Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Shehar e Karachi Aur Sagaan e Awara

Shehar e Karachi Aur Sagaan e Awara

شہر کراچی اور سگانِ آوارہ

میرے پیارے شہرِ قائد کو نہ جانے کس بری بلا کی نظر لگ گئی ہے کہ مسائل کے انبار لگ چکے ہیں اور پورا شہر گویا "مسائلستان" کا منظر پیش کر رہا ہے۔ پانی، بجلی اور گیس جیسے بنیادی مسائل سے تو یہاں کے باسی پہلے ہی متاثر اور محروم چلے آ رہے ہیں، مگر اس وقت جس مسئلے نے شہریوں کو سب سے زیادہ خوفزدہ، پریشان اور عدم تحفظ کا شکار کر رکھا ہے، وہ کراچی میں آوارہ کتوں کی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ پورا شہر کتوں کے نرغے میں آ چکا ہے۔ کوئی ایسا علاقہ باقی نہیں بچا جہاں آوارہ کتے دندناتے نہ پھر رہے ہوں۔ گلیاں، سڑکیں، پارک اور رہائشی علاقےہرجگہ ان کا راج ہے۔ اس صورتحال نے خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ بچے نہ تو اطمینان سے اسکول جا سکتے ہیں، نہ گلیوں میں کھیل کود کر سکتے ہیں اور نہ ہی روزمرہ کی چھوٹی موٹی ضروریات کے لیے باہر نکل سکتے ہیں۔ خواتین کے لیے بھی گھروں سے نکلنا کسی خطرے سے خالی نہیں رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہر کے مکین اپنے ہی شہر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود متعلقہ حکام، شہری حکومت اور صوبائی انتظامیہ کی جانب سے کوئی سنجیدہ اور مؤثر اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔ عوام کو عملاً اپنی مدد آپ کے تحت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے، جو کہ ایک مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران روزانہ کی بنیاد پر جناح اسپتال اور انڈس اسپتال میں سو سے لے کر ڈیڑھ سو تک کتوں کےکاٹےکے متاثرہ افراد لائے جا رہے ہیں۔ یہ تعداد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسئلہ کس قدر سنگین رخ اختیار کر چکا ہے۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ شہر کے دیگر سرکاری اسپتالوں میں اکثر اوقات کتے کے کاٹنے کی ویکسین بھی دستیاب نہیں ہوتی، جس کے باعث زخمی افرادجن میں اکثریت معصوم بچوں کی ہوتی ہے شدید خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

ویکسین نہ لگنے کی صورت میں متاثرہ افراد کو ریبیز جیسی مہلک بیماری لاحق ہو جاتی ہے، جو کہ ایک ناقابلِ علاج مرض ہے اور بالآخر موت پر منتج ہوتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، صرف ایک سال کے دوران کراچی میں 29000 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ کم از کم 19 افراد اس مہلک بیماری کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ان ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے، جو یا تو کھیلتے ہوئے یا اسکول جاتے ہوئے ان درندہ صفت حالات کا شکار بنے۔

اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ شہر میں صفائی کے ناقص انتظامات اور جگہ جگہ لگے کچرے کے ڈھیر ہیں، جو آوارہ کتوں کے لیے خوراک کا اہم ذریعہ بن رہے ہیں۔ یہی کچرا ان کی افزائش کا سبب بھی بن رہا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر شہر میں صفائی کا نظام بہتر بنایا جائے اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگایا جائے تو اس مسئلے میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔

اگرچہ پورا شہر اس آفت کی لپیٹ میں ہے، تاہم کورنگی، لانڈھی، ملیر، گڈاپ، ڈی ایچ اے، کلفٹن، لیاری، اورنگی ٹاؤن، قصبہ کالونی محمدپور، منگھوپیر، شاہ فیصل کالونی، محمود آباد، اعظم بستی، بلدیہ ٹاؤن اور ضلع وسطی کے علاقوں سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ یہ علاقے اس وقت شدید خطرے کی زد میں ہیں اور یہاں کے مکین خوف و ہراس کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس صورتحال میں جب شہری انتظامیہ، کمشنر آفس یا میونسپل کارپوریشن کو شکایات درج کرائی جاتی ہیں تو ان پر خاطر خواہ عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ محض رسمی کارروائی کے بعد ان شکایات کو نمٹا دیا جاتا ہے اور مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ یوں عوام کا اعتماد بھی اداروں پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔

کراچی کے اخبارات اور ٹی وی چینلز میں یہ مسئلہ گزشتہ ایک سال سے مسلسل نمایاں انداز میں زیرِ بحث ہے۔ شہ سرخیاں لگ رہی ہیں، رپورٹس نشر ہو رہی ہیں، مگر اس کے باوجود نہ تو شہری انتظامیہ از خود کوئی سنجیدہ قدم اٹھاتی نظر آتی ہے اور نہ ہی عوامی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔

کراچی، جو پورے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کا قومی ترقی میں کلیدی کردار ہے، اسے اس طرح نظرانداز کرنا اور بے یار و مددگار چھوڑ دینا کسی طور بھی قومی مفاد میں نہیں۔ یہ شہر اگر محفوظ، صاف اور منظم ہوگا تو ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک شہری شکایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہنگامی صورتحال کے طور پر لیا جائے۔ صوبائی اور قومی سطح پر اربابِ اختیار کو سنجیدگی کے ساتھ سوچنا ہوگا اور فوری، مؤثر اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے، ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے، صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جامع حکمتِ عملی اپنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

اگر آج اس مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو کل اس کے نتائج کہیں زیادہ بھیانک اور ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔ شہر کے باسیوں کو تحفظ دینا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ یہ شہر ترقی کرے گا تو ہی وطن خوشحال ہوگا اور یہی وہ حقیقت ہے جسے ہر سطح پر تسلیم کرتے ہوئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Check Also

Islamabad Muzakrat Mein Rakhna Dalne Ki Israeli Sazishen

By Nusrat Javed