Rait Ki Deewar Aur Awami Mazaq
جھوٹ کی دیوار اور عوامی مذاق

حکومتی ایوانوں سے جب "سستی چھت" اور "اپنا گھر" کے نعرے بلند ہوتے ہیں، تو کرائے کے ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں زندگی کاٹتے غریبوں کے دل میں ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ضرور آتا ہے۔ اخبارات کے چمکدار اشتہارات اور ٹی وی پر وزراء کے بلند و بانگ دعوے دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید اب ریاست کو ان لوگوں کا خیال آ ہی گیا ہے جو سالوں سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ لیکن افسوس! جب یہ عام آدمی ان دعوؤں کی حقیقت کھوجنے نکلتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب "ریت کی دیوار" کے سوا کچھ نہیں۔ یہ محض سرکاری سکیمیں نہیں بلکہ ایک سفید پوش انسان کی غیرت اور غریب کی غربت کا سرِ عام مذاق ہے۔ ان اشتہارات کے پیچھے چھپا سچ اتنا ہی کڑوا ہے جتنا ایک بے گھر انسان کا کرائے کے مکان میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ۔
آج کل تو ایسا لگتا ہے جیسے حکومت نے عوامی خدمت کے نام پر کوئی "آن لائن بزنس" کھول رکھا ہے۔ کبھی رمضان ریلیف پروگرام کے نام پر ایپس بنتی ہیں تو کبھی "مریم کو بتاؤ" جیسی ایپلی کیشنز کا شور مچایا جاتا ہے۔ ان ایپس پر اتنا رش اور اتنی ٹریفک ہوتی ہے کہ دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ حکومت بھی اب یوٹیوبرز کی طرح آن لائن پیسے کمانے کے چکر میں ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ان پورٹلز پر چلنے والے اشتہارات اور لاکھوں کروڑوں کی ٹریفک سے حکومت کی اپنی تو خوب کمائی ہو رہی ہوگی، مگر غریب کے ہاتھ وہی خالی پیالہ ہی آتا ہے۔ اگر ان ویب سائٹس اور ایپس پر ذلیل ہونے والے عام آدمی کی عزتِ نفس کا تھوڑا سا بھی خیال ہوتا، تو شاید یہ نظام اتنا پیچیدہ نہ بنایا جاتا۔
میرا تو ایک مشورہ ہے کہ اگر حکومت واقعی کمائی کرنا چاہتی ہے اور اسے غریبوں کا اتنا ہی درد ہے، تو ان ایپس پر ایک "ویٹنگ فیس" مقرر کر دی جائے۔ جو غریب ان ویب سائٹس پر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، اسے ہر ایک منٹ رکنے کے عوض کم از کم 5 روپے ادا کیے جائیں۔ اگر یہ رقم جمع کرکے حقیقی غریبوں پر لگا دی جائے، تو یقین مانیں اس ملک میں نہ کوئی بے روزگار رہے گا اور نہ ہی کسی کو کرائے کے مکانوں میں دھکے کھانے پڑیں گے۔ لیکن یہاں تو معاملہ الٹا ہے، یہاں غریب کا وقت اور ڈیٹا بھی ضائع کیا جاتا ہے اور بدلے میں اسے صرف "ایرر" (Error) کے پیغامات ملتے ہیں۔
ہمارے یہاں کا ڈھنگ ہی نرالا ہے، سکیمیں غریب کے نام پر آتی ہیں مگر ان کا پھل ہمیشہ بااثر لوگوں کی جھولی میں گرتا ہے۔ وہ پورٹلز جن پر رجسٹریشن کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، ایک عام آدمی کے لیے کسی بھول بھلیاں سے کم نہیں۔ کبھی ویب سائٹ نہیں کھلتی، کبھی رجسٹریشن والا بٹن کام نہیں کرتا اور کبھی سرور ڈاؤن کا راگ الاپا جاتا ہے۔ یہ سب ٹیکنالوجی کی کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسی رکاوٹ لگتی ہے کہ غریب خود ہی تھک ہار کر گھر بیٹھ جائے۔ اگر کوئی ہمت کرکے بینک چلا بھی جائے تو وہاں کا عملہ اسے ایسے گھورتا ہے جیسے وہ کوئی بڑا جرم کرکے آیا ہو۔ سوالوں کی لمبی فہرست، کاغذات کا پہاڑ اور بینک والوں کا روکھا پن انسان کو یہ کہنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ یہ سب محض "بکواس" اور وقت کا ضیاع ہے۔
سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ ان ہاؤسنگ سکیموں میں اکثر یہ شرط لگا دی جاتی ہے کہ "درخواست دینے والے کے پاس اپنی زمین ہو"۔ اب بندہ ان عقل کے اندھوں سے پوچھے کہ جس کے پاس اپنی ایک مرلہ زمین نہیں، جو برسوں سے مالک مکانوں کی جھڑکیاں سہہ رہا ہے، وہ کہاں جائے؟ کیا ریاست صرف ان کے لیے ہے جن کے پاس پہلے سے پلاٹ پڑے ہیں؟ یہ کیسا انصاف ہے کہ گھر اسے ملے گا جس کے پاس پہلے سے کچھ ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں اسے "اہلیت" کے نام پر دھتکار دیا جاتا ہے۔ یہ دعوے اس کچی دیوار کی طرح ہیں جو حقیقت کی پہلی بارش میں ہی ڈھیر ہو جاتی ہے۔ غریب کے نام پر آنے والا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ وہ لاکھوں گھر کدھر ہیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا؟ سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف سرکاری فائلوں میں بنتے ہیں اور تصویریں کھنچوانے کے بعد غائب ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ یہاں عوامی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ حکمران کہتے ہیں ہم نے گھروں کے انبار لگا دیے، لیکن اگر کسی چوراہے پر کھڑے ہو کر عام لوگوں سے پوچھا جائے کہ "بھائی! کیا تمہیں گھر ملا؟" تو جواب میں صرف آہیں اور مایوسی ملے گی۔ جب گھر دس ہوں اور امیدوار ایک لاکھ، تو وہ دس گھر کس کی جیب میں جاتے ہیں؟ سب جانتے ہیں کہ وہ بھی سفارش اور سیاسی تعلقات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اکثر تو وہ گھر بھی انہی کو ملتے ہیں جن کے پاس پہلے سے محل موجود ہوتے ہیں۔ ایک لکھاری جو دوسروں کے دکھ قلمبند کرتا ہے، جب اپنی محرومی کے لیے ان دروازوں پر دستک دیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہاں انسانیت کی کوئی قدر نہیں۔ نظام کی یہ بے حسی ہی وہ دیوار ہے جو عوام اور ریاست کے درمیان کھڑی ہو چکی ہے۔
آج کا انسان اپنی ہی دھن میں مگن ہے، اسے دوسرے کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں۔ ہر کوئی خود کو عقلِ کل سمجھ کر دوسروں پر رعب ڈال رہا ہے، لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا کہ اس مصنوعی دوڑ کا نتیجہ کیا ہوگا۔ ہم نے عمارتیں تو اونچی کر لیں، مگر ان میں رہنے والے انسانوں کے دل چھوٹے ہو گئے۔ اگر حکومت واقعی کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے ان کاغذی دعوؤں سے باہر نکلنا ہوگا۔ ریت کی یہ دیواریں زیادہ دیر نہیں ٹک سکتیں۔ جب ایک مجبور انسان کی فریاد عرش تک پہنچتی ہے تو بڑے بڑے تخت ہل جاتے ہیں۔
سچ تو تب مانا جائے گا جب کوئی عام آدمی بغیر کسی سفارش کے اپنے گھر کی چابی ہاتھ میں لے کر کہے کہ ہاں، مجھے میرا حق ملا ہے۔ ورنہ یہ سب رنگین اشتہارات اور بینکوں کے چکر غریب کے زخموں پر نمک پاشی کے سوا کچھ نہیں۔ حکمران یاد رکھیں، جب ایک سفید پوش کا وقار مجروح ہوتا ہے تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرتی۔ ابھی وقت ہے کہ ان ڈیجیٹل ڈراموں اور جھوٹے پورٹلز کے بجائے حقیقت میں غریب کی دہلیز تک پہنچا جائے، ورنہ یہ نظام خود اپنے بوجھ تلے دب کر فنا ہو جائے گا۔

