Saturday, 18 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Siasat Ki University, Molana Fazal Ur Rehman

Siasat Ki University, Molana Fazal Ur Rehman

سیاست کی یونیورسٹی، مولانا فضل الرحمٰن

​پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اوراق جب بھی پلٹے جائیں گے، ان میں ایک ایسی شخصیت کا نام بار بار ابھرے گا جس نے سیاست کو محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ ایک شطرنج کی بساط سمجھ کر کھیلا۔ وہ شخصیت، جسے دوست سیاست کا امام اور مخالفین مصلحت کا پیکر، کہتے ہیں، یعنی مولانا فضل الرحمان۔ ان کا سیاسی اور تاریخی کردار محض ایک جماعت کی قیادت تک محدود نہیں، بلکہ وہ پاکستانی سیاست کے اس توازن، کا نام ہے جس کے بغیر وفاق کی مالا بکھرتی محسوس ہوتی ہے۔

​مولانا فضل الرحمان کی حالیہ سیاست کا ایک اہم ترین رخ عوام کی معاشی حالت زار سے جڑا ہے۔ جب ملک مہنگائی کے طوفان کی زد میں ہے اور عام آدمی کی کمر ٹوٹ رہی ہے، تو ایسے میں مولانا نے اسے محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ بنا دیا۔ انہوں نے گزشتہ دن صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں جلسہ عام منعقد کرکے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا اور یہ ثابت کیا کہ ان کی جڑیں عوام میں پیوست ہیں۔ ان کا یہ مؤقف کہ "عوام کا معاشی قتل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا"، نہ صرف اپوزیشن کی آواز بنا بلکہ حکومت کو بھی دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک مذہبی و سیاسی رہنما صرف نظریات کی بات نہیں کرتا بلکہ وہ غریب کے دسترخوان کا پہرے دار بھی ہوتا ہے ان کا اگلا پڑاؤ بلوچستان اور 14 مئی کو شہر قائد میں ہے جہاں وہ قومی ایشوز سمیت عالمی صورتحال خاص طورپر امت مسلمہ کے مشترکہ بلاک کے قیام کے حوالے سے اپنے پاور شو دکھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

​حالیہ عالمی منظر نامے میں، جہاں غزہ کی سرزمین معصوم فلسطینیوں کے لہو سے رنگین ہے، مولانا فضل الرحمان کا کردار ایک توانا عالمی آواز کے طور پر ابھرا ہے۔ قطر میں حماس کی قیادت سے ان کی ملاقاتوں نے یہ پیغام دیا کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک خطے کا نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی غیرت کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے عالمی فورمز پر اسرائیل کی جارحیت کو جس بے باکی سے للکارا، اس نے انہیں مسلم امہ کے صفِ اول کے رہنماؤں میں لا کھڑا کیا۔

​حالیہ ایران امریکہ کشیدگی اور جنگ کی صورتحال میں مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر اپنی دور اندیشی کا ثبوت دیا۔ جب خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، مولانا نے دو ٹوک الفاظ میں ایران کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کا یہ مؤقف کسی مسلکی بنیاد پر نہیں بلکہ "سامراج دشمنی" اور "علاقائی خود مختاری" کے اصول پر مبنی تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی پڑوسی مسلم ملک پر بیرونی یلغار پورے خطے کے امن کو راکھ بنا دے گی۔ ان کی یہ کھلی حمایت ایران کے لیے ایک مضبوط اخلاقی سہارا ثابت ہوئی۔ ​مولانا فضل الرحمان کی سیاسی اور سفارتی اہمیت کا سب سے بڑا ثبوت ان کی رہائش گاہ پر ہونے والی غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں ہیں۔

یہ پاکستانی سیاست کا ایک تاریخی منظر تھا جب:

​ایرانی سفیر نے آ کر ان کے اصولی موقف پر شکریہ ادا کیا۔ ​چینی سفیر نے ان کےدولت کدےپر حاضری دیکر سی پیک اور علاقائی استحکام کے لیے ان کی بصیرت کو سراہا۔

​امریکی سفیر نے بھی ان کی دہلیز پر دستک دی تاکہ خطے کی پیچیدہ صورتحال پر ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی رائے جان سکے۔

​ایک ہی وقت میں چین، ایران اور امریکہ جیسے متضاد مفادات رکھنے والے ممالک کے سفراء کا مولانا سے رجوع کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست کا وہ "محور" ہیں جنہیں عالمی طاقتیں بھی نظر انداز کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔ یہ ان کے اس سیاسی قد و کاٹھ کا اعتراف ہے جو اقتدار کی کرسی سے ماورا ہے۔

​گزشتہ آئینی ترامیم کے معاملے میں مولانا فضل الرحمان کا کردار کسی نجات دہندہ، سے کم نہ تھا۔ جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خلیج اتنی بڑھ گئی کہ نظام کے بیٹھ جانے کا خطرہ پیدا ہوا، تو یہ مولانا ہی تھے جنہوں نے اپنے گھر کو سیاسی مرکز بنا دیا بلکہ بالفاظ دیگریوں کہاجائےکہ ان کی رہائشگا سیاسی یونیورسٹی کی شکل اختیارکرگئی بےجا نہ ہوگا۔ ان کی وجہ سے کئی ایسے نکات ترامیم کا حصہ بنے جنہوں نے عدلیہ اور پارلیمان کے وقار کو متوازن رکھا۔

​مولانا فضل الرحمان صرف ایک فرد یا جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی ادارے کا نام ہیں۔ مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج ہو، پارلیمان میں آئین کا تحفظ ہو، یا غزہ و ایران کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھانا ہووہ ہر محاذ پر ایک مدبر کھلاڑی کے طور پر نظر آتے ہیں۔ ​تاریخ انہیں ایک ایسے زیرک سیاستدان کے طور پر یاد رکھے گی جس نے پاکستان کو داخلی خلفشار سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کیا اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا۔ وہ سیاست کے وہ درویش، ہیں جن کا عصا جب حرکت کرتا ہے تو رخِ سیاست بدل جاتا ہے۔

Check Also

Aalmi Bisat Par Pakistan Ka Sifarti Overdrive

By Altaf Kumail