ٹیکس کی وصولی وغیرہ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ ملک کسی بڑے اہداف کی طرف بڑھ پائے۔ ایسے اہداف کا حصول شفافیت، استقامت اور عوامی شمولیت کے بغیر ہر گز ممکن نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ قرض کی بیساکھیوں پر کھڑے ہو کر ترقی و خوشحالی کے بلند آہنگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ اقتدار میں آنے والا حکمران آئی ایم ایف سے قرض پروگرام نہ لینے کی یقین دہانیاں کرواتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے حکمران 25 بار یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ پروگرام آخری ہے اور حقیقت یہ ہے پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ 25 بار آئی ایم ایف پروگرام حاصل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔

ضرورت ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی جانب سے شارٹ ٹرم اہداف کے حصول پر کام کرے جو اس وقت حاصل نہیں ہو پا رہے۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے طویل مدتی اہداف کے حصول کو ممکن بنانا قطعی ناممکن ہے۔ ملک میں بے روزگاری، مہنگائی، غربت میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ کچھ دن قبل اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ کیا گیا۔ یہ اضافہ غیر معمولی ہی نہیں بلکہ غریب عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ پاکستان جیسے غریب اور ترقی پذیر ملک جہاں کی بڑی آبادی خط غربت کے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ وہاں عوام کے نمائندوں کا تنخواہ میں اضافہ کی مد میں قومی خزانے پر بوجھ ڈالنا المیہ ہے۔

ایک طرف مزدور کو خون پسینہ بہانے کے باوجود اس کی مقررہ اجرت بھی وقت پر نہیں ملتی اور دوسری طرف عوام کے نمائندے مراعات سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ قانونی بلوں کی منظوری کے ذریعے طبقہ اشرافیہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ ڈیڑھ کروڑ غریبوں کے چولہے دو وقت کی روٹی میسر نہ ہونے کے باعث ٹھنڈے پڑے ہیں۔ اس طبقے کا مقصد حیات مفادات، اختیارات اور اقتدار کا حصول ہے۔

جمہوری ممالک میں جمہوریت کو مکمل کرنے کے کچھ لوازمات ہوا کرتے ہیں جہاں جمہور کے مفادات اور بنیادی حقوق کو اشرافیہ اپنا حق سنجھ کر سلب کرے وہ معاشرے جمہوری نہیں ہوا کرتے۔ عام آدمی جب کوئی چیز خریدنے کے لئے مارکیٹ جاتا ہے تو بے پر قیمتوں کا سن کر اس کے ہوش ٹھکانے نہیں رہتے۔ مارکیٹ کے اندر ایک ایسا مافیا مسلط ہے جو مانیٹرنگ کے طریقہ کار متحرک نہ ہونے کے باعث بے دھڑک عام آدمی کی جیب پر نقب لگا رہا ہے۔

پہلے تحصیل سطح پر اسسٹنٹ کمشنر کے زیر اہتمام پرائس کنٹرول کمیٹیاں ہوتی تھیں لیکن اب ان کا کردار ختم کر دیا گیا۔ جس کے باعث ہر دوسرے دوکاندار نے اپنا من پسند ریٹ مقرر کیا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں مقامی سطح کی چھوٹی چھوٹی مارکیٹیں ہیں جو مہنگائی کو کم کرنے کے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے باعث مہنگائی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں۔ مارکیٹوں میں موجود ذخیرہ اندوز مافیا اشیائے خوردونوش ذخیرہ کرکے مارکیٹ میں قلت پیدا کرتا یے اور جیسے ہی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے وہ اپنا دو گنا منافع سمیٹ لیتا ہے۔

پاکستان میں مناپلی کنٹرول اتھارٹی تو موجود ہے لیکن وہ کیا کرتی ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ ملک میں مہنگائی کے بے لگام ہونے کی بڑی وجہ انتظامیہ کی لوز منیجمنٹ ہے۔ بیوروکریسی اپنے دفاتر سے نکل کر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے مارکیٹوں کو ذخیرہ اندوز مافیا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ جو حکومت کی گورننس کو گہنا رہے ہیں مہنگائی مسئلہ نہیں یہ بحران بے روزگاری میں اضافہ کے باعث تقویت پکڑ رہا ہے۔ لوگ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث خودکشیوں پر مجبور ہو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ روزگار کے مواقع پیدا کرے تاکہ غریب کا چولہا جل سکے۔

ایسے الارمنگ حالات پیدا ہو چکے ہیں جس سے آئے دن بے یقینی کی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کے اولین اہداف میں شامل ہونا چاہئیے۔ جب عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہوگا تو عام آدمی کے قومی دھارے میں شامل ہونے سے ملکی ترقی و خوشحالی کو دوام ملے گا۔ ملک اس وقت بحرانی کیفیت سے گزر رہا ہے لیکن حکمرانوں کو چاہئیے کہ عام آدمی کی حیات کو آسودہ بنانے کے لئے بھی ترجیحی اقدامات کرے۔

ضلع سطح پر پرائس کنٹرول کمیٹیاں فعال بنائی جائیں مافیاز کو لگام دی جائے تاکہ عام آدمی کا چولہا جل سکے۔ اشد ضرورت ہے قلیل مدتی اہداف حاصل کرکے ملکی معشیت کے ساتھ عام آدمی کو سنبھالا دیا جائے۔ تاکہ ملکی معشیت کو استقامت کے ساتھ عام آدمی کی زندگی میں بھی آسودگی آسکے۔ اب دیری کی گنجائش نہیں ہے عام آدمی مسائل کی دلدل میں پور پور ڈوب چکا ہے۔ پاکستان میں پیسے کے بہاؤ میں بھی کمی واقع ہو چکی ہے۔ لوگ غیر یقینی حالات کی وجہ سے پیسے کو روک کر بیٹھے ہیں۔ نئی گاڑیوں اور زمینی جائیداد کی خرید و فروخت نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کے باعث مارکیٹ میں پیسے کی گردش رک گئی ہے۔

مہنگائی، بے روزگاری، غربت ایسے مہلک مسائل ہیں جن کا تدارک وقت کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کا منصب ان سے صرف باتوں کی نہیں عملی اقدامات اور نتائج کا تقاضا کرتا ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ ملکی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے واضح منصوبہ بندی کرتے ہوئے ملک کو مسائل کے بحران سے نجات دلائے۔

Check Also

Apni Zanjeeren Hamen Khud Torna Hongi

By Nusrat Javed