Friday, 30 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Lahore Ki Do Azla Mein Taqseem

Lahore Ki Do Azla Mein Taqseem

لاہور کی دو اضلاع میں تقسیم

لاہور محض ایک شہر نہیں، یہ پاکستان کا سیاسی، معاشی اور تہذیبی دل ہے۔ مگر یہی دل آج حد سے زیادہ بوجھ تلے دب چکا ہے۔ آبادی کا بے قابو پھیلاؤ، بدترین ٹریفک جام، صفائی کے مسائل، تجاوزات اور امن و امان کی صورتحال اس بات کی واضح علامت ہیں کہ لاہور اب روایتی انتظامی ڈھانچے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ ایسے میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے لاہور کو دو اضلاع، لاہور شمالی اور لاہور جنوبی، میں تقسیم کرنے کی منظوری ایک اہم مگر ناگزیر فیصلہ دکھائی دیتی ہے۔

سرکاری مؤقف کے مطابق اس تقسیم کا مقصد انتظامی سہولت اور بہتر حکمرانی ہے، جبکہ اس پر عملدرآمد بسنت کے بعد کیا جائے گا تاکہ شہری سرگرمیوں اور انتظامی تسلسل میں خلل نہ آئے۔ بظاہر یہ فیصلہ محتاط منصوبہ بندی کا عکاس ہے، کیونکہ بڑے انتظامی فیصلوں میں عجلت اکثر مسائل کو حل کرنے کے بجائے بڑھا دیتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایک کروڑ سے زائد آبادی والے شہر کو ایک ہی ضلع کے ذریعے چلانا اب ممکن نہیں رہا۔ ایک ڈپٹی کمشنر، ایک پولیس کمانڈ اور ایک ضلعی انتظامیہ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہر گلی، ہر محلے اور ہر مسئلے پر یکساں توجہ دے سکے، عملی حقائق سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے۔ دو اضلاع کی صورت میں انتظامی بوجھ تقسیم ہوگا، افسران کا دائرہ اختیار محدود اور توجہ مرکوز ہوگی، جس سے فیصلہ سازی اور عملدرآمد میں بہتری آ سکتی ہے۔

لاہور کے شہری مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ شکایات طویل انتظامی زنجیروں میں الجھ کر رہ جاتی ہیں۔ صفائی ہو یا تجاوزات، ٹریفک ہو یا امن و امان، مسئلہ نیچے کا ہوتا ہے مگر فیصلہ اوپر اٹک جاتا ہے۔ دو اضلاع بننے کے بعد عوام کو اپنے ہی علاقے میں انتظامی رسائی حاصل ہوگی، جس سے مسائل کے فوری حل کا امکان بڑھے گا اور اداروں کی جوابدہی بھی واضح ہوگی۔

پولیسنگ کے شعبے میں بھی یہ تقسیم اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ لاہور جیسے پھیلے ہوئے شہر میں ایک مرکزی پولیس کمانڈ مؤثر کنٹرول قائم رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ نئے اضلاع کی صورت میں پولیس حکمتِ عملی مقامی ضروریات کے مطابق ترتیب دی جا سکے گی، جس سے جرائم پر قابو پانے اور ہنگامی صورتحال میں ردِعمل بہتر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

دنیا کے بڑے شہروں پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ انتظامی تقسیم کوئی انوکھا تصور نہیں۔ لندن، دہلی، استنبول اور دیگر میگا سٹیز کو متعدد اضلاع یا زونز میں تقسیم کرکے ہی قابلِ انتظام بنایا گیا۔ اس تناظر میں لاہور کی تقسیم کسی تجربے کے بجائے ایک آزمودہ عالمی ماڈل کی پیروی ہے۔

تاہم اس فیصلے کے ساتھ چند خدشات بھی جڑے ہیں۔ ماضی میں انتظامی اصلاحات اکثر کاغذوں اور نوٹیفکیشنز تک محدود رہی ہیں۔ اگر نئی اضلاع کی تقسیم کے باوجود اختیارات، وسائل اور فنڈز نچلی سطح تک منتقل نہ کیے گئے، یا سیاسی مداخلت بدستور برقرار رہی، تو یہ قدم بھی محض نام کی حد تک رہ جائے گا۔

اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب نئی انتظامیہ کو حقیقی اختیار، شفاف نظام اور عوامی خدمت کا واضح مینڈیٹ دیا جائے۔ اگر ایسا ہو سکا تو لاہور کے شہری برسوں بعد عملی بہتری محسوس کر سکیں گے، بصورتِ دیگر یہ تقسیم ایک اور فائل بند اصلاح بن کر رہ جائے گی۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ لاہور کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ زمینی حقائق کا اعتراف ہے۔ یہ فیصلہ شہریوں کے مفاد میں ہے، بشرطیکہ اسے نیت، صلاحیت اور مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ لاہور اب ایک عام شہر نہیں رہا اور غیر معمولی شہر غیر معمولی فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں۔

Check Also

Bharat Europen Union Deal Pakistan Par Kya Asar Daale Gi?

By Amir Khakwani