Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Najeeb ur Rehman
  4. Tayunati Ya Tazheek

Tayunati Ya Tazheek

تعیناتی یا تضحیک

چند روز قبل ایک دوست کے کام کی غرض سے ایک نیم سرکاری دفتر جانا ہوا جہاں ایک ادھیڑ عمر ملازم دکھائی دیا جو ایک ہاتھ میں ڈاک رجسٹر تھامے اور دوسری جانب چھڑی کا سہارا لیے مختلف کمروں میں داخل ہو رہا تھا۔ اس کی ٹانگ غالباً بچپن کے پولیو کا اثر لیے ہوئے تھیں، چلنے میں واضح دشواری تھی مگر ذمہ داری ایسی کہ پورے دفتر میں خطوط تقسیم کرے، دستخط لے اور بار بار پوڑھیاں اترے چڑھے۔ اسے دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ آخر معذور افراد کو ان کی معذوری کی نوعیت اور عملی صلاحیت کے مطابق ڈیوٹی کیوں نہیں دی جاتی؟

آئینِ پاکستان ہر شہری کو برابری اور روزگار کے مساوی مواقع کی ضمانت دیتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر معذور افراد کے لیے تین یا پانچ فیصد کوٹہ مقرر ہے اور پاکستان، اقوامِ متحدہ کے معاہدہ برائے حقوقِ معذوراں کی توثیق بھی کر چکا ہے۔ اس معاہدے کی روح یہ ہے کہ معذور فرد کو نہ صرف روزگار دیا جائے بلکہ انہیں ایسی ذمہ داری اور ایسا ماحول فراہم کیا جائے جو ان کی صلاحیت کے مطابق ہو جسے بین الاقوامی قانون میں"معقول سہولت"کہا جاتا ہے۔

کسی بھی دفتر چلے جائیں، ہمیں کئی جگہوں پر دیکھنے کو ملے گا کہ پاؤں سے معذور شخص فیلڈ ڈیوٹی کر رہا ہوگا جہاں سیڑھیاں، طویل فاصلے اور جسمانی مشقت روزمرہ کا حصہ ہوں۔ ویل چئیر والے ملازمین کو پہلی یا اس سے بھی اوپر کی منازل میں دفتر ملا ہوگا۔ اسی طرٖح بصارت کی کمی کے شکار ملازم کو فائل ورک یا کمپیوٹر پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ سماعت سے محروم فرد کو پبلک ڈیلنگ، فون کالز کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے اور بعض اوقات تودفتری معاملات بارے وائس میسج تک بھیج دیئے جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو متعلقہ کرتاؤں دھرتا ؤں کے ایسے فیصلے انتظامی سادگی نہیں ہوتے بلکہ دراصل انسانی نفسیات، پیشہ ورانہ منطق سے لاعلمی اور چھٹی حس کے غائب ہونے کی علامت ہیں۔ کسی ملازم چاہے پرائیویٹ ہو یا سرکاری، اسکی معذوری کی نوعیت کو سمجھے بغیر ذمہ داری دینا ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی کو گاڑی دے کر اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے اور پھر رفتار پر سوال اٹھایا جائے اور یا پھر کشتی دے کر سمندر میں اتار دینا، جبکہ چپو اسے نہ مہیا کرنا۔

