Irani Tehzeeb Ke Khatme Ki Dhamki
ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی

ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کے خاتمے کی دھمکی، ایک جنونی شخص کی بڑبڑاہٹ نہیں، استعماری مغربی ذہن کا غصیلا مگر عمومی اظہار ہے۔ اگریہ محض ایک شخص کی دھمکی ہوتی تو اسے اب تک اس منصب سے محروم کیا جاچکا ہوتا۔
ذرا سوچیے، اگر ایک شخص کسی کو اپنے سوشل میڈیا پر قتل کرنے کی دھمکی دے تو اس کے ساتھ ایک ذمہ دار سماج، ریاست اور مہذب دنیا کیا سلوک کرتی ہے؟ اسے فی الفور گرفتار کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک شخص ایک پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دے، اس کے پاس دنیا کے سب سے تباہ کن ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا کلی اختیار ہو مگر اس کی دھمکی پر اس کے ملک کے صاحبان اختیار و عوام خاموش رضامندی ظاہر کریں تواس کا مطلب کیا ہے؟
یہی کہ وہ ایک انفرادی نہیں، اجتماعی سوچ کا عمومی اظہار کررہا ہے۔
مغربی استعمار ابھی تک غیر مغربی دنیا کو اپنے غیر کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسے تابع بنانے اور خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس میں کامیاب نہ ہو تو اسے مٹانے سے باز نہیں آتا۔
ان تینوں صورتوں میں وہ خود اپنے تہذیبی آدشوں یعنی جمہوریت، انسانی حقوق، آفاقیت، عالم گیریت وغیرہ کی پروا نہیں کرتا۔ وہ اس مقولے کو حرز جان بنائے رکھتا ہے:
Exterminate all the Brutes
استعماری مغرب کے سب "غیر"، جن میں آج کل ایران سر فہرست ہے، وحشی اور غیر متمدن ہیں۔ ان کی تہذیب، تہذیب وحشت ہے، وہ " مہذب دنیا" یعنی مغرب کے لیے خطرہ ہے۔
وہ اس لیے خطرہ نہیں کہ اس کے پاس تباہ کن اسلحہ اور مغربی دنیا کے لیے نفرت ہے، بلکہ اس لیے خطرہ ہے کہ وہ مغربی تہذیبی آدرشوں میں خود کو جذب نہیں کرتا اور اپنی جداگانہ ثقافتی شناخت برقرار رکھنے پر اصرار کرتا ہے۔
اور اس لیے بھی خطرہ ہے کہ اس پاس نایاب قدرتی وسائل ہیں۔ "وحشی" قدرتی وسائل رکھنے کا اہل کیسے ہوسکتا ہے؟
یہ سوال استعماری مغربی ذہن میں مسلسل پیدا ہوتا ہے اور اس کے ترقی کے منصوبوں کی جان ہوا کرتا ہے۔ استعماری مغرب کے نزدیک خدا کی زمین کو وحشیوں سے پاک کرنا ایک مقدس اور نیک عمل ہے۔
یہ اتفاق نہیں کہ اس استعماری مغرب کا سب سے طاقتور شخص مذہب کو اپنے ظالمانہ استعماری ارادوں کی تکمیل میں استعمال کرتا ہے۔
آئرنی یہ ہے کہ مذہبی لوگ آسانی سے استعمال ہو جاتے ہیں۔
وہ آسمانی خدا سے زمین پر خدائی تکبر کے حامل شخص کی مدد کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کے یہاں خشوع و خضوع بھی ہوتا ہے۔
ٹرمپ اس دھمکی پر عمل کرتا ہے یا نہیں، لیکن یہ دھمکی جس استعماری منطق سے اپنی زبان اور قوت اخذ کرتی ہے، اس پر مسلسل گفتگو ہونی چاہیے۔ سب سے پہلے جنگ کا خاتمہ اور اس کے بعد تہذیبی آویزش کی استعماری تصورات کی تحلیل ضروری ہے، تبھی دنیا میں امن اور مساوات کی امید کی جاسکتی ہے۔

