Islam, Nazria e Irtiqa Aur Jadeed Mulhideen Ka Ilmi Fiqr
اسلام، نظریۂ ارتقا اور جدید ملحدین کا علمی فقر

نظریۂ ارتقا کو لے کر جدید ملحدین نے جو فکری محاذ کھولا ہے، وہ درحقیقت سائنسی تحقیق سے زیادہ ایک سطحی پروپیگنڈا معلوم ہوتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کسی بھی علمی و تحقیقی اساس کے بغیر، صرف اسلام کے خلاف من گھڑت الزامات تراشنے کو اپنی فکری بلندی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ، اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو نظریۂ ارتقا خود کبھی کسی مذہب کے خلاف ایک شعوری تحریک نہیں رہا۔ بلکہ، جدید الحاد کے وہ نمائندے جو سائنسی تفہیم سے نابلد ہیں، اسے اسلام دشمنی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔
یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ نظریۂ ارتقا ایک سائنسی تصور ہے، نہ کہ کوئی ایسا فلسفہ جسے کسی مذہب کی مخالفت میں گھڑا گیا ہو۔ سائنس کی دنیا میں نظریات ہمیشہ سائنسی دلائل کی روشنی میں پروان چڑھتے ہیں، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی عقیدے کو چیلنج کرنے کے لیے۔ لیکن جدید ملحدین اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے ارتقا کو ایک معرکۂ کارزار سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ علمی دیوالیہ پن ہی ہے جو ان کے ہر بیان اور ہر مناظرے میں جھلکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جدید ملحدین کے اکثر مباحث سطحی، غیر منطقی اور تحقیقی بنیادوں سے عاری ہوتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نہ تو سائنسی علوم کی باریکیوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی اسلامی عقائد کے عمیق مطالعے سے بہرہ مند ہیں۔ ان کے اکثر اعتراضات محض سنی سنائی باتوں اور مغربی دانشوروں کے سطحي اقتباسات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اس حقیقت سے بے بہرہ ہوتے ہیں کہ اسلام میں تحقیق و جستجو کو ایک مقدس عمل قرار دیا گیا ہے اور علم کی جستجو کو دین کا ایک بنیادی تقاضا گردانا گیا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جدید ملحدین کا ہدف ہمیشہ وہی افراد ہوتے ہیں جو علمی لحاظ سے کمزور اور سائنسی اصطلاحات سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی مناظرانہ چالاکیوں سے انہیں الجھا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا ارتقا اور اسلام میں تضاد ہے۔ لیکن جب کوئی صاحبِ علم ان کے مغالطوں کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتا ہے تو یہ یا تو بحث سے راہِ فرار اختیار کر لیتے ہیں یا پھر بات کو گمراہ کن انداز میں پیش کرتے ہیں۔
ارتقا ایک سائنسی ماڈل ہے جو حیاتیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے وضع کیا گیا ہے، جبکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو فکری اور روحانی ارتقا کی بات کرتا ہے۔ اگر جدید ملحدین واقعی تحقیق کے متلاشی ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ اسلامی تعلیمات میں عقل و استدلال کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن حکیم میں بارہا تدبر اور تفکر کی تلقین کی گئی ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام علم اور سائنسی تحقیق کا مخالف نہیں بلکہ اس کا محرک ہے۔
یہ کہنا کہ نظریۂ ارتقا اسلام کی نفی کرتا ہے، علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات کے باوجود ارتقا محض ایک نظریہ ہے، جس میں کئی مفروضے اور سائنسی خلا موجود ہیں۔ یہاں تک کہ کئی جدید سائنسدان بھی اس نظریے کے بعض پہلوؤں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ اس کے باوجود، جدید ملحدین ارتقا کو ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرکے یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مذہبی عقائد فرسودہ ہو چکے ہیں۔ حالانکہ، اگر وہ واقعی سائنس کے معیار پر ایمان رکھتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ سائنس میں کوئی بھی نظریہ دائمی نہیں ہوتا، بلکہ وقت اور تحقیق کے ساتھ ساتھ ہر تصور میں تبدیلی اور بہتری ممکن ہوتی ہے۔
جدید ملحدین کی اسلام دشمنی کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ مغربی معاشروں میں پناہ حاصل کرنے کے لیے اسلام پر بے بنیاد اعتراضات اٹھاتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی شناخت اور مقاصد کے لیے سائنسی نظریات کو صرف ایک بہانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان کی اصل نیت مذہب بیزاری کو فروغ دینا ہوتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی لوگ جب کسی دوسرے مذہب کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو ان کے لیے تمام معیارات بدل جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی فرد ارتقا یا کسی اور سائنسی نظریے کو اسلام کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرے تو وہ خود دیکھ سکتا ہے کہ دونوں میں کوئی براہِ راست تضاد موجود نہیں۔ اسلام میں تحقیق اور سائنسی تفکر کو ہمیشہ سے سراہا گیا ہے اور اگر جدید ملحدین واقعی حقیقت پسند ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ سائنس کا ہر نیا نظریہ کسی پرانے نظریے کی ترمیم شدہ شکل ہی ہوتا ہے۔
لہٰذا، ضروری ہے کہ ان سطحی اعتراضات کے جواب میں محض جذباتی ردعمل دینے کے بجائے علمی میدان میں مضبوط دلائل اور تحقیقی انداز میں گفتگو کی جائے۔ اسلام اور سائنس کے درمیان ایک مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور اس کا ادراک صرف انہیں ہوتا ہے جو تحقیق کے اصولوں کو جانتے اور عقل و شعور کا درست استعمال کرتے ہیں۔ جدید ملحدین کی علمی پسماندگی کو بے نقاب کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ اسلام اور سائنسی نظریات کا مطالعہ گہرائی میں جا کر کیا جائے اور ہر دعوے کو تحقیق کی روشنی میں پرکھا جائے، نہ کہ اندھی تقلید یا تعصب کے جذبات میں بہہ کر بے بنیاد باتوں پر یقین کر لیا جائے۔