کسی کی صلاحیت و استعداد و طاقت کو دیکھے بغیر اندھا دھند غیرمناسب تعیناتی کا پہلا وار خود معذور ملازم کی ذات پر پڑتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیت ثابت کرنے کی بجائے سارا دن اپنی جسمانی یا حسی رکاوٹ سے لڑنے اور خود کو کولیگز کے سامنے لطیفہ بننے سے بچنے کے لیے ساری توانائی صرف کرتا رہتا ہے۔ نتیجتآ آہستہ آہستہ اس کے اندر یہ احساس جاگزین ہونے لگتا ہے کہ اسے دانستاًناکام بنایا جا رہا ہے۔ ملازمت جو خودمختاری اور وقار کا ذریعہ ہونی چاہیے تھی، ایسے ملازم کے لیے احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کا سبب بن جاتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی عقل سے ماورا، اوٹ پٹانگ اور ناقابل توقع پوسٹنگ آخر کیوں کی جاتی ہیں؟ کیا یہ محض نااہلی ہے یا دانستہ زیادتی؟ دیکھا جائے تو مسئلہ اس راستے میں ہوتا ہے جس سے گزر کر معلومات افسرانِ بالا تک پہنچتی ہیں۔ لگ بھگ ہر دفتر میں ایک مخصوص حلقہ ایسا ہوتا ہے جو بریفنگ اور فائلوں کا غیر رسمی دربان بن جاتا ہے۔ ادھوری رپورٹس، سیاق و سباق سے کٹی ہوئی سفارشات، بہت سے حقائق سے پوشیدہ اور خوشامد میں لپٹی ہوئی بریفنگ افسر کے سامنے رکھی جاتی ہے۔ ہر بات پر اور بعض دفعہ تو بات سے پہلے ہی افسر ان بالا کے سامنے"یس سر، یس میڈم"کی گردان کا پرچار شروع کر دیا جاتا ہے۔ بار بار درشن کرنا اور ہاتھ باندھ کر نظریں جھکائے کھڑے رہنے کا ناٹک بالا افسران کی نظر میں بعض دفعہ " تابعداری" ٹھہرتا ہے۔ افسر فیصلہ تو کرتا ہے مگر اس کے سامنے رکھی گئی تصویر مکمل نہیں ہوتی۔ اب یہ افسر کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ بریفنگ پر جرح کرے یا نہ کرے۔ اکثر اوقات کام کی زیادتی کی وجہ سے یا پھر سٹاف پر اندھے اعتماد کی وجہ سے یہ جرح نہیں ہو پاتی اور یا پھر اس لیے نہیں ہو پاتی کہ بقول شاعر:

عمر اک ایسی بھی ہوتی ہے کہ جس میں دل کو

اچھی لگتی ہے ہر اک بات، حقیقت کے سِوا

دوسری طرف جھاتی ماری جائے تو ہمارے سامنے ایک حقیقت یہ بھی آتی ہے کہ ایسے یکطرفہ اور بے سُرے فیصلے، پوسٹنگ ٹرانسفرز وغیرہ میں دفتری گروپ بندیاں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ہر ادارے میں غیر رسمی دھڑے موجود ہوتے ہیں۔ کوئی کسی افسر کے قریب ہے، کوئی کسی اثر و رسوخ کا حامل ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں تعیناتی، پوسٹنگ ٹرانسفر بھی زیادہ تر تعلقات کی بساط پر رکھی جاتی ہے۔ یار بئیلیوں اور حقہ پانی پینے پلانے والوں کو کو آرام دہ نشستیں، مخالفین کو مشکل ذمہ داریاں اور استعداد سے ذرا کمزور ملازمین کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ معذور ملازم چونکہ پہلے ہی دفاعی پوزیشن میں ہوتا ہے، اس لیے اسے ناموزوں ڈیوٹی سونپ دینا سب سے آسان انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً تعیناتی معذوری کی نوعیت یا استعداد کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی پسند و ناپسند اور اندرونی سیاست کے تابع ہو جاتی ہے۔ یہ سب کس وجہ سے سرزد ہوتا ہے؟ شاید اس وجہ سے کہ ایسے دھڑے اس حقیقت کی فلاسفی سے کوسوں دُور ہیں کہ بقول شاعر:

