Thanda Gosht
ٹھنڈا گوشت

"ٹھنڈا گوشت" سعادت حسن منٹو کا افسانہ ہے۔ تقسیم برصغیر پر جو قتل و غارت ہوئی، جن المیوں نے جنم لیا، یہ افسانہ اسی پس منظر میں لکھا گیا۔ لیکن ایک بالکل مختلف حوالے سے آج کے حالات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
افسانے کا مرکزی کردار ایشر سنگھ ہے۔ بھرے بھرے ہاتھ پیر والی کلونت کور اس کی محبوبہ ہے۔ ایشر سنگھ کافی دنوں بعد کلونت کور سے ملنے آتا ہے تو اس میں پہلے والی چمک نہیں ہے، کلونت کور کی گرم جوشی کے باوجود وہ سرد ہی رہتا ہے، التفات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ کلونت وجہ پوچھتی ہے تو ایشر سنگھ اسے ایک خوف ناک اور دکھ دینے والی حقیقت بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ (تقسیم برصغیر کے وقت) لوٹ مار میں اس نے ایک گھر سے لڑکی اٹھائی۔ راستے میں ایک جگہ دیکھ کر جب اس نے پتہ پھینکا تو معلوم ہوا کہ وہ لڑکی تو مری ہوئی تھی۔۔ لاش تھی۔۔ بالکل ٹھنڈا گوشت تھی۔
سوچتا ہوں، کہ جن ملازمین کو کئی کئی ماہ کی تنخواہیں نہیں دی جاتیں، کیا وہ بھی ٹھنڈا گوشت ہیں؟ اور کیا ان کے مالکان ایشر سنگھ ہیں؟ سوچتا ہوں کہ منٹو کے افسانے میں ایشر سنگھ ان تمام افراد کا نمائندہ ہے جو بے حسی پر اتر آئیں تو انسانیت کے ساتھ ساتھ اپنی مردانگی بھی کھو دیتے ہیں اور منٹو کے افسانے میں ہر وہ مظلوم ٹھنڈا گوشت ہے جو ظلم سہتے سہتے اپنی سانسیں بھی کھو چکا ہے۔ اب کوئی ایشر سنگھ اسے اٹھا کر لے جائے، اس پر پتہ پھینکے، زیادتی کرے، ٹھنڈا گوشت نہ محسوس کر سکتا ہے، نہ مزاحمت کر سکتا ہے۔ وہ تو اس احساس سے بھی عاری ہو چکا ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔
منٹو نے بتایا کہ بے بس پر ظلم کرنے والا خود بھی بہت کچھ کھو دیتا ہے۔ لیکن اس بات کا علم اسے تب ہوتا ہے جب اس کا سامنا کسی جیتی جاگتی، جذبات اور احساسات سے بھری کلونت کور سے ہوتا ہے۔
وہ مالکان، جو اپنے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دیتے، ان کی محنت کا استحصال کرتے ہیں۔۔ کیا وہ بھی ایشر سنگھ کی طرح ایک لاش کے سامنے کھڑے ہیں؟ کیا انہیں اس بات کا ادراک ابھی ہونا ہے کہ ان کے ظلم نے انہیں بھی اندر سے مردہ کر دیا ہے؟
پھر سوچتا ہوں کہ اگر مالکان ایشر سنگھ ہیں، ملازمین ٹھنڈا گوشت ہیں، تو پھر کلونت کور کون ہے؟ کیا کلونت کور ملازمین کا اعتماد ہے؟ کیا کلونت کور ملازمین کی نظر میں مالکان کی عزت ہے؟ افسانے کا ایشر سنگھ ٹھنڈے گوشت پر پتہ پھینکتے پھینکتے کلونت کور کو بھی کھو دیتا ہے۔
ظلم سہنے والا تو تباہ ہوتا ہی ہے، ظلم کرنے والا بھی کسی جوگا نہیں رہتا۔