Pakistan Ki Muashi Tabahi Ka Zimmedar Kaun Aur Iska Hal Kya Hai?
پاکستان کی معاشی تباہی کا ذمہ دار کون اور اس کا حل کیا ہے؟

دنیا کے معاشی نقشے پر نظر دوڑائیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ سنہ 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں کہ کس طرح ہم سے پیچھے رہنے والے ممالک آج آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں اور ہم ایوانوں کی لڑائیوں میں الجھ کر کوڑی کوڑی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ ایک طرف وہ قومیں ہیں جنہوں نے فکری دانش اور معاشی استحکام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور آج وہاں افلاس کا نام و نشان مٹ چکا ہے، جبکہ دوسری طرف ہمارا وطن ہے جو بے پناہ قدرتی وسائل کے باوجود بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔
اسی معاشی دَور میں ہمارا ہمسایہ ملک بھارت آج دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن کر سینہ تانے کھڑا ہے، جس کے زرِ مبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر کی حد کو عبور کر رہے ہیں۔ لیکن جب ہم اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو روح کانپ جاتی ہے۔ ہم جو کبھی خطے کی ترقی کے مینار تھے، آج عالمی فہرستوں میں اس قدر نیچے کیوں گرے؟ ہماری محنت کش عوام کی قوتِ خرید تو دم توڑ رہی ہے، لیکن اوسط شہری کی آمدنی کے لحاظ سے ہم دنیا کے ایک سو ساٹھ ملکوں کی ٹھوکروں میں کیوں ہیں؟
ہم پیچھے کیوں رہے؟ (تکلیف دہ حقائق)
پاکستان کی اس زبوں حالی کے پیچھے کوئی ناگہانی آفت نہیں، بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں کی لگائی ہوئی آگ ہے۔
1۔ کرسی کی جنگ اور پالیسیوں کا قتل:
ترقی کا پہلا زینہ حکمتِ عملی کا تسلسل ہوتا ہے، لیکن یہاں تو ہر نو وارد پچھلے کے نقشِ قدم مٹانے کو ہی کامیابی سمجھتا رہا۔ جب ایوانوں میں بیٹھے لوگ عوامی منصوبوں کو سیاسی عداوت کی بھینٹ چڑھاتے ہیں، تو سرمایہ کار اپنا اعتماد اور اپنی پونجی سمیٹ کر ان ملکوں کا رُخ کر لیتا ہے جہاں اسے اپنی رقم محفوظ دکھائی دیتی ہے۔
2۔ ڈگریوں کا انبار اور ہنر کا قحط:
ہم نے کاغذ کے ٹکڑے (ڈگریاں) تو بانٹیں لیکن اپنے نوجوانوں کو وہ ہنر نہ دے سکے جو جدید دنیا کا تقاضا ہے۔ دنیا مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے سہارے کما رہی ہے اور ہم آج بھی فرسودہ نصاب کی لکیر پیٹ رہے ہیں۔ پڑوسی ملک ٹیکنالوجی بیچ کر اربوں ڈالر کما رہا ہے اور ہم محض خام مال بیچنے پر مجبور ہیں۔
3۔ کسان کی کسمپرسی اور زرعی زوال:
یہ کیسا زرعی ملک ہے جہاں گندم اور دالیں بھی غیروں سے مانگنی پڑتی ہیں؟ جس کسان کو ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہونا چاہیے تھا، وہ بیج، کھاد اور اپنی فصل کے جائز دام کے لیے سڑکوں پر دھکے کھا رہا ہے۔ جب اناج اگانے والا ہی کسمپرسی کی زندگی گزارے گا تو معیشت کیسے توانا ہوگی؟
آگے بڑھنے کا راستہ: اب کیا کیا جائے؟
اب بھی وقت ہے کہ ہم خوابِ خرگوش سے جاگ جائیں۔ پاکستان کے پاس وہ سب کچھ ہے جو اسے عظیم بنا سکتا ہے، بس نیتوں کا کھوٹ نکالنا ہوگا۔
1۔ ڈیجیٹل انقلاب اور نوجوانوں کی طاقت:
ہمارے نوجوان ہماری اصل دولت ہیں۔ اگر انہیں جدید ٹیکنالوجی اور خود روزگار کے فنی گُر سکھا دیے جائیں، تو یہ چند سالوں میں ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں بھاری مشینری کی ضرورت نہیں، بس ایک روشن دماغ اور صحیح سمت درکار ہے۔
2۔ کاشتکار کی سرپرستی:
ہمیں زراعت کو ہنگامی بنیادوں پر بچانا ہوگا۔ کسان کو بیج اور مشینری کے لیے در در کی ٹھوکروں سے بچانا ہوگا تاکہ وہ اپنی زمین سے سونا اگل سکے۔ آلو، گندم اور کپاس کے کاشتکاروں کے لیے ایسی منڈیاں بنانی ہوں گی جہاں استحصالی نظام ختم ہو اور کسان کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی محنت کا پورا صلہ ملے۔
3۔ قومی معاشی ایجنڈا:
اب بہت ہوا، اب تمام سیاسی قوتوں کو اپنی انا ترک کرکے ایک مشترکہ معاشی ایجنڈے پر متفق ہونا ہوگا۔ ایک ایسی پالیسی جو اقتدار کی تبدیلی سے نہ بدلے، تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ پاکستان اب اپنے مستقبل کے لیے سنجیدہ ہے۔
ہم معاشی دوڑ میں پیچھے ضرور رہ گئے ہیں، لیکن ابھی ہارے نہیں ہیں۔ اگر ہم آج اپنے شخصی مفادات کو تیاگ کر صرف "پاکستان" کے لیے جینا سیکھ لیں، تو وہ دن دور نہیں جب ہم دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کریں گے۔ قلم کی حرمت کی قسم، اب مصلحتوں اور باتوں کا وقت ختم ہو چکا، اب صرف بے باک عمل کا وقت ہے۔

