Thursday, 07 May 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Sahafat Ki Azadi: Jabr Ke Saaye, Muflisi Ka Qad Aur Sach Ka Kathin Safar

Sahafat Ki Azadi: Jabr Ke Saaye, Muflisi Ka Qad Aur Sach Ka Kathin Safar

صحافت کی آزادی: جبر کے سائے، مفلسی کا قد اور سچ کا کٹھن سفر

آج 3 مئی ہے، یعنی صحافت کی آزادی کا عالمی دن۔ ہر سال کی طرح آج بھی دنیا بھر میں سیمینار ہوں گے، ایوانوں میں بڑی بڑی تقریبات سجھائی جائیں گی، آزادیِ اظہار کے گن گائے جائیں گے اور صحافت کو ریاست کا "چوتھا ستون" قرار دے کر اس کی اہمیت پر طویل لیکچرز دیے جائیں گے۔ لیکن ایک تلخ اور اہم سوال جو ہر دیانت دار ضمیر کے سامنے کسی نوکیلے خنجر کی طرح کھڑا ہے، وہ یہ کہ کیا واقعی آج کا صحافی آزاد ہے؟ کیا وہ سب کچھ لکھ سکتا ہے جو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور اپنے گرد و پیش میں محسوس کرتا ہے؟ یا پھر آزادیِ صحافت محض ایک خوشنما نعرہ اور کتابی اصطلاح بن کر رہ گئی ہے؟

حقیقتِ حال یہ ہے کہ صحافت آج کے دور میں بدترین جبر، پوشیدہ مصلحتوں اور معاشی بیڑیوں کے سائے میں سسک رہی ہے۔ ایک طرف طاقتور حلقوں کا دباؤ ہے تو دوسری طرف کارپوریٹ میڈیا کے مالکان کے اپنے مفادات اور اشتہارات کی بندش کا خوف۔ سچ لکھنا آج کے دور میں ننگے پاؤں خاردار تاروں پر چلنے کے مترادف بن چکا ہے۔ جب ایک کالم نگار یا رپورٹر کسی بڑے طبقے کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، نظام کی بوسیدگی کو بے نقاب کرتا ہے یا کرپشن کے بتوں پر ضرب لگاتا ہے، تو اسے مختلف طریقوں سے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کبھی اسے "قومی مفاد" کے مبہم نام پر ڈرایا جاتا ہے، کبھی غداری کے تمغے بانٹے جاتے ہیں اور کبھی اس کی زبان پر معاشی پابندیوں کے تالے ڈال دیے جاتے ہیں۔

دنیا بھر کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ صحافیوں کے لیے یہ زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ غزہ سے لے کر کشمیر تک اور لاطینی امریکہ سے لے کر ایشیا کے دور دراز علاقوں تک، صحافی صرف اس لیے نشانہ بنائے جا رہے ہیں کہ وہ سچائی کا عکس دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ لیکن میرا رخ آج ان "گمنام سپاہیوں" کی طرف ہے جو کسی بڑے ادارے کی چھتری کے بغیر، محض ایک ٹوٹے ہوئے قلم اور سچے جذبے کے ساتھ میدانِ عمل میں ہیں۔ میں آج کے دن ان تمام صحافیوں اور قلم کاروں کو دل کی گہرائیوں سے سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں جو کسمپرسی، غربت اور فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر تو تیار ہو گئے، مگر انہوں نے کبھی اپنے ضمیر اور قلم کا سودا نہیں کیا۔

یہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جن کے گھروں میں شاید کئی بار چولہا نہیں جلتا، جن کے بچوں کی اسکول فیسیں مہینوں تک واجب الادا رہتی ہیں اور جن کے تن پر لباس شاید پرانا ہو، لیکن جب وہ کاغذ پر قلم رکھتے ہیں تو بڑے سے بڑے جابر کا تختہ ڈولنے لگتا ہے۔ ان کی مفلسی ان کی سچائی کے آڑے نہیں آتی، بلکہ ان کا فقر انہیں مزید بے باک اور نڈر بنا دیتا ہے۔ معاشرے میں جہاں ہر چیز کی قیمت لگ چکی ہے، وہاں یہ چند قلم کار ہی ہیں جو "ناقابلِ فروخت" ہونے کا ٹیگ سینے پر سجائے گھومتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ سچائی کسی مال و زر کی محتاج نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے شاہی درباروں میں قید کیا جا سکتا ہے۔

آج کی صحافت میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر مصلحت کے حلوے بانٹ رہے ہیں اور دوسری طرف وہ دیانت دار کالم نگار ہیں جو دور افتادہ علاقوں میں بیٹھ کر کسانوں کے پامال ہوتے حقوق، مزدوروں کی سسکتی زندگی اور عام آدمی کی مہنگائی کے ہاتھوں پستی ہوئی کمر کا نوحہ لکھ رہے ہیں۔ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو یہی دبے کچلے طبقے کی آواز بننے والے صحافی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ان پر جھوٹے مقدمات بنتے ہیں، انہیں نامعلوم فون کالز کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے، ان کے خاندانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر ان کا ایمان اس "حرفِ حق" پر قائم رہتا ہے جس کی قسم خالقِ کائنات نے کھائی ہے۔

آزادیِ صحافت کا اصل مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی کے ایجنڈے کی تشہیر کریں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب سب خاموش ہوں تو آپ بولنے کی جرات کریں۔ جب جھوٹ کا سیلاب ہر طرف پھیلا ہو، تو آپ سچ کا جزیرہ بن کر ابھریں۔ ان تمام باضمیر صحافیوں کا قرض ہم پر ہے جنہوں نے حق گوئی کی پاداش میں زندانوں کی صعوبتیں کاٹیں یا جن کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا گیا۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور معاشرہ ان قلم کاروں کی قدر کرے۔ اگر صحافی معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوگا اور اسے سچ بولنے پر سماجی و قانونی تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا، تو معاشرے میں سچائی کا قحط پڑ جائے گا اور جھوٹ کی فصلیں لہلہانے لگیں گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک خاموش کر دیا گیا صحافی ایک مردہ معاشرے کی پہلی علامت ہوتا ہے۔ سچی آزادی تب ہی ممکن ہے جب ایک لکھاری بغیر کسی خوف، بغیر کسی لالچ اور بغیر کسی مصلحت کے وہ لکھ سکے جو سچ ہے، چاہے وہ کڑوا ہو یا کسی کے لیے ناگوار۔ ان تمام نڈر اور سچے قلم کاروں کو ایک بار پھر میرا سلام، جو آج بھی قید و بند، پروپیگنڈے اور بھوک کے سائے میں سچائی کی آخری جنگ لڑ رہے ہیں۔

Check Also

Operation Bunyan Ul Marsoos (4)

By Javed Chaudhry