Kya Sab Sazain Jurm He Ke Sabab Hua Karti Hain?
کیا سب سزائیں جرم ہی کے سبب ہوا کرتی ہیں؟

یہاں ہم ایک پرانے متن سے، مثال پیش کرنا چاہتے ہیں، جس میں انسان کی عمومی حالت ہی میں سزا کا بیج موجود ہے اور یہ سزا، کسی جرم کے سبب نہیں، آدمی ہونے کے سبب ہے۔ آدمی کے طور پر جینے کی جدوجہد ہی میں شامل ہے۔
کلیلہ ودمنہ میں انسان کی عمومی حالت کو ایک مثال کی صورت لکھا گیا ہے۔
ایک بے قابو ہاتھی کے خوف سے ایک آدمی بھاگتا ہے۔ اسے قریب ایک کنواں دکھائی دیتا ہے۔ وہ اس میں اتر جاتا ہے۔ وہاں وہ دو ٹہنیاں دیکھتا ہے، جن کی جڑیں کنویں کے اوپر ہیں۔ وہ انھیں پکڑ لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ہاتھی گزر جائے تو وہ باہر نکل آئے گا۔ لیکن کنویں کے اندر، ایک اور ہی دنیا اس کی منتظر ہوتی ہے۔ وہ ٹہنیوں سے لٹکا ہے۔ اس کے پاؤں سے کوئی چیز ٹکراتی ہے۔
وہ دیکھتا ہے کہ چار سانپ ہیں جو کنویں کی دیواروں کی پتھروں سے اپنا منھ نکالے ہوئے ہیں۔ وہ گھبرا کر کنویں کی گہرائی میں دیکھتا ہے تو وہاں، ایک بھیانک جانور منھ پھاڑے دکھائی دیتا ہے، جیسے اس کے گرنے کا منتظر ہو۔ وہ اوپر نگاہ کرتا ہے تو اسے دو چوہے نظر آتے ہیں، ایک سیاہ، ایک سفید، جو انھی شاخوں کو کتر رہے ہیں، جن کے سہارے وہ کنویں میں لٹکا ہے۔ ادھر ادھر نگاہ ڈالتے ہوئے، وہ قریب ہی شہد کا چھتہ دیکھتا ہے۔ اسے کچھ نہیں سوجھتا۔ وہ یہ شہد چکھتا ہے۔
کلیلہ ودمنہ کے مصنفین نے، شہد چکھنے کو آدمی کی غفلت کہا ہے۔ شہد کی لذت، آدمی کو اس کی اصل حالت سے غافل کر دیتی ہے۔ شہد چکھنے کی اس تعبیر نے اس بنیاد ہی کو مسخ کردیا ہے، جس پر یہ کہانی استوار ہے۔ یہ کہانی، آدمی کی سزا سے متعلق ہے۔ وہ سزا جو کسی جرم کی نہیں، آدمی ہونے کی سزا ہے۔
آدمی کے طور پر زندگی بسر کرنے کی جدوجہد میں، منکشف ہونے والی سزا ہے۔ آدمی (جینے کے) راستے پر چل رہا ہے۔ اسی راستے پر اچانک، ایک بدمست ہاتھی ظاہر ہوتا ہے اور اسے کچلنے کے لیے بڑھتا ہے۔ آدمی کے پاس، ایک اختیار یہ ہے کہ وہ خود کو اس ہاتھی کے سپرد کر دے، ہاتھی کو تقدیر کا فرستادہ تصور کرے اور اس کے خلاف کوئی جدوجہد نہ کرے، مگر وہ اس اختیار کو بروے کار نہیں لاتا۔ وہ اس سے لڑنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔
یہ کہانی ازسرنو لکھی جاسکتی ہے اور آدمی کو اس ہاتھی کے خلاف لاٹھی یا بندوق کی تلاش کرتے دکھایا جاسکتا ہے۔ لیکن وہ بھاگ کر جان بچانے کا سب سے قدیمی طریقہ تلاش کرتا ہے۔ وہ جہاں پناہ لیتا ہے، وہاں، ہاتھی سے بھی بڑھ کر اس کے دشمن موجود ہیں۔ ہاتھی تو ایک دشمن تھا، اس سے بچنے کے راستے تھے، مگر کنویں کے اندر سانپ، مگر مچھ اور اس کے سہارے کو کترنے والے چوہے موجود ہیں۔ جائے ماندن نہ پائے رفتن کی سی حالت ہے۔
