Thursday, 27 March 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Qurratulain Shoaib
  4. Imandari Aik Bojh

Imandari Aik Bojh

ایمانداری ایک بوجھ ہے

چند دن پہلے میٹنگ کے دوران ایک بڑے عہدیدار سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو، انہوں نے ایک ایسا نقطہ اٹھایا جو نہ صرف حیران کن تھا بلکہ اس سے اداروں کی حقیقت اور ان کی اندرونی سوچ کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوکری کے لیے ہمارے پاس دو قسم کے لوگ آتے ہیں ایک ایماندار اور دوسرے کرپٹ۔

ایماندار لوگ اپنے آپ کو مخلص اور ایماندار بتاتے ہیں اور ان کی سی وی کو ہم اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کی ایمانداری کو مزید محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ جملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کی نظر میں ایمانداری کسی کی صلاحیت یا کام کا معیار نہیں بلکہ ایک اضافی بوجھ ہے۔ دوسری طرف انہوں نے کہا کہ کرپٹ افراد جو تھوڑی بہت کرپشن کر لیتے ہیں ہم انھیں ترجیح دیتے ہیں۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ وہ "اپنے ہنر سے" کما کر لائیں گے۔ ان کی کرپشن پر بھی بعد میں چیک اینڈ بیلنس رکھ سکتے ہیں۔

یہ گفتگو مجھے جھنجھوڑ گئی۔ ایک بڑے عہدیدار کی یہ سوچ ہے؟ اس کا مطلب کیا ہے؟ کہ کرپشن کو ایک "آگے بڑھنے کی حکمت عملی" کے طور پر سمجھا جائے؟ ان کے نزدیک کرپشن محض ایک معمولی خرابی ہے جو کام کی استعداد میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سوچ کے تحت نہ صرف اداروں میں کرپشن کو فروغ مل رہا ہے بلکہ اس کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے۔

اگر بڑے عہدیداروں کی سوچ یہ ہوگی تو پھر ایک نیا سوال اٹھتا ہے، کیا یہ کرپٹ سوچ اداروں کی کارکردگی اور ملک کی معیشت پر منفی اثرات مرتب نہیں کرے گی؟ جب بڑے عہدیدارکرپشن کو ایک معمولی سی بات سمجھنے لگیں گے، تو ان کے ماتحت افراد کی تربیت اور سوچ کس سطح تک پہنچے گی؟

دوسری طرف انہوں نے ایمانداری کو اس ایک بات سے بے وقعت کر دیا۔

عالمی اداروں میں کرپشن کے حوالے سے بہت سخت قوانین اور ضوابط موجود ہیں، کیونکہ یہ ادارے شفافیت اور ایمانداری کو اپنے آپریشنز کا بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔ ان اداروں میں کرپشن کی روک تھام کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جاتے ہیں، جن میں قانونی، اخلاقی اور مالیاتی ضوابط شامل ہیں۔ پاکستان کی ایک بڑی ٹوباکو کمپنی کے دو عہدیداروں کو جن کی تنخواہیں تین سے چار لاکھ کے لگ بھگ تھیں، صرف اس بات پر فارغ کر دیا گیا کہ ان کی جیب سے دفتر سے جاتے ہوئے صرف دو سو روپے کا وہ سامان برآمد ہوا جو لے کر جانا ممنوع تھا۔ ان کے سسٹم میں شفافیت کے نظام کی وجہ سے ہی وہ آج ایک بین الاقومی کمپنی ہے۔

ہم لوگوں کو چھوٹی موٹی کرپشنز کا کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کرپشن چھوٹی موٹی نہیں ہوتی۔ کرپشن کرپشن ہوتی ہے اور جس نے چھوٹی کرپشن کی اس کی رسائی جب ہوگی وہ بڑی کرپشن بھی کرے گا۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ جب تک ہم اس نوعیت کی سوچ کو نہ بدلیں گے، تب تک اداروں میں کرپشن کا بڑھنا اور اس کی پذیرائی مشکل نہیں ہوگی۔ ہم سب کو اس بات کا شعور حاصل کرنا ہوگا کہ اداروں کی ترقی اور ملک کی خوشحالی کا راستہ ایمانداری اور شفافیت سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ کرپشن سے۔ ہمیں ایماندار لوگوں کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان پر انویسٹ کرنا چاہیے بھلے سکلز بھی سکھانے پڑیں تو ہمیں ان کو ہی ہر صورت کرپٹ لوگوں پر اہمیت دینی چاہیے۔ کرپٹ لوگوں کو بتانا ہوگا کہ وہ نظام میں فٹ نہیں آ سکتے۔

یہ صرف ایک نقطہ نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ گہرے اثرات مرتب کرنے والی حقیقت ہے۔ ہمیں اداروں کے سربراہان کی سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک بہتر اور ایماندار معاشرتی نظام مل سکے۔ ایمانداری کو کرپٹ مائینڈ سیٹ پر فوقیت ہونی چاہیے۔ چاہے ایماندار لوگ کم صلاحیتوں کے مالک کیوں نہ ہوں۔ ہمیں انھیں اپنے نظام کا حصہ بنانا چاہیے۔ یہ ایک قومی بیانہ بن چکا ہے کہ کرپٹ لوگ کرپشن کرتے ہیں تو کما کر بھی تو لاتے ہیں۔ کھاتے ہیں تو لگاتے بھی ہیں اس سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی ایمانداری ہمارا قومی شعار بن سکتا ہے۔

Check Also

Mera Ishq (2)

By Abdullah Rauf