Sunday, 29 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Sifarish, Ka Nasoor Aur Kam Zarf Ki Hukumrani

Sifarish, Ka Nasoor Aur Kam Zarf Ki Hukumrani

سفارش کا ناسور اور کم ظرف کی حکمرانی

حکیم لقمان نے انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں کو علم و حکمت کے جس ترازو میں تولا ہے، اس کی کڑوی بازگشت آج کے بگڑے ہوئے حالات میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ ان کا یہ فرمان کہ "زندگی میں موت سے بھی زیادہ تکلیف دہ وہ لمحہ ہے جب کوئی صاحبِ ظرف کسی کم ظرف کا محتاج ہو جائے"، محض ایک جملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا وہ رستا ہوا ناسور ہے جس نے اخلاقیات کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ آج ہم ایک ایسے دور کے اسیر ہیں جہاں قابلیت، شرافت اور ظرف کو جوتوں تلے روند کر کم ظرفی، چاپلوسی اور بدتہذیبی کے علم بلند کیے جا رہے ہیں۔ یہ وہ مقامِ عبرت ہے جہاں سچ بولنا خطا اور خاموش رہنا گناہ بن چکا ہے۔

معاشرے کی بدنصیبی کا سفر تب شروع ہوتا ہے جب انسانیت کے پیمانے بدل جاتے ہیں۔ جب علم کی جگہ دولت اور کردار کی جگہ مکاری لے لیتی ہے، تو صاحبِ ظرف گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ کم ظرفوں کے پاس وسائل آگئے ہیں، اصل المیہ تو یہ ہے کہ نظام کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دی گئی ہے اور ایک بااصول، غیرت مند اور وضع دار انسان اپنی بنیادی ضرورتوں یا جائز حق کے لیے ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے۔ یہ وہ ذہنی اور روحانی کرب ہے جس کا ماتم لفظوں میں ممکن نہیں، کیونکہ جب بونے قد آوروں پر مسلط کر دیے جائیں تو شعور دم توڑنے لگتا ہے۔

اس پورے نظام میں "سفارش" وہ زہرِ ہلاہل ہے جو میرٹ کے شفاف جسم میں انجیکٹ کر دیا گیا ہے۔ آج کا صاحبِ ظرف نوجوان، جس نے راتیں جاگ کر ڈگریاں حاصل کیں، جس کا سینہ علم کی روشنی سے منور ہے، وہ ایک ایسی سنگلاخ دیوار کے سامنے کھڑا ہے جسے گرانا اس کے بس میں نہیں۔ یہ دیوار سفارش اور پرچی کی ہے۔ جب ایک لائق اور باصلاحیت امیدوار کو کسی "کم ظرف" کی سیاسی یا شخصی بیساکھی کے سامنے شکست ہوتی ہے، تو وہاں صرف ایک نوکری کا قتل نہیں ہوتا، بلکہ ایک پورے خاندان کی امیدوں اور ایک پوری نسل کے اعتماد کا خون ہوتا ہے۔ سفارش دراصل کم ظرفی کا دوسرا نام ہے، کیونکہ جس میں اپنا ظرف اور اپنی قابلیت ہو، وہ کبھی بیساکھیوں کا محتاج نہیں ہوتا۔

سفارش کا یہ غلیظ کلچر جب سرکاری دفاتر سے نکل کر سماج کی رگوں میں اترتا ہے، تو معاشرہ بکھرنا شروع ہو جاتا ہے۔ جب ایک ایماندار استاد کو کسی جاہل اور سفارشی اہلکار کے سامنے سر جھکانا پڑے، جب ایک دیانتدار قلمکار کو کسی تہی دامن "ادبی مافیا" کی خوشامد کرنی پڑے اور جب ایک محنت کش کو اپنی حلال اجرت کے لیے کسی بدعنوان سیٹھ کی منتیں کرنی پڑیں، تو سمجھ لیں کہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ کم ظرف جب اختیار پاتا ہے تو وہ سب سے پہلے ظرف والے کی تذلیل کرتا ہے، کیونکہ اسے اپنی کم مائیگی کا احساس صرف بڑے ظرف والے کے سامنے ہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی کرسی کو ڈھال بنا کر اپنی جہالت چھپانے کی ناکام کوشش کرتا ہے، لیکن خوشبو اور سچائی کبھی مصلحتوں کی قید میں نہیں آتی۔

ہمارے گرد و پیش میں ایسی ہزاروں مثالیں بکھری پڑی ہیں۔ جھنگ کی گلیوں سے لے کر بورے والا کے بازاروں تک، ہر جگہ سفارش کا تماشہ لگا ہے۔ کہیں تھانے کچہری میں پرچی چل رہی ہے، تو کہیں ہسپتالوں میں غریب تڑپ رہا ہے اور کوئی سفارشی "خاص آدمی" ڈاکٹر کے کمرے میں پروٹوکول سمیٹ رہا ہے۔ یہ وہ سماجی ناانصافی ہے جو ایک سفید پوش انسان کے دل میں ریاست کے خلاف نفرت کے بیج بوتی ہے۔ جب صاحبِ ظرف کو پتہ چلتا ہے کہ اس کا حق اس لیے مارا گیا کیونکہ اس کے پاس کسی "طاقتور" کا فون نمبر نہیں تھا، تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے اور یاد رکھیے، ٹوٹا ہوا انسان معاشرے کے لیے اثاثہ نہیں، ایک سلگتا ہوا بارود بن جاتا ہے۔

ہمیں اس فرسودہ نظام کو بدلنے کے لیے محض الفاظ کا سہارا نہیں بلکہ عمل کی ڈھال چاہیے ہوگی۔ اگر ہم نے آج بھی میرٹ، کردار اور ظرف کی قدر نہ کی، تو یہ معاشرہ صرف "بونوں" کی بستی بن کر رہ جائے گا جہاں قد آور لوگ گھٹن سے مر جائیں گے۔ سفارش وہ لعنت ہے جو نااہلوں کو کلیدی عہدوں پر بٹھا کر پورے ادارے کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ ایک نااہل شخص کبھی بھی عوامی فلاح کا کام نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی وفاداری اپنے کام سے نہیں، بلکہ اس "پرچی" سے ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اس کرسی تک پہنچا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم لفاظی کے بت توڑ کر حقیقت کی دنیا میں آنکھیں کھولیں۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی، سفارش اور منافقت کے خلاف جب تک قلم کی نوک تیکھی نہیں ہوگی، تب تک تبدیلی کا خواب ادھورا رہے گا۔ ہمیں اپنے لہجے میں وہ کاٹ پیدا کرنی ہوگی جو باطل کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر سکے۔ اگر آج ہم نے اپنی انا کی خاطر خاموشی اختیار کیے رکھی، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ قلم اٹھانا صرف ایک مشغلہ نہیں، بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے جسے پوری دیانتداری سے نبھانا ہم سب کا فرض ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صاحبِ ظرف اپنی خاموشی توڑیں اور کم ظرفی و سفارش کے اس طوفان کے آگے بند باندھیں، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Check Also

Sifarish, Ka Nasoor Aur Kam Zarf Ki Hukumrani

By Peer Intizar Hussain Musawir