کیا یہ کہانی، اس صداقت کو پیش کرتی ہے کہ موت، عین زندگی کے قلب میں موجود ہے؟
میرا خیال ہے کہ اس کے علاوہ بھی کچھ صداقتوں کو یہ کہانی سامنے لاتی ہے۔ اس کہانی میں، موت کو نہیں، موت کے حامل خطرات کو پیش کیا گیا ہے۔ کنویں میں چند کمزور شاخیں، جنھیں چوہے (جس کی تعبیر بعض لوگ دن اور رات کے طور پر کرتے ہیں)، پکڑ ے آدمی دراصل اس بنیادی مگر ہیبت ناک سچائی کا سامنا کرتا ہے کہ وہ چاروں طرف سے جانی دشمنوں میں گھرا ہے۔
دراصل اس کا شعور پوری طرح بیدار ہوگیا ہے۔ اس کی غفلت ختم ہوگئی ہے۔ وہ کھلی آنکھوں سے، کسی شک وشبہے کے بغیر تمام خطرات کا سامنا کررہا ہے۔
یہ خطرات اچانک پیدا نہیں ہوئے، دراصل اس کا شعور پوری طرح اب بیدار ہوا ہے۔ یعنی خارجی اور داخلی دنیاؤں، باہر کے حقیقی خطرات اور خود اپنے پیدا کردہ التباسات اور عفریتوں کو دیکھنےکے قابل ہوا ہے۔ باہر بڑے، آسانی سے پہچانے جانے والے دشمن ہیں۔ اندر کئی دشمن ہیں، جنھیں آسانی سے نہیں پہچانا جاسکتا، اس لیے کہ انھیں یا تو شعور خود ہی پیدا کرتا ہے، یا انھیں اپنے اندر جگہ دیتا ہے۔
شعور کی یہ بیداری اور انسانی زندگی اور اس کی بنیادی جدوجہد ہی میں موجود سزاسے آگاہی کا دوسرانام ہے۔ اسی لیے بیسویں صدی میں شعور کی بیداری کو انسانی وجود کی ایک لعنت کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کنویں میں لٹکے آدمی کی سزا یہ نہیں کہ وہ کسی بھی لمحے میں موت کے منھ میں جاسکتا ہے، بلکہ سزا یہ ہے کہ وہ اپنی موت ہی نہیں، موت کے ہر قدم اور ہر سانس میں موجود ہونے کا علم رکھتا ہے اور اس علم کی ہیبت کو بہ طور سزا جھیل رہا ہے۔ شہد کا چھتہ، اس علم سے اسے غافل کرنے کے لیے نہیں، اس کی صورتِ حال کے مضحکہ پن کو مزید اجاگر کرنے کے لیے موجود ہے۔
اس لیے کہ بے قابو ہاتھی، چوہے، سانپ، مگر مچھ اور شہد کا اہتمام، "ایک ہی طرف" سے ہے۔ اتفاقات کے جس سلسلے نے، اسے کنویں میں شاخ پکڑنے پر مجبور کیا ہے، اسی نے اس شاخ پر شہد کے چھتے کا اہتمام پہلے سے کر رکھا تھا۔ اس کہانی میں، آدمی کی آنکھ میں آنسو دکھایا جانا چاہیے یا ایک زہر خند مسکراہٹ۔ زندگی کی اس مضحکہ خیزی کا جواب یہی دو ہوسکتے ہیں۔ شہد چکھنے سے، آدمی کی وہ حسیات مزید بیدار ہوجاتی ہیں، جو اس کی صورتِ حال کی ہیبت ناکی کو محسوس کرتی ہیں۔
شہد، اسے لذت ہی نہیں، قوت بھی دیتا ہے، اس کی شاخوں پر پڑتی گرفت کو ڈھیلا ہونے سے بچاتا ہے اور اسے یہ سمجھنے کے قابل بناتا ہے کہ وہ اگر وہ سانپوں اور مگر مچھ سے بچ گیا تو چوہے، اسے نہیں بچنے دیں گے۔
یہ کہانی سزا کی کہانی ہے۔ آدمی کی اپنی صورتِ حال کے مکمل شعور میں پنہاں سزا کی کہانی ہے۔
کیا شعور ہی جرم ہے؟
