Qissa Mir Taqi Mir Ke Junoo Ka
قصہ میر تقی میر کے جنوں کا

میر نے اپنے جنون کے حالات، جنون کے خاتمے کے سالوں بعد لکھے۔ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ میر نے جنون کے مکمل تجربے کو نہیں، اس تجربے کی یاد کو لکھا ہے۔ چند واقعات پر زیادہ توجہ صرف کی ہے اور کئی باتیں حذف بھی کردی ہیں۔ اس کا امکان ہے کہ کچھ باتیں اضافہ بھی کردی ہوں۔
میر کے جنوں میں جن واقعات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے، ان میں دو اہم ہیں۔ میر کا حجرے میں بند ہو جانا اور چاند میں پیکر خوش صورت کو دیکھنا۔
مثنوی میں لکھا ہے کہ "کیا بند اک کوٹھڑی میں مجھے"، جب کہ آپ بیتی میں لکھا ہے کہ "جس حجرے میں رہتا تھا، اس کا دروازہ بند کر لیتا تھا"۔ ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ دونوں صورتیں رہی ہوں گی۔
میر کو بند بھی کیا ہوگا اور وہ خود بھی باہر نہیں جاتے ہوں گے۔ جنون اور خصوصاً ڈپریشن کی شدید حالت اور بعض اوقات شیزوفرینیا میں مریض خود کو کمرے میں بند کرلیتا ہے۔ اس حالت کے لیے Hikikomori کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے۔ اس حالت میں مریض کئی مہینوں کے لیے خود کو قید کرلیتا ہے اور تمام سماجی وابستگیوں سے الگ ہوجاتا ہے۔
میرنے بھی خود کو سب سے الگ کر لیا۔ ان کی دنیا گور سے تنگ تر اور تاریک کمرے، تک سمٹ گئی تھی۔ میر صدمے، جذبات کے تصادم اور جذبات کو دبانے (repression) کی پیچیدہ حالتوں کا شکا ر تھے۔ ان کی مجموعی حالت دراصل ان میں گم، (lost) ہونے کی تھی۔
انھوں نے اپنے کمرے کے لیے گور سے تنگ تر، کا امیج استعمال کیا ہے۔ وہ اندرونی طور پر بھی اسی قبر سے تنگ تر اور انتہائی تاریک حالت میں پاتے تھے۔
تاہم ان کی حالت اتنی نہیں بگڑی تھی کہ انھیں باقاعدہ قید کیا جاتا۔ وگرنہ عہد وسطیٰ میں ان دیوانوں کو، جن کے یہاں خللِ دماغ واضح ہوا کرتا تھا، انھیں سماج سے الگ کردیا جاتا تھا۔ انھی کو بعض اوقات زنجیر پہنائی جاتی اور داخلِ زنداں بھی کیا جاتا رہا ہے، نیز تشدد کیا جاتا ہے۔
اس کے سبب اردو شاعری کو زنداں، زنجیر، شورش، سنگ جیسے الفاظ ملے ہیں۔
برنارڈ ہارٹ نےاپنی کتاب "نفسیات جنوں" میں لکھا ہے کہ عہد وسطیٰ میں مجذوبوں کو سماج کی ذمہ داری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مجذوب "غلاظت سے بھری پتھر کی ٹھنڈی سیلی کوٹھڑیوں میں مقید رکھے جاتے تھے، جہاں ہوا اور روشنی کا گزر نہ ہوتا تھا۔ انھیں پھونس کا ایک بچھونا دیا جاتا تھا جس کو شاذونادر ہی بدلاجاتا تھا اور جو بہت ہی جلد متعدی امراض کے جراثیم کا مسکن بن جاتا تھا۔ بدنصیب مریضوں کو زنجیروں میں جکڑ کر جہازی غلاموں کی طرح رکھا جاتا تھا"۔
میشل فوکو نے اپنی کتاب "پاگل پن اور تہذیب" میں انھی دیوانوں، مجذوبوں کے ساتھ یورپی معاشرے کے سلوک کو موضوع بنایا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ کچھ پاگلوں کو سماج سے بے دخل کردیا جاتا تھا۔ انھیں سماج سے خارج کرکے، کشتیوں میں بٹھا دیا جاتا اور انھیں دریا کی موجوں کے سپر د کردیا جاتا تھا۔
علاوہ ازیں پاگلوں کو فقیر، بے روزگار اور مجرموں کے ساتھ قید کیا جاتا تھا۔
نیز علاج کے نام پر، ان سے سختی برتی جاتی تھی۔ اس سختی کو اخلاقی اصلاح کا ایک مئوثر ذریعہ خیال کیا جاتا تھا۔ کئی بار لوگ ان پاگلوں کو زنجیروں میں جکڑ ا دیکھنے کے لیے شہر کے لوگ امڈ پڑتے تھے۔
