Taqseem e Hind Aur Urdu Fiction
تقسیمِ ہند اور اردو فکشن

بہار2026ء کے سیمسٹر میں، لمز کے طلبا کو "تقسیمِ ہند اور اردو فکشن" کا نصاب پڑھایا۔ گزشتہ برس بھی، بہار ہی کے سیمسٹر میں اسی نصاب کی تدریس کی تھی۔ بہار کا انتخاب محض اتفاق ہے، وگرنہ بہار اور تقسیمِ ہند میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔
تقسیمِ ہند کے لیے موسموں سے کوئی استعارہ منتخب کرنا چاہیں تو وہ موسمِ گرما ہوسکتا ہے۔ میدانی علاقوں کا موسمِ گرما۔ قہر برسانے والی، خشک سالی برپاکرنے والی، غصے اور تشدد کے جذبات کو تحریک دینے والی دھوپ والا موسم گرما۔ ہر شے کو تہس نہس کرنے والی آندھیاں بھی اسی موسم میں آیا کرتی ہیں۔
تقسیم کے فیصلے کا اعلان بھی، اتفاق سے، اسی موسم (3 جون، 1947ء) میں ہوا تھا۔ اگست میں، برسات کے سبب، گرمی کچھ کم ہوجایا کرتی ہے، مگر حبس ہوتا ہے۔
آزادی برسات کی مانند تھی، مگر فسادات، ایک ناقابل تشریح حبس کی پیداوار تھے۔ تقسیم کے فکشن کی مدد سے، اس جبلی، تاریخی، تہذیبی حبس تک رسائی کی کوشش کی، جس نے تاریخ کے غیر معمولی تشدد، قتل وغارت، عصمت دری، خود کشی، جلاؤ گھیراؤ کے واقعات کو جنم دیا۔
اس نصاب کے ذریعے یہ بات بھی سمجھنے کی کوشش کی کہ تاریخ اور فکشن: تقسیم کے واقعے کو الگ طریقوں سے دیکھتے ہیں۔ تاریخ کا طریقہ، واقعے کی صحت اوراس کے بنیادی سیاق کی جستجو ہوا کرتا ہے۔ جب کہ فکشن، واقعے کے تجربے کو بیان کرتا ہے۔ فکشن کا فرضی واقعہ، انسان کے حقیقی تجربے کی غیر معمولی تفہیم میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم کئی ایسے مقامات ہیں، جہاں فکشن اور تاریخ کی ملاقات بھی ہوا کرتی ہے اور اس ملاقات کا اثر دو طرفہ ہوا کرتا ہے۔ پورے نصاب میں، ہم نے فکشن اور تاریخ کے فرق و مماثلت کا لحاظ رکھا۔
گزشتہ برس کی طرح، اس بار بھی میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ طلبا تقسیمِ ہند کے سوال سے، آج بھی گہری دل چسپی رکھتے ہیں اور اس دل چسپی کی نوعیت، تدریسی، یعنی اکیڈمک نوعیت کی نہیں ہے۔
وہ اس کے اثرات، اپنی حقیقی، روزمرہ زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ متعدد طلبا نے بتایا کہ ان کے گھروں میں ایسے بزرگ آج بھی موجود ہیں، جو ڈیمینشیا کا شکار ہیں، مگر تقسیم سے پہلے کے زمانے کو مسلسل دہراتے ہیں۔
وہ فسادات، تشدد کی کہانیاں بھی بیان کرتے ہیں۔
قوم پرستی، شناخت، جنوبی ایشیائی جمہوری سیاست، تشدد، تہذیبی بیگانگی، جنگوں، جنگ کے خطروں، سفری پابندیوں، فلم، صحافت، عام انسانی تعلقات، ناستلجیا، ہجرت، صدمات میں بھی تقسیم جھانکتی محسوس ہوتی ہے۔
ظاہر ہے، تقسیم کا ذمہ دار برطانوی استعمار تھا، جس نے ہندوستان کی آزادی کے متعدد ممکنات میں سے، تقسیم کے ایک ایسے طریقے کو منتخب کیا، جس نے فوری تشدد اور مستقل سرحدی اور آئیڈیالوجیائی تنازعات کو جنم دیا۔
دو ملکوں کا قیام، اس سے بہتر طریقے سے بھی ہوسکتا تھا، مگر برطانوی استعماراور نئے امریکی استعمار کے حق میں، تقسیمِ ہند اور بالخصوص تقسیمِ پنجاب و بنگال کا یہی طریقہ موزوں تھا۔
