Thursday, 09 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Maeeshat Ke Nohagar Aur Khazano Ke Sarab

Maeeshat Ke Nohagar Aur Khazano Ke Sarab

معیشت کے نوحہ گر اور خزانوں کے سراب

​پاکستان کی معیشت اس وقت اس زخمی پرندے کی مانند ہے جو پر تولنے کی تڑپ تو رکھتا ہے مگر مصلحتوں کی زنجیریں اسے اڑنے نہیں دیتیں۔ یہاں ہر چند ماہ بعد ایک شور اٹھتا ہے، ایوانوں میں جشن بپا ہوتا ہے اور درباری دانشور قوم کو یہ مژدہ سناتے ہیں کہ "خزانہ مل گیا!"۔ کبھی کوہاٹ کی پہاڑیاں سونا اگلتی دکھائی دیتی ہیں تو کبھی کراچی کا تلاطم خیز سمندر دبئی بننے کے خواب دکھاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ان خزانوں سے کبھی عام آدمی کے چولہے کی آگ بھی روشن ہوئی؟ یا یہ سب محض محل کے منصب داروں کے لیے نمبر بنانے کا ایک نیا سیاسی کھیل ہے؟

​حالیہ دنوں میں کوہاٹ کے "ٹل بلاک" سے تیل اور گیس کی دریافت کو جس طرح "معاشی معجزہ" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، وہ ایک فکری مغالطے سے کم نہیں۔ بحیثیت ایک طالبِ علم، جب میں معیشت کے ان گورکھ دھندوں پر نظر ڈالتا ہوں تو خیبر پختونخوا کی مٹی سے نکلتا ہوا 42 فیصد خام تیل اور سندھ کی زمین سے ابلتی ہوئی 61 فیصد گیس مجھے پاکستان کی خوشحالی نہیں، بلکہ انتظامی بانجھ پن کا نوحہ سناتی دکھائی دیتی ہے۔ ہم قدرت کے اس قدر مہربان ہونے پر نازاں تو ہیں، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان بے پناہ ذخائر نے بھی ہمارے کشکول کو ٹوٹنے نہ دیا۔

​یاد کیجیے 2019 کا وہ ہنگامہ! جب "کیکڑا ون" کے نام پر قوم کو ایک ایسی خوش خبری کی افیون چٹائی گئی جس کا اثر اترتے ہی صرف مایوسی کی دھند باقی رہ گئی۔ سمندر کی تہوں میں 100 ملین ڈالر غرق کر دیے گئے، دعوے ایشیا کے سب سے بڑے ذخیرے کے تھے، مگر برآمد کیا ہوا؟ صرف ریت اور کھارا پانی! وہ سیاسی جلد بازی تھی یا عوامی جذبات سے سنگین کھلواڑ، اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی، مگر سچ یہ ہے کہ جب تک تحقیق کی جگہ سیاست اور مخلصانہ کوشش کی جگہ سستی شہرت لیتی رہے گی، تب تک "کیکڑا ون" جیسے سراب یونہی جنم لیتے رہیں گے۔

​مرض تو سب کے سامنے ہے، مگر اس کا اصل علاج کیا ہے؟

​اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ یہ دریافتیں محض خبروں کی زینت بننے کے بجائے غریب کی جیب تک پہنچیں، تو ہمیں یہ چار کڑوے گھونٹ بھرنے ہوں گے:

​1۔ دریافت سے پیداوار تک کا سفر: صرف کنواں مل جانا کامیابی نہیں، اسے قومی نظام (Grid) کا حصہ بنانا اصل امتحان ہے۔ ہمارے ہاں سرخ فیتے (Red Tape) کی رکاوٹیں اور سالہا سال کی کاغذی کارروائی تیل کو زمین کے اندر ہی سڑا دیتی ہے۔ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر "ون ونڈو" آپریشن کی ضرورت ہے تاکہ دریافت کے فوراً بعد پیداوار کا عمل شروع ہو سکے۔

​2۔ مقامی مہارت اور ٹیکنالوجی: ہم آخر کب تک غیر ملکی کمپنیوں کے رحم و کرم پر رہیں گے؟ پاکستان کو اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے انجینئرز پر سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ جب تک ہم اپنی مشینری اور اپنی مہارت استعمال نہیں کریں گے، ہمارے خزانوں کا ایک بڑا حصہ "سروس چارجز" کی نذر ہو کر ملک سے باہر جاتا رہے گا۔

​3۔ منصفانہ تقسیم اور رائلٹی کا تحفظ: جس مٹی سے رزق نکلے، وہاں کے باسیوں کا پہلا حق تسلیم کیا جائے۔ اگر کوہاٹ یا سوئی سے نکلنے والی گیس وہاں کے مقامی گھروں میں نہیں جل رہی، تو یہ معاشی تفاوت نہیں بلکہ ایک اخلاقی جرم ہے۔ جب تک مقامی آبادی کو ثمرات میں شریک نہیں کیا جائے گا، سیکیورٹی کے نام پر ہونے والے بھاری اخراجات منافع کو نگلتے رہیں گے۔

​4۔ سیاسی استحکام اور مستقل پالیسی: تیل اور گیس کی تلاش برسوں کا سفر ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ حکومت بدلتے ہی پالیسیاں کوڑے دان کی نذر ہو جاتی ہیں۔ ہمیں ایک ایسی "قومی توانائی پالیسی" چاہیے جسے پارلیمنٹ کا مستقل تحفظ حاصل ہو، تاکہ کوئی بھی مصلحت پسند طبقہ "کیکڑا ون" جیسے خوابوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہ کر سکے۔

​آج کوہاٹ، کرک اور ہنگو کی پٹی سے نکلنے والا تیل ہماری ضرورت کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ہم آج بھی 80 فیصد پٹرولیم مصنوعات کے لیے دوسروں کے دستِ نگر ہیں۔ ہمارے پاس 240 ملین بیرل تیل کے ذخائر تو موجود ہیں، مگر انہیں نکالنے کے لیے نہ وہ نیت نظر آتی ہے اور نہ ٹیکنالوجی۔ ہم خزانوں کے ڈھیر پر بیٹھے وہ بدنصیب فقیر ہیں جو اپنے گھر کے چراغ سے آگ لینے کے بجائے پڑوسی کی خیرات کے منتظر ہیں۔

​وقت آ گیا ہے کہ ہم ان خزانوں کو "نمائشی سرخیوں" کے بجائے "قومی اثاثہ" سمجھ کر برتیں۔ معیشت کی کشتی کو پار لگانے کے لیے صرف زمین سے نکلنے والا تیل کافی نہیں، بلکہ ان دماغوں کو بھی صاف کرنے کی ضرورت ہے جو عوامی وسائل کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ یاد رکھیے، جب تک قلم کی آبرو اور عوامی حقِ ملکیت کو مقدم نہیں رکھا جائے گا، تب تک ہر نئی دریافت صرف ایک "سیاسی لوری" ثابت ہوگی جو قوم کو سلانے کے کام تو آ سکتی ہے، بیدار کرنے کے نہیں۔

Check Also

Scrolling Ka Nasha Aur Maflooj Hota Insani Dimagh

By Syed Badar Saeed