Upar Wali Manzil Aur Curfew, Kitabi Tabsara
اوپر والی منزل اور کرفیو، کتابی تبصرہ

عصر حاضر کے صاحب مطالعہ، صاحب علم کہانی کار، ناول نگار "رفاقت حیات" کے افسانوی مجموعہ "اوپر والی منزل" کی پڑھت گزشتہ دنوں مکمل کی۔ رفاقت کا پہلا افسانوی مجموعہ "خواہ مخواہ کی زندگی" اور ناول "میر واہ کی راتیں" اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کو اپنا مداح بنا چکے ہیں، اس کے علاوہ "رولاک" جیسا حساس اور سماجی رویوں و کردار نگاری پر مشتمل ناول بھی اردو ادب میں بہترین اضافہ ہے۔
اس برس اوپر والی منزل منظر عام پر آیا ہے۔ عنوان ہی دلچسپ ہے۔ جب مطالعہ شروع کیا تو خیال تھا کہ افسانے انتہائی سنجیدہ اور فلسفیانہ ہوں گے جو کہ رفاقت کے مزاج کا خاصہ ہے لیکن رفاقت نے اس مجموعے میں اپنے ان واقعاتی افسانوں کو جگہ دی ہے جو زندگی میں ثقافتی اثرات یا ملکی حالات کے باعث پنپتے ہیں اور انسانی برتاؤ اور رویوں پر اپنے گہرے نقوش ثبت کر جاتے ہیں۔
فدویہ کا ماننا ہے کہ زندگی میں ہر خوشگوار یا ناخوشگوار واقعہ ایک ہی بار وقوع پذیر ہوتا ہے، لیکن خوشگواریت یا ناگہانی صدمات کے اثرات سے انسان تا عمر نکل نہیں پاتا۔ وہ بار بار تمنا کرتا ہے کہ وہی خوشگوار لمحات دوبارہ حاصل کر لے۔ خوشی کو دائمی بنا لے لیکن ایسا ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ ناگہانی صدمات کے مختلف ٹراما تاعمر انسان کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔
رفاقت کے افسانے کسی ایک شہر کے انسانوں کی کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ان تمام کہانیوں کا وسیع کینوس ہے۔ یہ زمین پر رہنے والے کسی بھی انسان کی کہانی ہو سکتی ہے۔ اس کہانی کا کردار بلا شرکت غیرے ہر وہ انسان ہے جو دنیا میں کہیں بھی موجود ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی ادب میں اپنی شناخت بتا سکتا ہے کہ میں بھی لمحہ تخلیق میں شریک ہوں۔ میری طرف دیکھو کہ میرا فلسفہ و انسانی فطرت بھرپور اور پر تاثر ہے۔ رفاقت کے کردار ہر طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
معاشی و اقتصادی لحاظ سے طبقات کی تقسیم انسانوں کے رویوں اور کردار پر کس طرح اثرات مرتب کرتی ہے، انسانوں کے دکھ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور ان خوشیوں کی قیمت غریب و درمیانے طبقے کے انسان کیسے چکاتے ہیں، رفاقت نے ان کو خون جگر سے رقم کیا ہے۔
وہ ٹرک ڈرائیور کی کہانی رات کی زبانی سناتے ہیں، رات ٹرک ڈرائیور کی زندگی کا بڑا حصہ ہے اور جب زمین رات کے مہیب و گہرے سائے تلے آ جاتی ہے تو کہانی جنم لیتی ہے۔
جب زندگی کی بے ثباتی ایک خوشحال انسان پر آشکار ہوتی ہے تو وڈیرے کی کہانی سامنے آتی ہے۔
جب ملکی سیاسی حالات دگرگوں ہوں، تو کرفیو وجود میں آتا ہے، حیدرآباد سے کراچی پھر پارا چنار سے بڈگام تک، سری نگر سے غزہ کی پٹی تک۔
جب بندوق کی نالی اور وہ انسان جو بخوشی زمین کی محبت یا قومیت کے تصور میں پیشہ ور قاتل بن جاتا ہے تو فضا کرفیو کا سناٹا اوڑھ لیتی ہے۔
کرفیو زدہ علاقے اور اس کے حالات آنکھ کی بینائی کے ساتھ ساتھ انسانی جذبات و احساسات، قلب و ذہن پر کس طرح اثرات مرتب کرتے ہیں رفاقت نے ایک نو عمر بچے کی زبانی قلم بند کیا ہے۔
بچوں کے نازک دل و ذہن پر سیاست، پر تشدد ملکی حالات و واقعات کیسے اثر انداز ہوتے ہیں ان کی شخصیت کس طرح شکست و ریخت اور جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار ہوتی ہے، دوران کرفیو انسانوں کو "مرغا" بنانے کا عمل کس طرح نوجوانوں اور بچوں کو متاثر کرتا ہے یہ ایسے مصنفین سے زیادہ کون جان سکتا ہے جو خود کرفیو زدہ شب و روز سے گزرے ہوں۔
نظام الدین چوکیدار اور لوٹ ان معصوم و بے زبان انسانوں کی کہانیاں ہیں جو نہ جانے کیوں اس ظالم دنیا میں آ گئے اور بے قصور و بے وجہ زندگیوں کی تلخیوں کو بھوگ رہے ہیں اور نہ جانے کب تک بھوگتے رہیں گے کیونکہ ایسے انسانوں کی آمد دنیا کے ہر خطے میں جاری و ساری ہے۔
کدال کی آواز اور ایک نظم، معاشیات کے دائروں میں چکر کھاتا افسانہ ہے۔ جس کے تانے بانے حقیقی بے حسی کی ڈور کے ساتھ بنے گئے ہیں۔
اوپر والی منزل ان مکینوں کی کہانی ہے جو گھر کی منزلوں میں ذات کے کرب، جذبات کی شدت، سماجی جکڑ بندیوں، فرسودہ خیالات و روایات اور قد آدم دیواروں میں بے کراں تنہائی کی اذیتیں برداشت کرتے ہوئے اپنے اپنے بدن کے دریچے بند کیے زندگی گزار رہے ہیں۔ گھر کی اوپر والی منزل حقیقی معنوں میں ایک استعارہ ہے۔ جس کو صرف اردو افسانے کے سنجیدہ قارئین سمجھ سکتے ہیں۔
سازش ایک معصوم بچے کی کہانی ہے جس کو پڑھ کر ہو سکتا ہے ہمارے قارئین قہقہے لگائیں لیکن کہانی کا اختتام سوال اٹھاتا ہے، جو خاصا دلچسپ ہے۔
پشت بان نامی افسانے کو مصنف نے "نئیر مسعود" کے نام کیا ہے۔ فلسفیانہ رنگ اور زندگی کی مختلف جہتوں و رنگوں سے مزین افسانے کفارہ اور رہائی بھی اس مجموعے میں شامل ہیں۔
مصنف نے انسان کے بچپن، لڑکپن، جوانی اور پیرانہ سالی کی طبعی منزلوں اور واقعاتی کیفیات کے توسط سے زندگی کی دیواروں میں در آنے والی دراڑوں اور معاشرے کے رخنوں کو اپنے افسانوں میں سمو دیا ہے۔
کتاب کا ناشر ادارہ "القا" ہے۔