میر کے جنوں کی دوسری اہم چیز، چاند میں پیکر خوش صورت کو دیکھنا ہے۔
سی ایم نعیم نے لکھا ہے کہ دیوانگی کو قدیم زمانے سے، چاند کے اثرات کے تحت سمجھا جاتا تھا۔ انھوں نے اسے ماہ زدگی یعنی Moonstruck کا نام دیا ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں، انگریزی لفظ Lunacyکا ذکر کیا ہے، جس کا مطلب ہی دیوانگی ہے۔ یہ لفظ لاطینی لفظ Luna یعنی چاند سے مشتق ہے۔ سی ایم نعیم نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کیا واقعی چاند، دیوانگی کاسبب ہے؟
اگر چاند دیوانگی پیدا کیا کرتا تو چاند کو دیکھنے والے، سب ہی کم یا زیادہ دیوانگی کا شکا ر ہوتے۔ صرف میر ہی دیوانہ کیوں ہوئے؟
اصل یہ ہے کہ چاند، دیوانگی پیدا نہیں کرتا، چاند، دیوانگی کو بیان کرتا ہے۔ ہمارے پاس، اپنی اندرونی حالتوں کو بیان کرنے کی زبان موجود نہیں ہے۔ ہم یہ زبان، باہر کی دنیا سے مستعار لیتے ہیں۔
ہم دیکھتے ہیں کہ سورج مستقل مزاج ہے، چاند کے مزاج میں تلوّن ہے۔ سورج کے طلوع، غروب ہونے اور آسمان میں چمکنے کا ایک مستقل چکر ہے۔ چناں چہ سورج، انسانوں کا اوّلین دیوتا ہے۔ اس کے نکلنے اور غائب ہونے کے اسلوب میں فرق نہیں آتا، البتہ وہ گرمیوں میں غضب ناک اور سردیوں میں مہربان ہوجاتاہے۔
اقبال کی نظم "آفتاب"، رگ وید کے منتر گائتری کا منظوم ترجمہ ہے۔ اس کا پہلا شعر ہے:
اے آفتاب، روح و روانِ جہان ہے تو شیرازہ بندِ دفترِ کون و مکاں ہے تو
دوسری طرف چاند گھٹتا، بڑھتا رہتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے۔
سورج، انسان کے ان احساسات کی نہایت ارفع نمائندگی کرتا ہے، جوآسمانی، ماورائی دنیا سے متعلق ہیں، جب کہ چاند، بشری حالتوں کو بیان کرنے کا غیر معمولی استعارہ ہے۔
سورج کی طرف دیکھا نہیں جاسکتا، وہ انسانی آنکھ اور تخیل سے ورا رہتا ہے، جب کہ چاند کی طرف دیر تک دیکھا جاسکتا ہے۔ اسی سبب سے، چاند میں صورتیں نظر آتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ چاند میں کوئی صورت نہیں ہے، وہاں صرف پہاڑ، چٹانیں، کھائیاں ہیں، جن پر سورج کی روشنی منعکس ہورہی ہوتی ہے۔ لیکن ہمیں، اس میں صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ کیوں؟ اس کے جواب میں ایک اصطلاح گھڑی گئی ہے: Pareidolia.
اس کا لفظی مطلب متوازی صورت، ہے۔ یعنی کسی شے میں کسی صورت کو دیکھنا۔ ہم بادلوں، چاند، فضا، خلا، درختوں، دیواروں (منھ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ)، جانوروں، پرندوں، دشت میں ہوا سے بنے ٹیلوں میں بھی صورتیں، دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ وہاں صورتیں موجود نہیں ہیں، مگر ہمیں وہ نہ صرف وہ دکھائی دیتی ہیں، بلکہ ان کا اثر حقیقی صورتوں کا ہوتا ہے، یعنی ہم محض انھیں دیکھتے نہیں، ان کا تجربہ بھی کرتے ہیں۔
جیسے دشت میں پانی ہوتا نہیں، مگر دکھائی دیتا ہے۔ یہ ایک فریب ہے۔ لیکن نفسی خلل کے مریض کا فریبِ حواس نہیں۔ اس کے پیچھے، بقا کا اصول کام کررہا ہے۔
انسانی ذہن نے، پورے انسانی وجود اور نوعِ انسانی کو باقی رکھنے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے۔ وہ جب بھی کوئی نئی، اجنبی اور انوکھی چیزدیکھتا ہے تو وہ برق رفتاری سے، اسے سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ ایک علم، پیدا کرکے یہ فیصلہ کرنا چاہتا ہے کہ اس سے کیسے معاملہ کرے۔ اس سے بچے، اس کے خلاف لڑے، یا اس کا محض سامنا کرتا رہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ نئی چیز کا علم، نیا نہیں ہوتا۔ وہ پرانے علم کی ایک نئی طرح کی تکرار ہوتا ہے۔ یعنی چیزوں میں صرف وہی صورتیں دیکھی جاتی ہیں، جو پہلے سے حافظے میں موجود ہوتی ہیں۔ ان میں بس تھوڑی بہت قطع و برید ہوتی ہے۔
