Tuesday, 07 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Lehje Ka Shajra Aur Degreeon Ka Qehat Ur Rijal

Lehje Ka Shajra Aur Degreeon Ka Qehat Ur Rijal

لہجے کا شجرہ اور ڈگریوں کا قحطِ الرجال

آج کے اس پُرشور اور مصنوعی دور میں ہم نے اپنی دیواروں کو تو فریم شدہ کاغذ کے ٹکڑوں سے سجا لیا ہے، مگر ہمارے کردار کے صحن ویران پڑے ہیں۔ ہر طرف ڈگریوں کی نمائش ہے، مگر انسانیت کا قحط ہے۔ لوگ اکثر بڑے تجسس سے پوچھتے ہیں کہ بابا بلھے شاہ نے کس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی تھی؟ وارث شاہ کے پاس کون سا گولڈ میڈل تھا؟ یا سلطان باہوؒ نے کس لیبارٹری میں بیٹھ کر کائنات کے راز پا لیے تھے؟ ارے نادانو! ان عظیم ہستیوں نے "انسان گری" کی اس درسگاہ سے سند لی تھی جہاں پہلا سبق "خاموشی" اور آخری "ادب" تھا۔ ان کا نام اور کام صدیوں بعد بھی اس لیے زندہ ہے کہ ان کا علم ان کے عمل کی گواہی دیتا تھا، جبکہ ہمارا آج کا علم محض ہمارے تکبر کا اشتہار بن کر رہ گیا ہے۔

یاد رکھیے! اصل علم وہ نہیں جو دماغ میں بھرا ہو، بلکہ وہ ہے جو آپ کے رویوں سے جھلکتا ہے۔ عقلمند وہ نہیں جو سب سے زیادہ بولنا جانتا ہے، بلکہ دانا وہ ہے جسے یہ پتا ہو کہ کس کے سامنے، کتنا اور کیا بولنا ہے۔ آپ کا لہجہ اور آپ کا طرزِ عمل دراصل آپ کے خاندان کا "برانڈ" اور آپ کی تربیت کا پتہ دیتے ہیں۔ جب آپ کسی محفل میں زبان کھولتے ہیں، تو آپ کے الفاظ یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ "کس کے بیٹے" ہیں اور آپ کی پرورش کن ہاتھوں میں ہوئی ہے۔ اگر آپ کی گفتگو میں گالی، طنز اور دوسروں کی تذلیل شامل ہے، تو سمجھ لیں کہ آپ کے شجرے کی جڑ میں تربیت کا صاف پانی نہیں بلکہ غفلت کا گند ڈالا گیا ہے۔ ہمارا اخلاق ہی ہماری اصل وراثت ہے، باقی بینک بیلنس اور جائیدادیں تو محض مٹی کا ڈھیر ہیں۔

ذرا عالمی منظر نامے پر نگاہ دوڑائیں کہ زندہ قومیں کیسے بنتی ہیں۔ وہ چین جسے ہم "مادہ پرست" کہہ کر پکارتے ہیں، وہاں کا ایک بڑا سرکاری افسر یا اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی اگر سڑک پر کچرا دیکھ لے، تو وہ کسی خاکروب یا پروٹوکول کے انتظار میں نہیں بیٹھتا۔ وہ خود جھکتا ہے اور اس غلاظت کو اٹھا کر ٹھکانے لگاتا ہے۔ وہاں صفائی کرنا یا مشقت کرنا توہین نہیں، بلکہ قومی وقار کی علامت ہے۔ ان کے تعلیمی نظام میں ڈگری دینے سے پہلے "سماجی ذمہ داری" کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس نے ایک تباہ حال قوم کو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل بنا دیا۔

اور اب ذرا اپنے گریبان میں جھانکیں۔ ہمارے ہاں "ستھرا پنجاب" یا بلدیہ کے محکموں میں کام کرنے والے محنت کش اپنا منہ ڈھانپ کر اور نظریں چرا کر کام کرتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے نہیں کہ وہ چور ہیں، بلکہ اس لیے کہ ہم نے ایک معاشرے کے طور پر محنت کی تذلیل کو اپنا قومی مشغلہ بنا لیا ہے۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو صفائی کرنے والے کو "کمی" کہہ کر پکارتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں اصل "کمی" اور غلیظ تو وہ ہے جس کی سوچ میں تکبر اور زبان میں گندگی بھری ہے۔ ہم ڈگری یافتہ جاہلوں کی وہ فوج تیار کر رہے ہیں جو سڑک پر کچرا پھینکنا اپنا موروثی حق اور اسے اٹھانے والے غریب کو حقیر سمجھنا اپنا منصب سمجھتی ہے۔ کیا یہی وہ تعلیم ہے جس پر ہمیں فخر ہے؟

ایک صحت مند معاشرہ تب تک تشکیل نہیں پا سکتا جب تک ہم یہ تسلیم نہیں کر لیتے کہ ڈگری صرف نوکری کی ضمانت دے سکتی ہے، "انسان" ہونے کی نہیں۔ اگر تمہاری برسوں کی تعلیم تمہیں ایک مزدور، ایک ریڑھی والے یا ایک صفائی کرنے والے کی عزت کرنا نہیں سکھاتی، تو یقین جانیے ایسی تعلیم کو سمندر برد کر دینا ہی بہتر ہے۔ معاشرہ اس وقت بنتا ہے جب افسر اور مزدور کا فرق صرف عہدے تک محدود ہو، اخلاق کی سطح پر نہیں۔ ہماری نسلوں کی پہچان ہمارے بینک اکاؤنٹس سے نہیں بلکہ اس گفتگو سے ہونی چاہیے جو کسی کا دل نہ دکھائے۔

آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنی نسلوں کو صرف کاغذ کے ٹکڑے دینے ہیں یا وہ فولادی کردار دینا ہے کہ ہمارے جانے کے بعد جب وہ معاشرے میں نکلیں تو لوگ انہیں دیکھ کر رشک کریں اور پکار اٹھیں: "یہ کسی سچے اور بااصول باپ کا بیٹے ہے"۔ نام بنانا ہے تو کردار بنائیے، کیونکہ ڈگریاں تو دیمک کی خوراک بن جاتی ہیں، مگر اخلاق کی خوشبو صدیوں تک پیچھا نہیں چھوڑتی۔ بابا بلھے شاہ کا کوئی فیس بک پیج نہیں تھا، وارث شاہ کا کوئی ٹویٹر اکاؤنٹ نہیں تھا، لیکن ان کا طرزِ عمل ایسا تھا کہ آج دنیا ان کے نقشِ قدم پر تحقیق کر رہی ہے۔ اصل پی ایچ ڈی زندگی کے قرینے سیکھنے میں ہے، محض کاغذ کالے کرنے میں نہیں۔

Check Also

Tehzeebi Bazgasht: Veeda Ahmed Ka Fanni Safar

By Dr. Anila Zulfiqar