Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Nasir Abbas Nayyar
  4. Adab, Zindagi, Tanaqzat, Mamnuat

Adab, Zindagi, Tanaqzat, Mamnuat

ادب، زندگی، تناقضات، ممنوعات

ادب محض ہمیں اپنے روبر و نہیں لاتا، دنیا میں ہمارے ہونے کے مجموعی تجربے اور اس کی معنویت کے روبرو لاتا ہے۔ چناں چہ ادب ہمیں، تر ک کیے ہوئے حصوں ہی کی جانب متوجہ نہیں کرتا، کئی خطرناک منطقوں میں بھی لے جاتا ہے۔

جعفر زٹلی سے منٹو، جارج آرویل سے کافکا، خطرناک مصنفین ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مصنف نہیں، ادب خطرناک ہے۔ کچھ مصنف، ادب کے اس مقام کی طرف رخ نہیں کرتے، جہاں وہ اپنے خطرناک ہونے کے امکانات کا حامل ہوتا ہے۔ وہ محفوظ جگہوں تک محدود رہتے ہیں۔

کہنے کا مقصود یہ ہے کہ ادب، کسی نظریے کے سبب خطرناک نہیں ہوا کرتا، بلکہ انسانی وجود، سماج، دنیا کو اپنے پیش کرنے کے طریقے کے سبب ہی، خطرناک ہوا کرتا ہے۔

دوسری طرف، ادب کا خطرناک ہونا، ہمیشہ اضافی ہوا کرتا ہے۔ یعنی ادب، مقتدر قوتوں کے سیاسی ونفسیاتی اجارے کے لیے خطرہ ہوا کرتا ہے۔ آسکر وائلڈ نے اپنے ناول "ڈورین گرے کی تصویر" کے دیباچے میں لکھا ہے کہ دنیا جن کتابوں کو غیر اخلاقی کہتی ہے، وہ اس کی اپنی شرمندگی کو ظاہر کرتی ہیں۔

ادب میں فنتاسی ہوسکتی ہے، کسی اور سیارے کی کہانی بھی لکھی جاسکتی ہے، مگر جس طرح آدمی جہاں بھی جاتا ہے، خود اپنے وجود اور ذات سمیت جاتا ہے، اسی طرح ادب کسی بھی جگہ کی کہانی لکھے، وہ انسانی کہانی ہی ہوگی۔

گھر میں کئی چیزیں ممنوعات کا درجہ رکھتی ہیں۔ باقی تخیلی جگہوں میں بھی کئی چیزیں ممنوع شمار ہوتی ہیں، مگر ادب میں کچھ بھی ممنوع نہیں ہے۔ ہر وہ چیز، جس کا تعلق، انسانی شعور، تصور، ارادے، خواب، تجربے، یاد سے ہے، وہ ادب کا حصہ بنتا ہے۔

ادب اسے محسوس بناکر پیش کرتا ہے اور اس کی ممکنہ حدوں میں، اس کے تاریک وروشن اور تاریکی وروشنی کی ثنویت سے ماورا دنیا میں لے جاتا ہے۔

ادب، خواب کے اندر خواب کی گہرائی کو دیکھتا ہے۔ غالب کا یہ مشہور شعر، ادب کی روح سے متعلق ہے۔

ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود

ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

۔۔ یہ سب محالات ہیں۔ متناقضات ہیں۔ یہ سب زندگی کا حصہ ہیں، اس زندگی کا، جس کا یا تو ہم انکار کرتے ہیں یا جس کی جانب جانے سے ڈرتے ہیں یا جس سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم پوری زندگی جی ہی نہیں سکتے۔ اکثر تو واقف بھی نہیں ہوسکتے کہ جس طرز کی ہم زندگی بسر کررہے ہیں، یہ زندگی کا نہایت معمولی، حقیر حصہ ہے۔

جیسے زندگی کے خوان سے کچھ زائد حصہ ہمیں خیرات میں دیا گیا ہو، یا ہم اس گداگر کی مانند ہوں، جسے ہر دروازے سے دھتکار اور پھٹکار کے ساتھ، چند ٹکڑے اس کے کشکول میں ڈال دیے گئے ہوں۔

کئی بار ہمارے حصے میں زندگی نہیں، محض اس کا سایہ آتا ہے اور اس سائے کو کبھی توفیق نہیں ملتی کہ جان سکے کہ اصل وجود میں روشنی اور حلاوت کے کتنے ہی سرچشمے مضمر تھے۔

ادب میں ہم صرف زندگی کے ان ٹکڑوں اور سایوں ہی کو نہیں دیکھتے، جس زندگی کے یہ ٹکڑے اور سائے ہیں، اسے بھی دیکھتے ہیں اور ایک عالمِ فراق میں دیکھتے ہیں۔

متناقضات سے بھری زندگی میں ایک وحشت بھی ہوا کرتی ہے۔

باقی ذہنی وتخیلی جگہیں، زندگی میں سے وحشیانہ عناصر خارج کرنے کی سعی کرتی ہیں، یا ان کی قطع وبرید کرکے، قابلِ قبول بنانے کی کوشش کرتی ہیں، جب کہ ادب، انھیں، ان کی اپنی اصلی صورت میں، پیش کرتا ہے۔

یہ تصور کہ ادب، چیزوں کی ارتفاعی صورت کو پیش کرتا ہے، غلط نہیں ہے، مگر نامکمل تصور ہے۔ سچ یہ ہے کہ ادب کسی حقیقت کو ا س کی خام صورت (raw reality) میں پیش کرنے سے نہیں گھبراتا۔

وہ کسی بھی انسانی تجربے پر اپنا دروازہ بند نہیں کرتا۔ تمام راندہ درگاہ، ٹھکرائے ہوئے، دھتکارے گئے لوگ اور طرزہائے زندگی، ادب میں جگہ پاتے ہیں۔

ادب کی شہریت کے لیے کوئی شرط نہیں اور نہ ہی ادب کا کوئی پاسپورٹ ہے۔

ادب کسی سے توثیق نہیں چاہتا۔

(یہ ادیب ہیں جو توثیق کی خواہش کیا کرتے ہیں)۔

(زیر تصنیف نئی تنقیدی کتاب سے اقتباس)

Check Also

Hamle Mein Bach Jaane Walay Trump Ke Mazeed Sakht Geer Hone Ki Tawaqo

By Nusrat Javed