اس نصاب کے ذریعے، ہم نےخو د فکشن کو بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ فکشن، جب تاریخی واقعے کا طواف کرتا ہے تو خود اپنی افسانویت اور جمالیات کا تحفظ کیسے کرتا ہے۔ وہ کیسے ایک جمالیاتی تناؤ سے گزرتا ہے۔
میں اپنی کلاس کو آرمی میوزیم اور واہگہ بارڈر بھی لے گیا۔ آرمی میوزیم کا ایک حصہ، سنتالیس کے فسادات سے متعلق ہے۔ خاص طور پر وہاں محفوظ کیا گیا ٹرین کا ایک ڈبہ، جس پر مسافر چڑھے، لٹکے ہیں، بے سروسامان ہیں، زخمی ہیں اور پلیٹ فارم پر کچھ مرے پڑے ہیں اور کچھ بے بسی کی انتہائی شدت میں ابدی طور پر گرفتار ہیں۔
ٹرین، تقسیم کے فکشن کا باقاعدہ ایک کردار ہے۔ خشونت سنگھ کے ناول ٹرین ٹو پاکستان کی اشاعت کے آس پاس، اردو میں امرتسر آگیا ہے، پشاور ایکسپریس، کٹا ہوا ڈبا اور کتنے ہی افسانے لکھے گئے، جن میں ٹرین، مرکزی کردار کی مانند یا مرکزی کردار ہے۔ اس کی جو صورت گری آرمی میوزیم میں ہے، اس کی ڈی کنسٹرکشن کچھ طلبا نے ذہانت سے کی۔
واہگہ بارڈر پر زیرو لائن پر پوری کلاس، شام کے وقت کھڑی تھی اور بشن سنگھ کو جیسے وہاں منقسم حالت میں دیکھ رہی تھی۔ واہگہ بارڈر کی پریڈ، جس طور، دونوں ملکوں کی قومی آئیڈیالوجی کو پرفرمارمنس کے انداز میں پیش کرتی ہے اور ذہنوں میں راسخ کرتی ہے، اسے بھی طلبا نے شو ق سے دیکھا او ر بعد میں اپنے باز فکری مضامین، (reflection papers) اس کا تجزیہ کیا۔
میں نے آخری دن طلبا سے سوال کیا کہ انھیں کون سا افسانہ زیادہ پسند آیا۔ جوابات بہت دل چسپ تھے۔
سات طلبا نے منٹو کا "کھول دو" پانچ پانچ طلبانے رامانند ساگر کا "بھاگ ان بردہ فروشوں سے" اور احمد ندیم قاسمی کا "پرمیشر سنگھ"، چار طلبا نے کرشن چندر کا "پشاور ایکسپریس" تین طلبا نے منتو کی کتاب "سیاہ حاشیے" حیات اللہ انصاری کا "شکر گزار آنکھیں۔ منٹو کے "ٹوبہ ٹیک سنگھ"، بھیشم ساہنی کے امرتسر آگیا ہے"، کرشن چندر کے "ایک طوائف کا خط" کو تین طلبا نے پسند کیا۔
جب کہ منٹو نے منٹو کے پڑھیے کلمہ، رضیہ سجاد ظہیر کے "نمک" کو ایک ایک طالب علم نے سراہا۔ نصاب میں انتظار حسین کے ناول بستی اور عبداللہ حسین کے نادار لوگ سے بھی ایک ایک باب شامل تھا۔ بیدی کا لاجونتی بھی شامل تھا۔ کافی نان فکشن بھی نصاب کا حصہ تھا۔
ایک دل چسپ تجربہ اوربھی کیا۔ مڈ ٹرم میں، طلبا کو یہ سوال دیا کہ وہ کرشن چندر کے ایک طوائف کا خط، کے جواب میں، جناح اور نہرو کی طرف سے، جواب لکھیں۔
وہ جواب بہت دل چسپ تھے۔ بمبئی کی طوائف، جناح اور نہرو سے درخواست کرتی ہے کہ وہ بیلا اور بتول کو اپنی بیٹیاں بنالیں۔ جناح ہندو لڑکی بیلا کو اور نہرو مسلمان لڑکی بتول کو۔ کچھ طلبا نے طوائف کی درخواست کا جواب، ہاں میں، اکثر نے ناں میں دیا۔ ان کے دلائل دل چسپ تھے، جو یا تو اس زمانے کی مذہبی قوم پرستی کے حق میں تھے، یا اس کی مخالفت میں۔
میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ طلبا، فکشن کے نفسیاتی و جذباتی اثر، ہم دلی اور انسانی تعلق کی شکست و ریخت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ فنی باریکیوں پر ان کی نظر کم ہی پڑتی ہے۔

