Waldain, Gen Z Aur Inke Masail
والدین، جین زی اور انکے مسائل
ہم والدین کی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آج کل کے بچوں کو کسی کی پرواہ نہیں۔ انہیں فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کیا کہیں گے۔ یہ درست ہے کہ آج کے نوجوان اپنی بات زیادہ کھل کر کہہ دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اندر سے بھی اتنے ہی پراعتماد ہیں۔
تحقیق مسلسل یہ بتا رہی ہے کہ جین زی میں اینگزائٹی، ڈیپریشن، تنہائی اور بوڈی امیج سے متعلق ان سیکیورٹی کی شرح پچھلی نسلوں کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ یہ اتنے خوش نہیں ہیں جتنا ہم خیال کرتے ہیں۔ گریس اینڈ گلیم میں بار بار بچیاں خود بھی اپنے اینگر ایشوز کا ذکر کرتی تھیں، پیرنٹ ٹیچر میٹنگز میں بھی بارہا بچیوں کے چڑچڑے پن کا ذکر ہوا۔ اپنی ذات میں کھوئی ہوئی یہ نسل بس اپنی ذات تک محدود ہو رہی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا ماحول ہے۔
سوچیے، ہم جب بڑے ہو رہے تھے تو ہمارا موازنہ زیادہ سے زیادہ اپنی کلاس، محلے یا کسی کزنز سے ہوتا تھا۔ آج ایک تیرہ سال کی بچی صبح آنکھ کھولتے ہی دنیا کی خوبصورت ترین، امیر ترین، فٹ ترین اور سب سے زیادہ مقبول لڑکیوں کو اپنی سکرین پر دیکھتی ہے۔ وہ بھی فلٹرز، ایڈیٹنگ، بہترین لائٹنگ اور کئی بار کوسمیٹک ٹریٹمنٹس کے بعد۔
وہ یہ سب کچھ محسوس کرتی ہیں، بلکہ لاشعور میں یہ چیزیں بہت آہستگی سے جگہ بنا رہی ہوتی ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ ہر لڑکی کچھ مخصوص انداز ہی کیوں پوز کرتی ہے پکچرز میں؟ ہونٹوں کا ایک خاص پاؤٹ بنانا سات آٹھ سال کی چھوٹی سی بچیوں تک میں ہے۔
تو یہ کہنا درست نہیں کہ انہیں فرق نہیں پڑتا کہ "لوگ کیا کہیں گے"۔ انہیں یقیناً فرق پڑتا ہے۔ وہ دھیان میں ہوتے ہیں کہ کسی پکچر پر کتنے لائکس آئے ہیں۔ کتنے لوگوں نے میری سٹوری دیکھی ہے۔ میری فرینڈ کی پوسٹ پر مجھ سے زیادہ تعریف کیوں ہوئی۔
یعنی اب ویلیڈیشن گنے چنے لوگوں سے نہیں، بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں سے مانگی جا رہی ہے۔ اسی لیے یہ لوگ اپنی ورتھ کو اپنی شخصیت سے نہیں، بلکہ اپنی ظاہری شکل، فالوورز، ویوز اور لائکس سے جوڑنے لگتے ہیں۔ سوچیے ان پر کتنا دباؤ ہے اس سب کا۔
پھر ایک اور مسئلہ ہے کہ سوشل میڈیا صرف دوسروں کی پرفیکٹ زندگی دکھاتا ہے۔ ہر کسی کی کامیابیاں، بہترین تصویریں، خوشگوار لمحے نظر آتے ہیں، لیکن ان کے چیلنجز، ناکامیاں اور عام دن کسی کی نظر میں نہیں آتے۔ پرفیکٹ ریلیشن شپس، دھوم دھڑکے کی شادیاں، گھومنے پھرنے، مزے مزے کے کھانے۔۔ نوجوان غیر محسوس طریقے سے اپنی عام زندگی کا موازنہ دوسروں کی بظاہر پرفیکٹ زندگی سے کرنے لگتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ I am not good enough.
یاسمین مجاہد اسے scarcity mindset کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ میڈیا ہمیں مسلسل یہ فیڈ کرتا ہے کہ you are not good enough. اس کی مثال انہوں نے یوں دی کہ بتائیے کس کو لگتا ہے اس کا وزن اتنا ہی ہے، جتنا وہ چاہتا ہے۔
ہر کسی کو لگتا ہے کہ یا تو وہ تھوڑا اوور ویٹ ہے، یا پھر انڈر ویٹ ہے۔ اسی طرح جو بھی گھر، گاڑی، فون، ہماری لُکس۔۔ ہر چیز میں آپ گریڈ کا مائنڈ سیٹ۔ یہ میڈیا نے ہی ہمارے ذہنوں میں ڈالا ہے کہ پیدائش سے بھی پہلے بچوں کی پوری themed نرسریاں بنائی جا رہی ہیں۔
بات طویل ہوگئی۔ کہنا بس یہ تھا کہ یہ سب کچھ بہت آہستگی سے ہم پر اثرانداز ہوتا ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ بچوں کو اپنی لُکس کی فکر نہیں۔ انہیں ہے اور ہمیشہ سے بڑھ کر ہے۔ اس میں قصور ان کا نہیں، بلکہ دیکھیے کہ وہ روزانہ کس ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔
پیرنٹنگ آسان تو گزرے زمانوں میں بھی نہیں رہی ہوگی، لیکن والدین کے طور پر ہماری ذمہ داری گزرے دور کے والدین سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ہمیں بچوں کو صرف یہ نہیں سکھانا کہ اللہ نے انہیں خوبصورت بنایا ہے، بلکہ یہ بھی کہ ان کی ورتھ ان کے چہرے، جسم، یا پھر فالوورز اور لائکس سے طے نہیں ہوتی۔ ان کی اصل ورتھ ان کے ایمان، کردار، نرم دلی، ذہانت اور محنت میں ہے۔
یہی بات کل بھی ہوئی کہ جب گھر میں تعریف شکل و صورت کے بجائے ان کی تخلیقی صلاحیتوں، خوش مزاجی، نیک سیرت پر ہوگی تو بچوں کے اندر ایک ایسی خود اعتمادی پیدا ہوگی جو کسی فلٹر، کسی ٹرینڈ اور کسی الگورتھم کے بدلنے سے ٹوٹے گی نہیں۔

