Neki Karna Chor Dein
نیکی کرنا چھوڑ دیں

ہم جب کسی کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں اور جواب میں وہ ہمیں اپنے شر میں مبتلا کر دیتا ہے۔ پھر ہم اس کی طرف سے شر، نفرت یا بدسلوکی کا سامنا کرتے ہیں تو ہمارے اندربد دلی کا ایک فطری ردِعمل جنم لیتا ہے یہ بددلی آہستہ آہستہ ہمارے عمل پر اثرانداز ہوتی ہے اور ہم نیکی سے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ نیکی سے بدک جاتے ہیں اور بہت سے لوگ سب کے ساتھ رویہ ایک جیسا کر لیتے ہیں۔ وہ بظاہر خود کو اس تکلیف سے بچا رہے ہوتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ محبت، اخلاص اور حسن سلوک کے بدلے میں ملی ہو۔ درحقیقت حدود طے کرنے اور نیکی سے بددل ہونے میں فرق ہے۔
حدود طے کرنا مثبت جب کہ بددل ہونا منفی عمل ہے۔
انسان نیکی کیوں کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہر شخص کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ کوئی اللہ کی رضا کے لیے نیکی کرتا ہے، کوئی اپنے ضمیر کے سکون کے لیے، کوئی معاشرتی ذمہ داری کے احساس کے تحت اور کوئی محض اس لیے کہ اس کی سرشت میں بھلائی ودیعت ہے۔ مگر ان تمام وجوہات میں ایک قدر مشترک ہے، نیکی کرنے کا فیصلہ نیکی کرنے والے کا ذاتی، داخلی اور آزادانہ فیصلہ ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ اس شخص کے رویّے سے مشروط نہیں ہونا چاہیے جس کے ساتھ نیکی کی گئی ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نیکی سراسر ذاتی معاملہ ہے۔ یہ ہماری نیت، ہماری کیفیات اور ہماری اخلاقی سمت کا اظہار ہے۔ جب ہم نیکی کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنی باطنی کیفیات کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے اگر کوئی شخص ہماری نیکی کے جواب میں اپنی برائی، نفرت یا محرومی ہم پر انڈیل یا تھوپ دیتا ہے تو وہ اس کی داخلی کیفیات کا اظہار ہے، نہ کہ ہماری نیکی کی نفی نہ ہماری کیفیات کا عکس۔ اس کی منفی کیفیات کا بوجھ اٹھانا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم صرف اپنے عمل کے ذمہ دار ہیں۔
دیکھا جائے تو یہ صورتِ حال اخلاقی خودمختاری (Moral Autonomy) کا امتحان ہے۔ اگر ہماری نیکی دوسروں کے ردِعمل پر کھڑی ہو تو ہم اپنے اخلاقی فیصلے کی خودمختاری کھو بیٹھتے ہیں۔ کانٹ کے نزدیک اخلاقی عمل وہ ہے جو اصول کے تحت ہو، نہ کہ نتیجے کے خوف یا لالچ کے تحت۔ اسی طرح نیکی بھی تب ہی خالص رہتی ہے جب وہ جواب کی توقع سے آزاد ہو۔
ایسے لوگ یا ایسے تجربات جن سے نیکی کے بدلے برائی ملتی ہے، دراصل شیاطین کے حربے ہیں خواہ وہ خارجی ہوں یا ہمارے اپنے نفس کے اندر جنم لینے والے۔ ان کا مقصد ہمیں بدکانا، تھکانا اور اس راستے سے ہٹانا ہے جس میں صبر، ضبط اور خیر خواہی شامل ہے۔ اگر ہم ہر منفی تجربے کے بعد نیکی ترک کر دیں تو ہم نادانستہ طور پر اسی حربے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ بارہا اچھے کام میں رکاوٹ اور شر کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن دوسروں کے برے کاموں میں کبھی رکاوٹ نہیں دیکھی۔ اس لیے کہ جب ہم اچھے کام کا ارادہ کرتے ہیں اس میں رکاوٹیں آتی ہیں۔
یہاں ایک باریک مگر اہم نکتہ بھی ہے نیکی کا مطلب خود کو پامال کروانا نہیں۔ حکمت کے بغیر کی گئی بھلائی، جو اپنی حدود اور ببیلنس میں نہ ہو انسان کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ نیکی کے ساتھ حدود (Boundaries) اور فہم کا ہونا بھی ضروری ہے۔ ہم خیر خواہی کر سکتے ہیں مگر خود کو دوسروں کے شر کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا نیکی نہیں بلکہ خود فریبی ہے۔
جہاں سے آپ کو خیر کے بدلے شر ملا ہو وہ راستے ترک کر دیں۔ ان لوگوں سے فاصلہ کر لیں۔ ان پر کبھی بھی اعتماد دوبارہ نہ کریں۔ لیکن سب کو ایک جیسا سمجھ کر یا خود کو تکلیف سے بچانے کے لیے نیکی کرنا نہیں چھوڑنی چاہیے۔ کہ مجھ سے دس لوگوں نے پچاس لوگوں نے ایسا کیا لہذا اب میں یہ ترک کر رہا ہوں۔ دنیا اربوں لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ اس کائنات کی وسعت میں وہ مقام دیکھیں، چار پانچ لوگ؟ جن سے ہمیں اذیت ملی جنھوں نے ہماری نیکی کے بدلے میں ہمیں اپنے شر میں مبتلا کیا؟ ان کا مقام کیا ہے وہ کہاں کھڑے ہیں۔
جب آپ اس وسعت میں دیکھیں گے تو ان کی حیثیت زرہ بھر بھی نہیں رہ جائے گی۔ اربوں لوگوں کے درمیان وہ لوگ کچھ بھی معنی نہیں رکھتے۔ نیکی یہ وسعت رکھنے والا عمل ہے۔ خیر کی تقسیم مشکل جب کہ شر کا راستہ آسان ہے۔ بالآخر مسلئہ یہ نہیں کہ لوگ ہماری نیکی کے ساتھ کیا کرتے ہیں، بلکہ اصل ایشو یہ ہے کہ ہم اپنی نیکی کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ کیا ہم اسے وقتی ردِعمل کی نذر کر دیتے ہیں یا اسے ایک مستقل اخلاقی قدر کے طور پر زندہ رکھتے ہیں؟ نیکی اگر اصول بن جائے تو حادثات اسے مٹا نہیں سکتے اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسان شیطانی حربوں پر غالب آ جاتا ہےخاموشی، وقار اور مسلسل خیر کے ذریعے۔۔

