Salahuddin Ayubi Ki Ghairat, Istanbul Ki Khawateen Aur Hamari Khamoshi
صلاح الدین ایوبی کی غیرت، استنبول کی خواتین اور ہماری مصلحتیں

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک لرزہ خیز واقعہ روح کو تڑپا دیتا ہے۔ بیت المقدس کی آزادی کی تڑپ جب جوان ہوئی تو ایک مسلم خاتون نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے اپنا حجاب اور چادر پھینک دی اور دہائی دی کہ "اے سلطان! جب تک قبلہ اول دشمنوں کے قبضے میں ہے، میں سر ڈھانپ کر چلنا اپنی غیرت کے خلاف سمجھتی ہوں"۔ اس ایک چادر نے سلطان کی نیندیں اڑا دیں، اس کے عزم کو جلا بخشی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ تاریخ نے اپنا رخ موڑ لیا اور قدس آزاد ہوا۔ وہ دور مصلحتوں کا نہیں بلکہ جرأتِ رندانہ کا تھا، جہاں ایک پکار پر تخت و تاج کی پروا کیے بغیر میدانِ جنگ سجائے جاتے تھے، کیونکہ تب قیادت کے فیصلے عوامی امنگوں کے تابع ہوا کرتے تھے۔
آج صدیوں بعد، تاریخ نے خود کو استنبول کی سرزمین پر دہرایا ہے۔ فاتح مسجد، جہاں قسطنطنیہ کے فاتح سلطان محمد فاتح آسودہ خاک ہیں، وہاں کی بالائی منزلوں سے جب ترک خواتین نے مردوں کے مجمع پر اپنے اسکارف اور چادریں پھینکیں، تو وہ محض کپڑے کے بے جان ٹکڑے نہیں تھے، وہ امتِ مسلمہ کے مردوں کی غیرت پر ایک زوردار طمانچہ تھا۔ ان خواتین کا یہ علامتی احتجاج کہ "تمہاری موجودگی میں ہماری چادریں محفوظ نہیں اور قبلہ اول پر غاصبانہ قبضے کے باوجود تم خاموش ہو"، دراصل اس اجتماعی بے حسی کا نوحہ ہے جس میں آج کا حکمران طبقہ اور بااثر حلقے بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔ یہ احتجاج اس تلخ حقیقت کی گواہی تھا کہ جب مردوں کی زبانیں مصلحت کے تالوں میں جکڑی جائیں اور ہمت جواب دے جائے، تو پھر حرم کی بیبیاں ہی حق کی آواز بلند کرنے کے لیے میدان میں نکلتی ہیں۔
ایسے میں جب ترکی کی بیٹیاں چادریں پھینک کر ہمیں خوابِ غفلت سے جگانے کی کوشش کر رہی ہیں، ہمارے اپنے ملک کے اندر سے ایک عجیب سرد مہری اور خاموشی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ ایک طرف وہ عوامی جذبات ہیں جو فلسطین، لبنان اور ایران کے مظلوموں کے لیے تڑپ رہے ہیں اور دوسری طرف وہ دفاعی مجبوریاں اور سیاسی مصلحتیں ہیں جو ہمیں خاموش رہنے اور کسی بھی قسم کے بڑے احتجاج سے دور رہنے کی تلقین کر رہی ہیں۔ ریاست کا یہ موقف کہ "ہمیں دوسروں کی جنگوں سے دور رہنا چاہیے اور صرف اپنے اندرونی امن و امان کو مقدم رکھنا چاہیے"، بظاہر ایک حقیقت پسندانہ اور معاشی ضرورت نظر آتی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وہی ایٹمی پاکستان ہے جسے امتِ مسلمہ کا قلعہ اور مظلوموں کی ڈھال کہا جاتا تھا؟ کیا ہماری ایٹمی طاقت صرف دفاعی نمائش کے لیے ہے یا اس کا کوئی اخلاقی بوجھ اور نظریاتی تقاضا بھی ہے؟