کسی کے گھر کو گِرا کر بنائیں اپنا مکاں

ہُنر ہے یہ تو ہمیں بے ہُنر ہی رہنا ہے

ملکی و بین الاقوامی قوانین اس سارے رویے کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے معاہدے کے تحت ہر ریاست پر لازم ہے کہ وہ معذور افراد کو"معقول سہولت"فراہم کرے۔ یعنی ایسا انتظام جس سے وہ اپنی ذمہ داری مؤثر طور پر ادا کر سکیں اور یہ سہولت احسان نہیں بلکہ حق ہے۔ معاون ٹیکنالوجی، ورک اسٹیشن میں تبدیلی، لچکدار اوقات، مناسب تعیناتی اور تربیت، یہ سب قانونی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ اگر معذور ملازم کو ایسی ذمہ داری دی جائے جو اس کی معذوری سے براہِ راست متصادم ہو اور سہولت بھی فراہم نہ کی جائے تو یہ نہ صرف امتیازی سلوک کے زمرے میں آ سکتا ہے بلکہ اہانت آمیز سلوک بھی شمار ہو سکتا ہے۔

اہانت آمیز سلوک سے مراد یہ ہے کہ کسی انسان کو ذلیل و خوار کرنے یا اس کو اس کی مرضی یا ضمیر کے خلاف کوئی کام کرنے پر مجبور کرنے کی غرض سے کیا جائے۔ نیز یہ ضروری نہیں کہ یہ سلوک جسمانی ہو، کوئی بھی کام جو کسی فرد کو اس کے عہدہ، مرتبہ، شہرت یا کردار کے لحاظ سے گِرا دے، وہ اہانت آمیز سلوک میں شمار ہوتا ہے بشر طیکہ یہ شدت کی ایک خاص حد تک پہنچ جائے۔ یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کے مطابق اہانت آمیز سلوک میں وہ تمام طریقے شامل ہیں جو کسی انسان، ملازم میں خوف اور ڈر کا احساس پیدا کرتے ہیں جو غم و غصہ، احساسِ کمتری، انسانوں کو بے عزت کرنے اور ممکنہ حد تک ان کی جسمانی، نفسیاتی یا اخلاقی قوت برداشت کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ سلوک کھلے بندوں کیا جائے۔ اتنا ہی کافی ہے کہ کسی انسان کو بے عزت کیا جائے اور اس کو خود اس کی اپنی نظروں سے گرا دیا جائے۔

اگرچہ بگڑے معاشرے میں اصلاح کی امید رکھنا سورج سے بارش برسنے کی امید رکھنا کے مترادف ہوتا ہے لیکن معجزہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم یہ مشورہ بہرحال دے سکتے ہیں کہ تعیناتی سے پہلے فنکشنل اسیسمنٹ کو لازمی بنایا جائے تاکہ معذوری کی نوعیت اور فرد کی عملی صلاحیت واضح ہو۔ ہیومن ریسورس ونگ کو بااختیار اور جواب دہ بنایا جائے کہ وہ ہر معذور ملازم کے لیے مناسب سیٹ اور معاون سہولت یقینی بنائے۔ کوٹہ پوزیشن اور تعیناتیوں کا سالانہ آڈٹ ہواور شکایات کے لیے آزاد اور مؤثر فورم قائم کیا جائے جہاں ملازم بلا خوف اپنی بات رکھ سکے۔ جبکہ سب سے بڑھ کر ضرورت اس امر کی ہے کہ معلومات کی شفاف ترسیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ افسرانِ بالا تک مکمل اور غیر جانبدار تصویر پہنچے۔

ریاست کا اخلاقی قد اسی پیمانے سے ناپا جاتا ہے کہ وہ اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ نوکری دینا کافی نہیں، درست جگہ دینا ضروری ہے۔ جب تک تعیناتی عقل، انصاف اور انسانی احترام کے اصولوں پر نہیں ہوگی، کوٹہ ایک عدد تو رہے گا مگر مقصد فوت ہو جائے گا۔ انصاف تب مکمل ہوگا جب معذور ملازم اپنی کرسی پر بیٹھ کر یہ محسوس کرے کہ اس کی پہچان اس کی معذوری نہیں بلکہ اس کی قابلیت ہے اور محکمہ بھی یہ اعتراف کرے کہ درست موقع دیا جائے تو یہی افراد بوجھ نہیں بلکہ اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔ دیگر الفاظ میں بقول شاعر

"کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد"

Check Also

Ghaza Ka Larkharata Hua Ramzan

By Wusat Ullah Khan