اگر ہم یہ سمجھیں کہ کوئی سزا، بغیر جرم کے نہیں ہے اور جب تک سزا اپنے جرم کی تلاش نہیں کر لیتی، تب تک وہ اپنے جائز ہونے کے بحران میں مبتلا رہتی ہے، اس صورت میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ شعور، جرم ہوسکتا ہے۔ اگر جرم باہر، قوی شہادتوں کے ساتھ موجود نہیں تو پھر یہ اندر، مبہم حالتوں میں موجود ہے۔
یہاں ہمیں نطشے یاد آتا ہے۔ اس نے شعور میں ایک بنیادی خرابی و خطا پسندی دیکھی ہے۔ یہ کہ شعور، جھوٹ گھڑتا ہے اور حقائق کو مبہم بناتا ہے۔
وہ انسانی وجود کی گہرائی میں مضمر جذبوں، آرزوؤں، مہیجات کو چھپاتا ہے اور ان کے بارے میں لغو قصے کہانیاں بھی گھڑتا ہے۔ وہ ڈیکارٹ کے اس نظریے کا سخت نقاد تھا کہ آدمی، اپنے سوچنے کے عمل میں، اپنا اثبات کرتا ہے۔
اگر ہم نطشے کی بات مان لیں تو پھر شعور ہی جرم ہے۔ اس کا جھوٹ گھڑنا (falsification) یعنی خود اپنی داخلی، گہری حالتوں کے اعتراف کے بجائے، انھیں کسی قصے کہانی میں چھپا ناجرم ہے۔ نطشے کے مطابق، شعور یہ جرم ا س لیے کرتا ہے کہ وہ سماج سے بے دخل نہیں ہوناچاہتا۔ وہ سماج کے برافروختہ ہونے سے ڈرتا ہے۔ جھوٹ، اسے سماجی دربدری سے تو بچالیتا ہے، مگر اندر کے چابک سے نہیں۔
وہ جھوٹ بولتا ہے تو جانتا ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ دنیا کے سامنے پیش کیے گئے قصے میں اپنا جھوٹ چھپا سکتا ہے، مگر خود سے نہیں۔
یہی شعور کا سب سے بڑا چابک ہے، خود شعور ہی کا پیدا کردہ چابک اور شعور ہی پر پڑنے والا چابک۔ تاہم ہماری نظر میں، شعور و لاشعور کی تقسیم درست نہیں ہے، جیسا کہ نطشے اور فرائیڈ سمجھتے ہیں۔ اگر واقعی یہ تقسیم ہوتی تو پھر شعور، لاشعور کی کسی حالت کو سمجھ ہی نہ پاتا، دونوں میں فاصلہ مسلسل بڑھتا رہتا اور بیگانگی ودشمنی کی صورتیں پیدا ہوتی رہتیں۔
اصل یہ ہے کہ شعور نے انسانی وجود کا پورا بوجھ اٹھایا ہوا ہے اور اس بات کا بھی کہ انسانی وجود سماج اور کائنات میں ایک شے کے طور پر نہیں، ان سے پیچیدہ رشتوں کے ساتھ موجود ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اپنے ذمے اپنی اہلیت سے زیادہ ذمہ داریاں قبول کر رکھی ہیں۔ چناں چہ اسے کئی کام ملتوی رکھنے پڑتے، کئیوں سے گریز کرنا پڑتا، کئی جھوٹ گھڑنے پڑتے ہیں۔ جھوٹ، اس کی سرشت نہیں ہے، بھاری ذمہ داریوں کے ساتھ جینے کی جدوجہد کی ایک حکمت عملی ہے، یہ الگ بات کہ ایک عارضی اور ناکام حکمت عملی ہے۔
جب یہی سب کچھ ایک لمحے میں، اس کے روبرو ہوتا ہے، یعنی وہ خود اپنی پوری حالت سے آگاہ ہوتا ہے، نہ صرف اپنے گھڑے گئے قصوں کی سچائی کے چاک ہونے کے بالمقابل ہوتا ہے اور ان قصوں میں موجود کرداروں کی زندگی کا بوجھ اٹھانے پر بھی مجبور ہوتا ہے تو سزا جھیلتا ہے۔
(تنقید کی زیر تصنیف نئی کتاب کے ایک باب سے اقتباس)

