Be Rooh Tehreeron Ka Selab
بے روح تحریروں کا سیلاب

ماہرین نفسیات کے مطابق انسان لاشعوری طور پر اصلیت تلاش کرتا ہے۔ جب کسی اظہار میں اصلیت کم ہو، ایکٹنگ ہو، ڈرامہ کی بو ہو، جذبات سے خالی الفاظ ہوں تو انسانی ذہن یا چھٹی حس فوراً اسے محسوس کر لیتی ہے، بے شک الفاظ چاہے جتنے مرضی خوبصورت ہی کیوں نہ ہوں۔
گزشتہ چند ماہ سے ڈیلی اردو کالمز ڈاٹ کام پر شائع ہونے والے آرٹیکلز پر سرسری سی نظر ہی دوڑائی جائے تو ایک بات آسانی سے نوٹ کی جا سکتی ہے کہ پچاسی فیصد آرٹیکلز میں مصنوعی ذہانت کا مواد بھی پچاسی فیصد تک دکھائی دیتا ہے جو کہ قارئین، لکھنے والوں اور خود ڈیلی اردو کالمز ڈاٹ کام کے لیے کئی ایک ان کہے مسائل پیدا کر رہا ہے اور جسکا نتیجہ جلد یا بدیر نقصان کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔
ایک غیر جانبدار قاری بآسانی دیکھ سکتا ہے کہ آرٹیکلز میں الفاظ، تکنیک، سٹائل اور جملے یکسانیت سے بھرپور ہوتے ہیں۔ اگر روز دس آرٹیکلز شائع ہوں تو جملوں و الفاظ کی یکسانیت، سٹائل اور مجموعی ٹون سے ایسا لگتا ہے کہ صرف ایک ہی آرٹیکل ہے جو دس مختلف عنوانات کے تحت تھوڑا بہت گھما پھرا کر لکھا گیا ہو۔ یہ حقیقت قارئین کو بور اور بد دل کر رہی ہے۔ اس کا تدارک کیا جانا ضروری ہے تاکہ ریڈرشپ قائم رہے اور قارئین میں بھگوڑا پن سر نہ اٹھا سکے۔
آرٹیکل ہو، کالم ہو یا بلاگ ہو، اے آئی سے قبل ایک آرٹیکل کو لکھنے کے لیے مصنف کو کئی گھنٹے، دن اور بعض دفعہ ہفتہ تک لگ جاتا تھا۔ حوالہ جات تلاش کرنے، بات میں جان پیدا کرنے کے لیے ماضی قریب و دور سے زندہ مثالیں ڈھونڈنی، الفاظ کا انتخاب کرنا، ذاتی مشاہدات و تجربات کی جگہ بنانی۔۔ یہ سب تن تنہا مصنف کرتا تھا اور پھر کہیں آرٹیکل لکھا جاتا تھا۔ گویا تن من دھن سے ایک تحریر لکھی جاتی تھی اور ایسی ہی تحریریں قارئین کو متاثر کرتی ہیں نہ کہ مشینی انداز سے لکھے دھڑا دھڑ بلاگز۔
چاہے کالم نگاری ہو یا زندگی کا کوئی معاملہ ہو، ہر معاملے میں ہمیشہ معیار کو ترجیح دینی چاھیئے نہ کہ مقدار کو۔ مراقبہ، شمع بینی، استغراق یا دعا کو ہی دیکھ لیں۔ اگر خشوع و خضوع سے مانگی گئی ہو، دل سے نکلی ہو، تو دعا فوری آسمان تک پہنچ جاتی ہے۔ جبکہ بے دلی، جلد بازی اور محض تکا لگ جانے کے خیال سے مانگی گئی دعا میں تاثیر نہیں ہوتی۔ اسی طرح بے کیفیت و بے روح تحریر قاری کے دل تک نہیں پہنچتی۔ باقی یہ الگ موضوع ہے کہ بقول پروین شاکر:
دُعا اب چاہے بامِ عرش چُھو لے
تِرے دَر سے تو یہ ناکام آئی
ضرورت اس امر کی ہے کہ آسان راستے چھوڑ کر محنت کی طرف واپس آیا جائے۔ کالم اے آئی سے لکھوانے کی بجائے خود لکھا جائے۔ خیال کو ترتیب دینے، جملے بنانے اور دلیل قائم کرنے کا عمل ہی کسی لکھت کو زندگی بخشتا ہے، روح مہیا کرتا ہے۔ جب لکھاری جانتا ہے کہ سوتے شیر کے منہ میں ہرن اپنے آپ ہی نہیں آ جاتے اور یا پھر ہاتھ ہلائے بغیر بیری کے بیر منہ میں نہیں گرتے تو مصنف جب خود اپنے ہاتھ پیر ہلاتا ہے تو اس کی تحریر میں اس کی شخصیت، اس کا تجربہ و مشاہدہ، اسکا نظریہ اور اس کی سچائی شامل ہو جاتی ہے جو کہ قاری کو براہ راست محسوس ہوتی ہے اور یہی چیز تحریر کو کشش دیتی ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ڈیلی اردو کالمز ڈاٹ کام کی گورننگ باڈی کو بھی ان مسائل کی طرف توجہ دینی چاھیئے کیونکہ ادارتی ذمہ داری بھی اس معاملے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اخبارات اور ویب سائٹس کے ماڈریٹر یا مدیر کو صرف کالموں کی تعداد بڑھانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ تحریر کے اسلوب، تازگی اور فکری تنوع، موضوع پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ جب مختلف لکھاریوں کے کالم ایک ہی طرزِ بیان، ایک ہی جملوں کی ساخت اور ایک ہی انداز کی تمہید و نتیجے سے بھرے نظر آنے لگیں تو یہ مدیر کے لیے ایک اشارہ ہونا چاہیے کہ "دیا جا کر پتہ کرو، کچھ تو گڑ بڑ ہے"۔
ادارت کا تقاضا ہے کہ ایسے کالموں کو چھان بین کے بغیر شائع کرنے کے بجائے معیار کو ترجیح دی جائے، لکھنے والوں کو مزید محنت اور ذاتی اسلوب اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے اور ویب سائٹ کی سپیس کو ایسی تحریروں سے محفوظ رکھا جائے جو محض یکسانیت کا بوجھ بڑھاتی ہوں۔ ماڈریٹر اگر اس نکتے پر توجہ دیں تو نہ صرف ویب سائٹ کا ادبی وقار برقرار رہ سکتا ہے بلکہ قاری کا اعتماد بھی مضبوط رہے گا۔
اب جس کے جی میں آئے پائے وہی روشنی
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

