Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nasir Abbas Nayyar
  4. Purani Istemariat Ki Taraf Marajeat

Purani Istemariat Ki Taraf Marajeat

پرانی استعماریت کی طرف مراجعت

دوسری جنگ عظیم کے بعد، سولھویں صدی سے شروع ہونے والی یورپی استعماریت از کاررفتہ ہونے لگی تھی۔ دور دراز کے خطوں پر براہِ راست حکومت کرنے کا عمل فرسودہ محسوس ہونے لگاتھا۔

اس کی جگہ، بالواسطہ اور ادارہ جاتی استعماریت نے لے لی۔ استعماریت کا بنیادی مقصد: "مقامی وسائل کی اپنے ملک میں منتقلی، مہذب بنانے کے منصوبے(civilizing mission) کی آڑ میں، ہر نوع کے معاشی، تعلیمی، تہذیبی استحصال کا جواز مہیا کرنا، مقامی تہذیب سے بیگانگی پیدا کرنا، خود کو ہر با ر اور ہر سطح پر استعمار کار کی نظر سے دیکھنا "، برقرار رہا مگر طریق کار اور حکمت عملی بدل گئے۔

یہ نواستعماریت، مقامی حکمرانی و خود مختاری کے پردے میں چھپی رہتی اور کچھ صورتوں میں زیادہ مہلک انداز میں کام کرتی۔ وینزویلا کا واقعہ، ایک بار پھر پرانی استعماریت کو واپس لایا ہے۔ ایک خود مختار ملک پر حملہ کیا جاتا ہے۔ اس کے سربراہ کو غلام کی مانند، اپنے ملک لایا جاتا ہے، جیسے اٹھارھویں اور انیسویں صدی میں لاطینی امریکا اور افریقی ممالک سے غلام لائے جاتے تھے۔

غلام کے کوئی حقوق نہیں ہوا کرتے تھے۔ ان سے، استعماری آقا، اپنی مرضی، یا اپنے ملک کے قانون کے مطابق سلوک کرتا تھا۔ یہی کچھ آج، اس وقت بھی ہورہا ہے۔ پرانی استعماریت میں براہ راست حکومت کا تصور، وینرویلا میں، ایک بار پھر حقیقت بن رہا ہے۔

پرانی استعماریت، اپنی نوآبادیوں کے وسائل کو پوری سفاکی اور ڈھٹائی سے ہتھیا یا کرتی تھی۔ اب صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ ایک ملک کو اپنی نوآبادی قرار دیے بغیر، اس سے عین نوآبادی کا سلوک کیا جارہا ہے۔

پرانی استعماریت میں "ہم" اور "وہ" کی تفریق واضح تھی۔ "وہ"، "ہم" کا غیر تھا، یعنی اس سے یکسر مختلف، ایک بچہ، بندر یا نیم انسانی وجود، خود فیصلہ کرنے اور خود اپنے بارے میں درست سمت طے کرنے کی اہلیت سے محروم اور کئی قسم کی بدعنوانیوں کا شکارتھا۔ صاف لفظوں میں "ہم" یہ یقین دلانے میں اکثر کامیاب رہتا کہ اسے ہر اعتبار سے، اخلاقی، قانونی، تہذیبی، علمی اعتبار سے، "وہ" پر برتری حاصل ہے۔

"ہم" اس برتری کو ہر طرح کے غلبے اور استحصال کا پردہ بناتا تھا۔ "وہ" سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ، یہ تسلیم بھی کر لیتے تھے کہ "ہم" کی عسکری، علمی، تہذیبی برتری، اسے حکمرانی اور انھیں اپنی محکومی کا جواز دیتی ہے۔ گویا وہ جائز اور مہربان حاکم ہیں اور یہ فیصلہ خدائی ہے۔ پرانی استعماریت کی "ہم" اور "وہ" کی تفریق، اپنے جملہ مضمرات کے ساتھ ایک بار پھر دکھائی دینے لگی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ لیکن کیا یہ آوازیں، پرانی استعماریت کے اس نئے عفریت نما ظہورکے لیے چیلنج بنیں گی؟ کیا اخلاقی اقدار پر مبنی مزاحمت، اندھی بارودی اور ابلاغی طاقت کے لیے چیلنج بن سکے گی؟ اس کا جواب ہم سب کو معلوم ہے۔

Check Also

Munazra, Dalail Aur Shawahid (2)

By Zulfiqar Ahmed Cheema