Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Peer Intizar Hussain Musawir
  4. Adabi Mafia: Alfaz Ki Mandi Mein Sach Ka Qatal

Adabi Mafia: Alfaz Ki Mandi Mein Sach Ka Qatal

ادبی مافیا: الفاظ کی منڈی میں سچ کا قتل

دنیا کے عظیم فاتح سکندرِ اعظم سے کسی نے پوچھا تھا، "تم اپنے باپ سے زیادہ اپنے استاد کی عزت کیوں کرتے ہو؟" سکندر نے مسکرا کر جواب دیا، "میرا باپ مجھے آسمان سے زمین پر لانے کا ذریعہ بنا، لیکن میرے استاد نے مجھے زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا"۔ یہ استاد ارسطو تھا، جس نے سکندر کی ہر غلطی پر اسے کلاس سے باہر نہیں نکالا، بلکہ اس کی انگلی پکڑ کر اسے دنیا فتح کرنا سکھایا۔ یہ ایک استاد کا ظرف تھا جس نے ایک عام سے نوجوان کو "سکندرِ اعظم" بنا دیا۔

لیکن آج جب ہم اپنے اردگرد کے ادبی اور صحافتی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ارسطو کی یہ روایت دم توڑتی نظر آتی ہے۔ آج کا "ادبی مافیا" اصلاح کے بجائے راستے بند کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اگر کوئی نیا لکھاری، کوئی تازہ فکر رکھنے والا نوجوان کسی بڑے اخبار یا میڈیا ہاؤس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، تو اسے سکھانے اور اس کی نوک پلک سنوارنے کے بجائے اسے "معیار" کے نام پر دیوار سے لگا دیا جاتا ہے۔ ادب، جو کبھی روح کی غذا ہوا کرتا تھا، اب مخصوص ٹولوں اور گروہ بندیوں کی جاگیر بن چکا ہے۔

آپ کبھی غور کیجیے، بڑے بڑے اخبارات کے سنڈے میگزینز اور ادبی جریدوں میں اب وہی نام کیوں نظر آتے ہیں جو پچھلی کئی دہائیوں سے قابض ہیں؟ کیا نئے لکھنے والے پیدا ہونا بند ہو گئے ہیں؟ جی نہیں، بلکہ سچ یہ ہے کہ ان بڑے اداروں کے ایڈیٹرز اب "ارسطو" بننے کے بجائے "چوکیدار" بن چکے ہیں۔ وہ صرف ان لوگوں کے لیے دروازہ کھولتے ہیں جن کا نظریاتی قد ان کے ترازو میں پورا اترتا ہو یا جن کے پاس کسی "بڑے نام" کی سفارش ہو۔ ایک ادنیٰ لکھاری، جو برسوں کی تحقیق کے بعد کوئی سچائی سامنے لاتا ہے، اسے خاموشی سے ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا جاتا ہے۔

تحقیق اب قصہِ پارینہ بنتی جا رہی ہے۔ جب کوئی محقق حضرت بابا حاجی شیر محمد شہیدؒ جیسی عظیم ہستیوں کی تاریخ یا ہاشمی وراثت کے مستند حقائق لے کر آتا ہے، تو اسے "بورنگ" کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے، کیونکہ آج کی منڈی میں سچ نہیں، سنسنی بکتی ہے۔ قلم کی حرمت اب پریس کلبوں کی سیاست اور مخصوص ڈرائنگ رومز کی نذر ہو چکی ہے۔ یہ ادبی مافیا دراصل ایک ایسی دیوار بن چکا ہے جس نے نئے خیالات کا راستہ روک رکھا ہے۔

لیکن مایوسی کے ان بادلوں میں "ڈیلی اردو کالمز" جیسی ویب سائٹس ایک خوشگوار جھونکے کی طرح محسوس ہوتی ہیں۔ جہاں بڑے اخبارات کے دروازے بند ہیں، وہاں یہ پلیٹ فارم ایک شفیق استاد کی طرح ہر باصلاحیت قلم کار کا استقبال کرتا ہے۔ یہ ویب سائٹ نہ صرف نئے لکھنے والوں کو اپنی بات کہنے کا موقع دیتی ہے، بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہے۔ یقیناً یہ ادارہ اپنی غیر جانبداری کی وجہ سے آج کے دور میں قابلِ عزت اور قابلِ بھروسہ ہے، کیونکہ یہاں تحریر کو کسی "گروہ بندی" کے چشمے سے نہیں بلکہ سچائی کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔

آخر میں، میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر ہم نے آج نئے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کا یہ سلسلہ بند نہ کیا، تو ہمارا علمی ورثہ بنجر ہو جائے گا۔ سچا لفظ کسی بیساکھی کا محتاج نہیں ہوتا، وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے۔ ادبی مافیا کا غرور وقت کی دھول میں گم ہو جائے گا، مگر وہ الفاظ جو خلوصِ نیت سے لکھے گئے، وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان اداروں کی قدر کریں جو قلم کی حرمت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ہر اس آواز کو جگہ دیتے ہیں جسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

Check Also

Dukh

By Nusrat Sarfaraz