Monday, 30 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Trump Ka Lehja, Muslim Ittehad Aur Qurani Haqaiq

Trump Ka Lehja, Muslim Ittehad Aur Qurani Haqaiq

ٹرمپ کا لہجہ، مسلم اتحاد اور قرآنی حقائق

عالمی سیاست کے اسٹیج پر جب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ واپسی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، سفارتی آداب اور بین الاقوامی تعلقات کے پرانے ضابطے کہیں گرد میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ٹرمپ نے سیاست کو محض ایک کاروباری سودا بنا دیا ہے، جہاں طاقتور کا لہجہ حق و انصاف کے بجائے تکبر اور تضحیک سے لبریز ہوتا ہے۔

حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم محترم شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم محترم میاں محمد شہباز شریف کے حوالے سے ان کے بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ محض انتخابی مہم کے جملے نہیں ہیں، بلکہ اس مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو دوسرے ممالک کو شراکت دار کے بجائے اپنا زیرِ دست یا ملازم سمجھتی ہے۔

ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ سعودی ولی عہد اب ان کے سامنے بہت نرم رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور وہ امریکی مفادات کے سامنے جھکنے پر مجبور ہیں، کسی بھی خوددار ملک کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کے حوالے سے ان کا یہ طنزیہ جملہ کہ "میاں شہباز شریف ہمارے بنا مر جاتا، بھارت نے اسے مار دینا تھا"، نہ صرف ایک آزاد ریاست کی تضحیک ہے بلکہ یہ اس عالمی چوہدراہٹ کا شاخسانہ ہے جو امداد اور دفاع کے نام پر دوسرے ملکوں کی غیرت کا سودا کرتی ہے۔

یہاں مجھے ایک لوک کہانی یاد آتی ہے جو آج کی عالمی سیاست اور ٹرمپ کے اس متکبرانہ لہجے پر بالکل صادق آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نحیف اور کمزور سے آدمی نے کسی طرح ایک نامی گرامی طاقتور پہلوان کو نیچے گرا لیا۔ وہ اس کے سینے پر چڑھ کر اسے مار بھی رہا تھا اور ساتھ ساتھ زار و قطار رو بھی رہا تھا۔ اتفاق سے وہاں سے ایک دانا شخص کا گزر ہوا۔ اس نے یہ عجیب و غریب منظر دیکھا کہ مارنے والا خود رو رہا ہے! اس نے حیرت سے پوچھا، "میاں! یہ کیا ماجرہ ہے؟ تم اسے مار بھی رہے ہو اور رو بھی رہے ہو؟ اب چھوڑ بھی دو اس غریب کو، کیوں اس کی جان کے پیچھے پڑے ہو؟"

اس کمزور شخص نے جو جواب دیا وہ آج کے دور کی عالمی سیاست کا نچوڑ اور ہماری مجبوری کا نوحہ ہے۔ اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا: "جناب! رو اس لیے رہا ہوں کہ اگر آج میں نے اسے چھوڑ دیا تو یہ مجھے نہیں چھوڑے گا اور چھوڑ اس لیے نہیں رہا کہ اگر یہ ایک بار اٹھ کھڑا ہوا تو دوبارہ کبھی میرے قابو میں نہیں آئے گا"۔

آج کی عالمی بساط پر ٹرمپ کا کردار اسی شخص جیسا ہے جو دنیا کو یہ دکھا رہا ہے کہ دیکھو یہ ممالک میرے قابو میں ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ان ممالک کے اندرونی خوف اور کمزوریوں سے کھیل رہا ہے۔ وہ ہمیں بھارت کا ڈر دکھا کر اپنی اہمیت جتاتا ہے تاکہ ہم ہمیشہ اس کے نیچے دبے رہیں اور وہ دنیا کو دکھا سکے کہ دیکھو میں کتنا طاقتور پہلوان ہوں۔

لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس تلخ حقیقت کو تسلیم کریں کہ یہ یہودی اور نصرانی کبھی ہمارے سچے ہمدرد نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر چرب زبانی سے ہمیں جھوٹا بھروسہ دیتے ہیں، جبکہ اندر سے یہ ہماری جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں۔ قرآن مجید نے صدیوں پہلے ان کی حقیقت کو ان الفاظ میں بے نقاب کر دیا تھا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الُيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوُلِيَاءَ ۘ بَعُضُهُمُ أَوُلِيَاءُ بَعُضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمُ فَإِنَّهُ مِنُهُمُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهُدِي الُقَوُمَ الظَّالِمِينَ

(اے ایمان والو! تم یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے ہی دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا، وہ یقیناً انہی میں سے (شمار) ہوگا، بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا)۔ (سورۃ المائدہ: 51)

آج وقت کی پکار ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنی چھوٹی موٹی رنجشیں بھلا کر ایک ہو جائیں۔ اب وقت کی ضرورت ہے کہ مسلم امہ ایک مشترکہ دفاعی اتحاد اور اپنی عسکری قوت تشکیل دے۔ جب تک ہماری اپنی ایک دفاعی طاقت نہیں ہوگی، ہم بڑی طاقتوں کے سامنے برابری کی سطح پر بات نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اپنے مفادات کی حفاظت اب خود کرنی ہوگی۔ اگر ہم ایک اسلامی بلاک بن کر ابھریں، تو نہ صرف ہم ایک نئی عالمی قوت بن سکتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے معاشی اور دفاعی مسائل کا حل بھی اپنے اندر سے ہی نکال سکتے ہیں۔

اگر ہم نے آج اس قرآنی حکمت کو نہ سمجھا اور اتحاد کی راہ اختیار نہ کی، تو تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اپنی بقا کے لیے غیروں کی محتاج ہو جاتی ہیں، ان کا نصیب صرف تضحیک اور تمسخر ہی رہ جاتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کو امداد کے سحر سے نکال کر اسلامی اخوت اور برابری کی بنیاد پر استوار کریں۔ اگر آج ہم نے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا، تو کل کی نسلیں ہمیں اس کمزور آدمی کی طرح یاد رکھیں گی جو مارتا تو تھا مگر اپنی بزدلی پر روتا بھی تھا۔

Check Also

Ataai Sahafi Hoshiyar Bash

By Shahid Nasim Chaudhry