Petrol, Awam Aur Bureaucracy
پیٹرول، عوام اور بیوروکریسی

اگرچہ پیٹرول کی قیمتوں نے ہر طبقے کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔ لیکن نجی و سرکاری ملازم پیشہ طبقہ پیٹرول سے تباہ کن طور پر متاثر ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملازم پیشہ افراد کی اوسطاً تیس فیصد تنخواہ دفتر یا فیکٹری تک آنے جانے کے لیے پٹرول پر خرچ ہو رہی ہے۔ دوسری طرف اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں۔ ستر روپے کلو والے امرود دو سو روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ وین مالکان نے بچوں کی اسکول پک اینڈ ڈراپ کے کرائے پچاس فیصد بڑھا دئیے ہیں۔ والدین سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں کہ وہ کیسے اخراجات پورے کر پائیں گے، نہ وہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر سکتے ہیں اور نہ ہی پک اینڈ ڈراپ کرائے تنخواہ سے پورے کر پا رہے ہیں۔ گویا والدین اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ بقول شاعر:
میں کیہڑے پاسے جانواں
میں منجی کتھے ڈانواں
اچھی خبر یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود حکومت سندھ نے سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں کے طلبہ کی پک اینڈ ڈراپ ٹرانسپورٹ فیس میں اضافے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس بابت ٹرانسپورٹ آپریٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے والدین کو کچھ ریلیف مل سکے گا۔
حکومت پنجاب نے اگرچہ ٹرانسپورٹ مفت کر دی ہے لیکن بچوں کی اسکول ٹرانسپورٹ پر ابھی تک توجہ مرکوز نہیں کی۔ والدین بھاری ٹرانسپورٹ چارجز دینے پر مجبور ہیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز صاحبہ اور وزیر تعلیم رانا سکندر حیات صاحب کو اس طرف فوری اور ترجیحاً توجہ دیتے ہوئے حکومت سندھ کی طرز پر اقدامات کرنے چاہئیں۔
پیٹرول کی ناقابل گماں بڑھتی قیمتوں کے باجود دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوروکریسی کفایت شعاری پروگرام پر عملدرآمد نہیں کرنے دے رہی اور ملازمین کو ہفتہ میں چار کی بجائے چھ دن دفتر حاظر ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ بیوروکریٹس خود تین چھٹیاں کر رہے ہیں اور گھر اپنی منجی پر بیٹھے بٹھائے واٹس ایپ پر روزانہ پانچ سو روپیہ سے زائد پیٹرول ساڑ کر دفتر پہنچنے والے ملازمین کو غیر ضروری ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں۔ انہیں خود تو سرکاری پیٹرول ملتا ہے، انہیں کیا معلوم کہ ملازمین کس تنگدستی میں مبتلا ہیں۔ بھرا ہوا پیٹ کبھی نہیں سمجھ سکتا کہ خالی پیٹ والے پر کیا بیتتی ہے۔
اسی طرح دفاتر میں پچاس فیصد سٹاف اور پچاس فیصد ورک فرام ہوم کی حکومتی پالیسی پر بھی کئی ایک محکموں میں عملدرآمد نہیں کیا جا رہا اور جب ملازمین اس بارے آواز اٹھاتے ہیں تو انکی آواز کو اعلیٰ اتھارٹیز تک نہیں پہنچنے دیا جاتا اور میٹنگوں کا کہہ کر معاملہ لٹکا دیا جاتا ہے۔
چونکہ عوام نے جیسے تیسے زندہ رہنا ہے، بال بچوں کی تعلیم جاری رکھنی ہے، اس لیے وہ مہنگے پٹرول کا مقابلہ یوں کر رہے ہیں کہ کوئی سائیکل پر آفس پہنچ رہا ہے، کوئی بائیکیا بن کر دفتر آ رہا ہے اور کوئی تھوڑی بہت دستیاب پبلک ٹرانسپورٹ پر تین تین بسیں بدل کر گھنٹوں وقت لگا کر دفتر پہنچتا ہے۔ کوئی اورنج لائن ٹرین کے اسٹیشنوں پر بائیک پارکنگ سٹینڈ پر کھڑی کرکے باقی ماندہ سفر ٹرین پر کرکے دفتر پہنچ رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ حکومت پالیسیاں تو بنا دیتی ہے مگر بیوروکریسی ان پر من و عن عملدرآمد نہیں کرواتی۔ نتیجتاً حکومت اور بیوروکریسی کی چکی کے دو پاٹوں میں عوام پستے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت برائے نام ہے، اصل حکومت اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ ہر جمہوریت کا دعوے دار کام سے زیادہ بوٹ پالش اسی لیے بڑے شوق سے کرتا ہے کہ اسکی کرسی سلامت رہے۔ کوئی بھی محمد خان جونیجو بننے کی جرات کا مظاہرہ کرنے کی ہمت و دانش نہیں رکھتا۔
ننگ دھڑنگ پاکستانیوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ بیوروکریسی بھی ان کی اپنی نہیں ہے بلکہ اس میں وہی یو۔ پی، سی۔ پی طبقہ حاوی آ رہا ہے جس نے فاطمہ جناح کی کتاب "مائی برادر" کو سینسر کیا، جو بڑے فخر سے "قومی زبان"، "دو قومی نظریہ" کی تکرار کرتا آ رہا ہے اور جس نے کلین شیو جناح کو "داڑھی" لگائی اور پینٹ کوٹ پسند جناح کو "شیروانی" پہنائی۔
اگر مجموعی جائزہ لیکر دیکھا جائے تو حاصل کلام نکلے گا کہ پاکستان کی عوام کے جتنے بھی چھوٹے بڑے مسائل ہیں، وہ صرف اس لیے ہیں کہ ان کے سر پر غیر پاکستانی اشرافیہ قابض ہے۔ اس سے چھٹکارا ہی حقیقی آزادی ہوگا۔ اس کے لیے عوام کو شعور دینا ہوگا لیکن یہ بھی خفیہ، گوریلا جنگ طرز پر۔ وگرنہ یہ نان سیکٹر ایکٹرز پر مشتمل اشرافیہ شعور پہنچنے ہی نہیں دے گی کہ انکو اپنی کرسی بھی پیاری ہے۔
آخر میں یہ لکھنا موضوع سے قطع تعلق نہ ہوگا کہ سوشل میڈیا پر کسی نے سوال پوچھا کہ آپ سی ایس ایس کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ انسانیت کی خدمت کے علاوہ جواب دیں۔
تو ایک شخص نے کمنٹ کیا: سی ایس ایس اور انسانیت کی خدمت؟
تمہاری آنکھ میں کیفیت خمار تو ہے
شراب کا نہ سہی، نیند کا اثر ہی سہی

