Thursday, 27 March 2025
  1.  Home
  2. Blog
  3. Omair Mahmood
  4. Khulay Khat Mein Nawaz Sharif Se Chand Sawal

Khulay Khat Mein Nawaz Sharif Se Chand Sawal

کھلے خط میں نواز شریف سے چند سوال

نواز شریف کہتے ہیں ان کو قوم سے گلہ ہے کہ جب انہیں اقتدار سے ہٹایا گیا تو قوم خاموش رہی۔ نواز شریف کا قوم سے گلہ بجا، سر آنکھوں پر۔ لیکن نواز شریف صاحب، قوم کو بھی آپ سے کئی گلے ہیں۔

قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ جب وہ ووٹ دے کر آپ کو اسمبلی بھیجتی ہے تو آپ اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتے۔ 2013 سے لے کر 2018 تک قومی اسمبلی کے 467 اجلاس ہوئے۔ ان میں سے آپ نے صرف 44 میں شرکت کی۔ یعنی آپ صرف 10 فیصد اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ نواز شریف صاحب، 2017 میں آپ کو نااہل کر دیا گیا تھا، یعنی چار سال میں آپ نے صرف 44 اجلاسوں میں شرکت کی اور انہی چار سال میں آپ نے 64 غیر ملکی دورے کیے۔ جن پر ملکی خزانے سے ایک ارب روپے خرچ ہوئے۔ نواز شریف صاحب! قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ چار سال میں آپ کو 64 غیر ملکی دورے کرنے کا وقت تو مل گیا، قومی اسمبلی آنے کا وقت کیوں نہ ملا؟

نواز شریف صاحب! آپ نے اپنی پارٹی کو اپنے خاندان کی پراپرٹی بنا دیا۔ آپ نے نئے چہرے سامنے نہ آنے دیے۔ اہم عہدوں کے لیے ہر نام آپ کے خاندان سے ہی آتا ہے۔ آپ نہ ہوں تو شہباز شریف کو عہدہ ملے گا۔ مریم نواز کو ملے گا۔ حمزہ شہباز کو ملے گا۔ لیکن کسی سعد رفیق کو نہیں ملے گا۔ قوم کو یہ گلہ بھی ہے آپ سے۔

وزیر خزانہ بننا ہے تو بھی اسحاق ڈار نے بننا ہے، وزیر خارجہ بننا ہے تو بھی اسحاق ڈار نے بننا ہے۔ نائب وزیراعظم بھی اسحاق ڈار کو ہی بنایا جائے گا۔ قوم کو آپ سے گلہ ہے نواز شریف صاحب! کہ وزارت خارجہ کا کوئی تجربہ نہ ہوتے ہوئے بھی اسحاق ڈار کو وزیر خارجہ کیوں بنایا گیا؟ کیا آپ کی جماعت میں خارجہ امور کا ماہر اور کوئی فرد نہیں؟

قوم کو آپ سے یہ گلہ ہے کہ جب آپ کو تین بار وزارت عظمیٰ ملی تو آپ نے نظام انصاف میں اصلاحات کیوں نہ لائیں۔ ایسا نظام کیوں نہ بنایا کہ کسی وزیراعظم کو خلاف قانون اقتدار سے ہٹایا ہی نہ جا سکے۔

قوم کو آپ سے یہ بھی گلہ ہے کہ آپ نظام انصاف پر اثر انداز ہونے کی کوشش کیوں کرتے رہے۔ جج ملک قیوم کو فون کرکے بے نظیر بھٹو کے خلاف مرضی کے فیصلے کیوں لیتے رہے۔ قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ میثاق جمہوریت پر دست خط کرنے کے باوجود میمو گیٹ کیس میں کالا کوٹ پہن کر پیپلز پارٹی کے خلاف عدالت کیوں گئے۔

نواز شریف صاحب! آپ نے دو ہزار اٹھارہ میں ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ بنایا اور جس شخصیت کے خلاف بیانیہ بنایا بعد میں ووٹ کو عزت دینے کے بجائے اسی شخصیت کو عزت دی۔ اس کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے اپنی جماعت کو اُس قانون سازی کا حکم دیا جسے آپ کی اپنی صاحب زادی گناہ سمجھتی ہیں۔ نواز شریف صاحب! جو مریم نواز کے لیے گناہ ہے، قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ آپ نے وہ گناہ کیوں کیا۔

