Himmat Hai To Mujhe Jail Mein Dalo
ہمت ہے تو مجھے جیل میں ڈالو

جب ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر ناقابل تسخیر ہونے کا گمان ہوا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی 1968 میں کی گئی تقاریر سے چیدہ چیدہ جملے، جن میں آج کے سیاست دانوں کےلیے بھی سبق ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب خان سے راہیں جدا کرکے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو عوام میں انہیں بے پناہ مقبولیت ملی۔ اس مقبولیت نے انہیں بے خوف کر دیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ عوام اگر ان کے ساتھ ہیں تو حکومت ان پر ہاتھ ڈالنے کی جراَت نہیں کرے گی۔ اس لیے وہ جلسوں میں ایوب خان کی حکومت کو للکانے لگے تھے۔ جلسوں میں میر جعفر کا ذکر کیا کرتے۔ عوام کو کہتے تھے، خوف کے بتوں کو توڑ ڈالو۔ حکومت سے کہتے تھے، ہمت ہے تو انہیں جیل میں ڈال کر دکھائے۔
ایوب خان حکومت نے بھٹو کے خلاف سرکاری ٹریکٹر کو ذاتی استعمال میں لانے کا مقدمہ بنایاتھا۔ اس کا جواب ذوالفقار علی بھٹو نے ایبٹ آباد میں ایک جلسے سے خطاب میں دیا۔ انہوں نے کہا۔
میں آٹھ سال تک حکومت کا حصہ رہا۔ چاہتا تو فیکٹریاں بنا لیتا، بیرون ملک دولت کے انبار لگا لیتا۔ یہ سب میں بہت آسانی سے کر سکتا تھا۔ اگر میں نے یہ سب نہیں کیا، تو کیا سرکاری ٹریکٹرز کو ذاتی استعمال میں لانے جیسا چھوٹا سا کام کر سکتا ہوں؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے میں بڑی بڑی رقوم چھوڑ کر سکے چننا شروع کر دوں۔ ایک بار ایک بڑی طاقت کے نمائندے نے میرا بازو پکڑ کر کہاتھا، بھٹو صاحب! آپ تھوڑا سمجھوتہ کر لیں تو جو آپ چاہیں گے آپ کو فراہم کر دیا جائے گا۔ میں نے جھٹک کر اپنا بازو چھڑایا اور جواب دیا تھا، دوبارہ یہ کوشش نہ کرنا۔ اگر تم چند افراد کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان میں ہر کوئی میر جعفر ہے۔ میں دوسروں کی طرح نہیں جو ذاتی دولت اور مفاد کے لیے قومی مفاد قربان کر دوں۔
پھر ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کی حکومت سے مخاطب ہوئے۔
میں بزدل نہیں ہوں۔ میں تمہاری بندوقوں سے بھی خوف زدہ نہیں۔ آؤ! اٹھاؤ اپنی بندوقیں۔ میرے ساتھ لوگوں کی طاقت ہے اور یہ طاقت ایٹم بم سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ میں تم سے ڈرتا نہیں ہوں۔ تم مجھے جیل میں کیوں نہیں ڈالتے؟ اگر تم مجھے جیل میں ڈالو گے تو لوگ تمہیں حکومت سے نکال دیں گے۔
حیدر آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے لوگوں سے کہا۔
اپنے دلوں سے خوف کے بت نکال دو۔ اپنے مقصد کے لیے لڑو۔ یہ خوف صرف ایک غبارہ ہے، مزاحمت اس غبارے کو پھاڑ دے گی۔ حکومت نے اپنی تباہی کے بیج بو دیے ہیں۔ ظلم اور کرپشن تباہی کی اس فصل کے لیے کھاد کا کام کرے گی۔ موجودہ نظام کی برائیاں ہماری سیاست کے لیے کینسر بن چکی ہیں۔ اب اس کینسر کا علاج دوائی سے نہیں ہوگا۔ بلکہ آپریشن کرنا پڑےگا۔
پشاور میں جلسے سے کہا۔
اس ملک میں عوام نہیں، فوج حکومت کر رہی ہے اور پھر بھی یہ ایک کمزور حکومت ہے۔ یہ حکومت طاقتور ہو بھی کیسے سکتی ہے، کیوں کہ اس کی پالیسیز تو عوام مخالف ہیں۔ یہ حکومت آدم خوروں کی ہے۔ یہ خواجہ ناظم الدین اور سہروردی کو کھا گئی اور ابھی بھی اس حکومت کو مزید بھوک ہے۔ لیکن یہ مجھے نہیں کھا پائے گی!
ایک اور جگہ حکومت کو للکارا، چاہتے ہو تو مجھے گرفتار کر لو۔ یا بے شک مار ہی ڈالو۔
اور پھر، 12 نومبر1968 کو ڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ بنایا گیا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ حکومت کے خلاف لوگوں کے دلوں میں نفرت پھیلا رہے ہیں اور 13 نومبر کو وہ گرفتار کرکے میاں والی جیل منتقل کر دیے گئے۔
اس جیل کا احوال بھٹو نے عدالت کو یوں بتایا۔
مجھے جس کمرے میں رکھا گیا اس کمرے میں مچھروں اور چوہوں کی بہتات تھی۔ ساتھ ہی حوائج ضروریہ کے لیے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا اور وہ اتنا گندہ تھا کہ اس میں داخل ہونا بھی مشکل تھا۔
چوبیس گھنٹے وہاں روشنی رکھی جاتی تھی جس کی وجہ سے سونا بھی میرے لیے مشکل ہوگیا تھا۔۔
اس تحریر کےلیے سٹینلے وولپرٹ کی کتاب زلفی بھٹو آف پاکستان سے استفادہ کیاگیا۔