Madaris Ka Mustaqbil, Munazron Se Tehqeeq Tak Ka Safar
مدارس کا مستقبل، مناظروں سے تحقیق تک کا سفر
پاکستان میں مذہبی مدارس کا نظام ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ یہ مدارس لاکھوں طلبہ کو دینی علوم سکھاتے ہیں، انہیں قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے ہیں اور معاشرے میں دین کی روشنی پھیلانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ مدارس اس قوم کو مستقبل کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار کر رہے ہیں؟ کیا یہ درسگاہیں اپنے طلبہ کو دنیا کے جدید تقاضوں سے روشناس کر رہی ہیں؟ کیا یہاں سے نکلنے والے علما سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے جدید تصورات سے واقف ہیں؟ جواب افسوسناک حد تک نفی میں ہے۔
دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ آج مصنوعی ذہانت سے لے کر جینیٹک انجینئرنگ تک، ہر میدان میں حیران کن ترقی ہو رہی ہے۔ جدید دنیا کے ممالک اپنی تعلیمی پالیسیوں میں سائنسی تحقیقات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کو شامل کر چکے ہیں۔ یہودیوں نے اپنے مذہبی اداروں کو آپ ڈیٹ کیا، ویٹیکن نے اپنے تعلیمی مراکز کو جدید تحقیق کے ساتھ جوڑا، حتیٰ کہ ایران میں بھی دینی مدارس میں سائنسی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن پاکستان کے مدارس آج بھی وہی نصاب پڑھا رہے ہیں جو پانچ سو سال پہلے پڑھایا جاتا تھا۔ کیا صرف فقہ، تفسیر اور عربی گرامر پڑھ کر کوئی قوم ترقی کر سکتی ہے؟ کیا دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لیے صرف مناظروں کی مہارت کافی ہے؟
مدارس کے چندے پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ادارے مالی طور پر کمزور نہیں ہیں۔ عوام کی محبت اور عقیدت کی بدولت ان کے پاس ہر سال اربوں روپے جمع ہوتے ہیں، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ادارہ اپنے طلبہ کے لیے اسکالرشپ سسٹم متعارف نہیں کراتا۔ یہ مدارس لاکھوں روپے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں، لیکن کبھی کسی غریب طالب علم کو جدید یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالی مدد نہیں دیتے۔ انہیں اپنے طلبہ کو صرف مسجد کا امام، مدرسے کا استاد یا کسی دینی جماعت کا کارکن بنانا ہوتا ہے، اس سے آگے کا خواب دکھانے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔
یہ طرزِ عمل صرف مدارس کا نہیں، بلکہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہاں اگر کوئی طالب علم جدید سائنس پڑھنا چاہے تو اسے سیکولر قرار دے دیا جاتا ہے، اگر کوئی دینی طالب علم معیشت یا جدید ٹیکنالوجی کی بات کرے تو اسے گمراہی کا طعنہ دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسے مذہبی اسکالرز تو بڑی تعداد میں موجود ہیں جو مناظرے میں کسی کو لاجواب کر سکتے ہیں، لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ اسلامی معاشیات کی جدید دنیا میں کیا حیثیت ہے، یا ڈیجیٹل کرنسی کے بارے میں فقہ کیا کہتی ہے، تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر مدارس نے خود کو جدید دنیا کے مطابق نہ بدلا تو ان کے طلبہ صرف مخصوص دائرے میں ہی محدود رہیں گے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے نصاب میں جدید سائنسی اور سماجی علوم کو شامل کریں، اپنے طلبہ کے لیے جدید یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع پیدا کریں اور اسکالرشپ سسٹم متعارف کرائیں تاکہ غریب مگر ذہین طلبہ بھی عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔ یہ دنیا مناظروں سے نہیں، تحقیق، ایجاد اور علم کی روشنی سے جیتی جاتی ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے مدارس کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتے ہیں یا انہیں ایک ایسی روایت کے ساتھ جوڑے رکھنا چاہتے ہیں جو ہمیں ترقی کی دوڑ میں مزید پیچھے دھکیل رہی ہے۔ فیصلہ آج بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور کل بھی ہمارے ہاتھ میں ہوگا، مگر فرق صرف یہ ہے کہ اگر ہم نے آج فیصلہ نہ کیا تو شاید کل ہمارے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار بھی نہ رہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مدارس میں جدید علوم شامل کرنے کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے؟ سب سے بڑی رکاوٹ وہ روایتی سوچ ہے جو ہر نئی چیز کو بدعت اور ہر جدیدیت کو مغربی سازش قرار دیتی ہے۔ مدارس کے بڑے علما اکثر جدید تعلیمی اصلاحات کی مخالفت کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے جدید تصورات ان کے مذہبی بیانیے کے خلاف ہیں۔ حالانکہ دنیا کے کئی اسلامی ممالک نے مدارس میں جدید علوم شامل کرکے مذہب اور ترقی کو ساتھ لے کر چلنے کا کامیاب ماڈل پیش کیا ہے۔
اگر ہم سعودی عرب، ترکی، ملائیشیا اور یہاں تک کہ ایران کی مثال لیں تو وہاں کے دینی مدارس میں جدید سائنسی علوم کو لازمی نصاب کا حصہ بنایا جا چکا ہے۔ ان ممالک کے مذہبی طلبہ نہ صرف قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں بلکہ جدید معیشت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کا مذہبی طبقہ صرف وعظ و نصیحت تک محدود نہیں بلکہ وہ عملی طور پر ریاستی ترقی میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان میں مدارس کو جدید بنانے کے لیے چند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ مدارس میں ریاضی، سائنسی علوم، کمپیوٹر سائنس اور جدید معیشت کے بنیادی کورسز متعارف کرائے جائیں۔ دوسرا قدم مدارس کے اساتذہ کی جدید تربیت ہونی چاہیے تاکہ وہ اپنے طلبہ کو وقت کے بدلتے تقاضوں کے مطابق تعلیم دے سکیں۔ تیسرا قدم ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جس میں مدارس کے طلبہ کو ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ جدید تعلیم اور دینی علوم دونوں میں مہارت حاصل کر سکیں۔
یہ حقیقت ہے کہ مذہب اور ترقی ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیل کنندہ ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان اس وقت دنیا پر حکمرانی کر رہے تھے جب وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی ترقی میں بھی سب سے آگے تھے۔ آج اگر ہم نے اپنے مدارس میں جدید علوم شامل نہ کیے تو ہماری آئندہ نسلیں نہ صرف تعلیمی بلکہ سماجی، سیاسی اور معاشی میدان میں بھی پیچھے رہ جائیں گی۔ ہمیں اس خواب سے جاگنا ہوگا کہ صرف دینی تعلیم ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اصل کامیابی تبھی ممکن ہے جب دینی اور جدید تعلیم ایک ساتھ چلیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں علم کو کسی ایک دائرے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ہر میدان میں بروئے کار لایا جائے۔