غزہ کی گلیوں میں گرنے والے بم اور معصوم بچوں کی چیخیں اب محض سرخیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ عالمی طاقتیں، جو انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں، ڈھٹائی سے ہونے والے مظالم پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ ان کی دیدہ و دانستہ پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اس دوہرے معیار کے دور میں جب مشرقِ وسطیٰ میں آگ لگی ہو اور دشمن براہِ راست اسلامی سرحدوں اور مقدسات کو نشانہ بنا رہا ہو، تب ہمارا "سب سے پہلے اپنا مفاد" کا نعرہ کہیں ہمیں امتِ مسلمہ کے اس وسیع تر تصور سے جدا تو نہیں کر رہا جس کی بنیاد کلمہِ توحید پر رکھی گئی تھی؟ جب ریاستیں اپنے فیصلے نظریات کے بجائے صرف جغرافیائی حدود اور مالی مفادات کی ترازو میں تولنے لگیں اور جب ہم اپنے ہمسایہ اسلامی ملکوں کی تکلیف پر آواز اٹھانے کے بجائے "خاموش تماشائی" بننے کو عافیت سمجھنے لگیں، تو پھر استنبول کی مسجدوں میں چادریں ہی پھینکی جاتی ہیں۔
ہم ایک ایسی ایٹمی قوت ہیں جس کی معیشت کی نبضیں غیر ملکی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں کے اشاروں پر لگی ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ مائیں بہنیں ہیں جو امتِ مسلمہ کے مردوں کی اس خاموشی پر سوال اٹھا رہی ہیں جو شاید بڑی طاقتوں کو ناراض نہ کرنے کے خوف سے اختیار کی گئی ہے۔ کیا ہم واقعی اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ جذبہِ ایمانی اور سفارتی مصلحت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہمارے بس سے باہر ہوگیا ہے؟ استنبول کی ان خواتین نے مردوں کے مجمع میں چادریں پھینک کر دراصل ہمیں یہ یاد دلایا ہے کہ جب قلم بانجھ ہو جائیں، جب منبر و محراب سے حق کی صدا مدہم پڑ جائے اور جب مقتدر حلقے خاموشی کو ہی دانشمندی سمجھ لیں، تو پھر غیرت کی آواز دیواروں کے پیچھے سے آتی ہے اور سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑتی ہے۔
ریاست کا کام امن و امان برقرار رکھنا اور ملک کو کسی بھی بڑی تباہی سے بچانا یقیناً اولین ترجیح ہونی چاہیے، لیکن جب عوامی تڑپ اور سرکاری فیصلوں کے درمیان خلیج اتنی بڑھ جائے کہ عوام خود کو اپنے ہی ملک میں اجنبی محسوس کرنے لگیں، تو قوم کے اندر ایک فکری اور نظریاتی بحران جنم لیتا ہے۔ آج کی یہ جنگ محض اسلحے اور ٹینکوں کی جنگ نہیں، بلکہ یہ حق اور باطل کی کشمکش، بقا اور خودداری کی جنگ ہے۔ پاکستان کو یقیناً اپنے داخلی حالات اور معاشی استحکام کی فکر ہونی چاہیے، لیکن اسے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر آج ہم نے مصلحت کی چادر اوڑھ کر خود کو گوشہ نشین کر لیا، تو کل تاریخ ہمیں کس نام سے یاد کرے گی؟ کیا ہم صرف ہتھیاروں کے بے جان محافظ بن کر رہ جائیں گے یا ہم اس ہراول دستے کا حصہ بنیں گے جس کا خواب حکیم الامت علامہ اقبال اور بانیِ پاکستان قائد اعظم نے دیکھا تھا؟
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی اور قومی ترجیحات پر ازسرِ نو غور کریں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ غیرتِ ملی اور قومی مفاد ایک دوسرے کے متضاد نہیں، بلکہ ایک مضبوط اور باوقار قوم وہی ہوتی ہے جس کے فیصلے اس کے نظریات اور عوامی جذبات کے عکاس ہوں۔ اگر استنبول کی بیٹیوں کی پھینکی گئی چادریں اور غزہ کی ماؤں کی پکار ہماری سوئی ہوئی غیرت کو نہیں جگا سکتیں، تو پھر ہمیں اپنے وجود، اپنی طاقت اور اپنی اس شناخت پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے جسے ہم "اسلامی جمہوریہ" کہتے ہیں۔ قلم کی حرمت کا تقاضا ہے کہ سچ لکھا جائے، چاہے وہ مصلحتوں کے دور میں کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو۔