نواز شریف صاحب! آپ اور آپ کی پارٹی کے رہ نما جنرل فیض کو اسلام آباد دھرنے کا ذمہ دار بتاتے رہے، لیکن کمیشن کے سامنے ان الزامات کے حق میں بیان دینے کا موقع آیا تو خاموشی کر لی۔ قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ بیانیہ بنایا تھا تو بیان کیوں نہ دیے۔ قوم کو آپ سے یہ بھی گلہ ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کو دھاندلی زدہ کہتے رہے، پھر دھاندلی کے الزامات لے کر متعلقہ فورم سے رجوع کیوں نہ کیا۔

نواز شریف صاحب آپ قوم کی خاموشی کا گلہ کرتے ہیں، قوم آپ سے نظریات فراموشی کا گلہ کرتی ہے۔ قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ قوم نے تو آپ کا ساتھ دیا، آپ کو وزیر اعظم بنایا، پھر آپ نے ملک میں رہ کر پرویز مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرنے کے بجائے راہ فرار کیوں اختیار کی۔ ڈیل کی خاطر نظریات کی قربانی کیوں دی۔

آپ تو خود نیب کے متاثرہ ہیں۔ پھر آپ کے بھائی کے دور حکومت میں چیئرمین نیب آفتاب سلطان کو ایسا کیا کہا گیا کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے۔ اگر آپ نے شہباز شریف سے یہ سوال نہیں کیا، تو بھی قوم کا گلہ آپ سے بنتا ہے نواز شریف صاحب۔

اگر آپ صرف اپنے خلاف سیاسی زیادتی پر بولتے ہیں اور دوسری جماعتوں کے خلاف ظلم پر خاموش رہتے ہیں، تو قوم کو اس کا بھی آپ سے گلہ ہے۔

نواز شریف صاحب! جب آپ نے 2013 میں حکومت سنبھالی تھی تو پاکستان کی برآمدات 25 ارب ڈالرز تھیں۔ 2017 میں یہ کم ہو کر 22 ارب ڈالرز کی ہو چکی تھیں۔ قوم کو آپ سے گلہ ہے کہ ایسے معاشی منصوبے کیوں نہ بنائے جن سے ملک کی ایکسپورٹس بڑھیں اور امپورٹس کم ہوں۔

نواز شریف صاحب! قوم کو آپ سے یہ بھی گلہ ہے کہ آپ کے خاندان کے کاروباری ادارے ترقی کر رہے ہیں تو سرکار کے کاروباری ادارے سات سو تیس ارب روپے کا نقصان کیوں کرتے ہیں۔

قوم کو آپ سے یہ بھی گلہ ہے کہ جب آپ کی پارٹی کی حکومت نہیں تھی تو آپ کی بیٹی مریم نواز لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے پاس جاتی تھیں، انہیں گلے لگاتی تھیں، پھر حکومت میں آنے کے بعد ایسا کیوں نہیں کرتیں، لاپتہ افراد کے مسائل حل کیوں نہیں کرتیں؟

قوم نے آپ کی جماعت کو چار بار اقتدار دیا ہے نواز شریف صاحب۔ اس کے باوجود اس ملک میں عام آدمی کی زندگی میں آسانی کیوں نہیں ہے۔ اسے انصاف کیوں نہیں ملتا۔ اچھی تعلیم کیوں نہیں ملتی۔ معیاری علاج کیوں نہیں ملتا۔ ریاست اس سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں کرتی ہے۔ آپ نے پولیس اور تھانہ کلچر کیوں نہ تبدیل کیا۔ پٹوار کلچر کیوں نہ تبدیل کیا۔ پراسیکیوشن کا نظام کیوں نہ بہتر کیا۔ بلدیاتی نظام کیوں نہ مضبوط کیا۔ اگر آپ کو قوم سے ایک گلہ ہے، تو اس قوم کو بھی آپ سے کئی گلے ہیں نواز شریف صاحب۔

میں عموماً سیاسی گفتگو سے پرہیز کرتا ہوں، لیکن جب نواز شریف نے قوم سے گلہ کیا تو مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں نے بھی اپنی چند گزارشات پیش کی ہیں۔ ہو سکے تو غور کیجیے گا، تاکہ اگلی بار آپ قوم سے گلہ کرنے کے بجائے قوم کے گلے بھی دور کریں۔

Check Also

Kya Hum Ikatha Reh Sakte Hain? (2)

By Haider Javed Syed