ہمارا ذہن، نہ اجنبیت کو برداشت کرتا ہے، نہ بے ترتیبی کو۔ اسی طرح وہ عام روزمرہ زندگی میں مسلسل کہانیاں گھڑتا ہے تا کہ دنیا کو اپنے لیے قابلِ فہم بناسکے اور مختلف چیزوں میں صورتیں اور پیٹرن پیدا کرتا ہے، تا کہ انھیں سمجھ کر ان سے معاملہ کرسکے۔
جہاں تک چاند میں، نسوانی چہرے کے نظر آنے کا تعلق ہے، یا چاند ہی کو محبوب کا چہرہ کہنے کی روایت ہے تو اس کا ایک سبب تو مردانہ تخیل ہے، جس نے چاند میں نسوانی جمال کو منعکس دیکھا۔ دوسری وجہ چاند کے چکر (lunar cycle) اور عورت کے حیاتیاتی چکر (menstrual cycle)کا حیرت انگیز طور پر مماثل ہونا ہے۔
چاند، نسوانیت کی آفاقی علامت ہے۔ جس طرح نسوانیت کسی ایک مفہوم اور کسی ایک خصوصیت کی حامل نہیں ہے، اسی طرح چاند کی نسوانی علامت کے بھی ایک سے زیادہ مفاہیم اور خصوصیات ہیں۔
کہیں چاند ایک دوشیزہ کا چہرہ ہے تو کہیں ایک بڑھیا کا، جس کے چہرے پر جھریاں ہیں۔ آسکر اوئلڈ کے ڈرامے سلومی، میں چاند کو ایک مردہ عورت کہا گیا ہے، جو قبر سے نکل کر مردہ چیزوں کی تلاش کرتی ہے۔
میر شدید ڈپریشن کا شکار ہوئے تھے۔ میر ہی کی مثنوی کا مصرع: ہوا خبط سے مجھ کو ربطِ تمام، ان کے ڈپریشن کی حالت کو بہتر طور پر بیان کرتا ہے۔ یعنی ان کے دنیا سے جملہ روابط موقوف ہوئے اور وہ صرف خبط کے ہو کر رہ گئے۔
ان کے خارجی، داخلی سب حواس، ان کے جنون پر مرتکز ہوگئے۔ ان کے دیکھنے، سننے سے لے کر ان کے سوچنے اور تصور کرنے کی سب صلاحیتیں جنون کے کام آنے لگیں۔ اب ان کا مکالمہ روزمرہ کی حقیقی دنیا سے نہیں، جنون کی پیدا کردہ دنیا سے ہونے لگا۔
اسے اصطلاح میں فریب حواس (Hallucinations) کہتے ہیں۔ گویا ان کے حواس نے روزمرہ کی، باہر کی د نیا پر دروازے بند کر لیے اور خود نئی نئی صورتیں اور حقیقتیں وضع کرنا شروع کردیں۔
چناں چہ میر نے چاند میں اس صورت کو دیکھا، جو ظاہر ہے چاند میں موجود نہیں تھی، وہ میر کے ذہن میں موجود تھی اور چاند پر منعکس ہورہی تھی۔ لیکن اس وقت میر کے لیے، وہ پیکر جمال، فریب نہیں، حقیقت تھا۔ وہ محض اسے دیکھ نہیں رہے تھے، ا س کا تجربہ کررہے تھے۔
میر نے یوں ہی نہیں کہا کہ ہر رات اس سے صحبت رہتی۔ میر اسے فقط دیکھ نہیں رہے تھے، اس سے گفتگو کررہے تھے اور اس کا لمس محسوس کررہے تھے۔ حواس کا فریب، ہر زاویے سے مکمل تھا، یعنی ایک امر واقعہ کی مکمل نقل تھا۔
نوٹ: میر کے جنوں کا ذکر سب نے کیا ہے، اس کا تفصیلی مطالعہ خالد سہیل اور سی ایم نعیم نے کیا ہے۔ اس جنوں کے میر کی شاعری پر اثرات کا جائزہ تو شاید ہی لیا گیا ہو۔
میں نے اپنی نئی کتاب کے لیے جنوں اور وحشت پر ایک طویل باب لکھا ہے، اس میں، میر سمیت کچھ ادیبوں، فلسفیوں کے جنوں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ یہاں میر کے جنوں پر تفصیلی مطالعے کا محض ایک مختصر حصہ، احباب کی خدمت میں پیش ہے۔ خان آرزو اور سوتیلے بھائی کے سلوک کا قصہ، اس مطالعے میں شامل ہے، مگر زیر نظر حصے میں نہیں۔
واضح رہے میر نے اپنی مثنوی خواب وخیال اورآپ بیتی ذکر میر میں اپنے جنوں کو موضوع بنایا ہے۔ اپنی غزل میں بھی جابجا اس پر لکھا ہے۔

