Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Jang Bandi, Aalmi Ufaq Par Pakistan Aik Roshan Sitara

Jang Bandi, Aalmi Ufaq Par Pakistan Aik Roshan Sitara

جنگ بندی: عالمی افق پر پاکستان ایک روشن ستارہ

ایران، امریکہ جنگ بندی میں پاکستان نے دنیا بھر میں اپنی سفارتی صلاحیتیں منوا لی ہیں۔ کئی دنوں سے جاری اس شدید جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کو، جہاں روزانہ کی بنیاد پر میزائلوں کی بارش ہو رہی ہے، جس سے اب تک ہزاروں افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

ایسے نازک حالات میں پاکستان کا سفارتی کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ایک طرف پڑوسی ملک ایران، دوسری جانب حرمین شریفین کا محافظ سعودی عرب، جس کے ساتھ پاکستان کا خصوصی دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے اور تیسری طرف نام نہاد سپر پاور امریکہ ان تینوں ممالک کے ساتھ بیک وقت توازن قائم رکھنا، انہیں قائل کرنا اور ایک دوسرے کے خلاف معاملات الجھانے کے بجائے سلجھانے کی کوشش کرنا، یہ سب پاکستان کی بہترین اور تاریخی سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس کامیاب سفارتی حکمت عملی میں بالخصوص وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار نمایاں ہے، جنہوں نے کئی دنوں سے شب و روز محنت کی اور اس جنگ کو خاموش کروانے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں۔ سعودی عرب کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ ایرانی حملوں کا جواب صبر و تحمل سے دے اور کوئی جارحانہ حکمت عملی اختیار نہ کرے، اسی طرح برادر پڑوسی ملک ایران کو یہ باور کروانا کہ سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور کیا جائے گا، لہٰذا آئندہ اس میں سخت احتیاط کی ضرورت ہےاور ساتھ ہی امریکہ کو اس خطرناک منصوبے سے باز رکھنا یہ سب پاکستان کے عظیم سفارتی کارنامے ہیں۔

ان کوششوں نے عالمی افق پر پاکستان کو ایک روشن ستارے کی حیثیت دے دی ہے۔ اس وقت عالمی دنیا کی توجہ پاکستان پر مرکوز ہے، جو اس بڑی جنگ کے سدباب میں پہلی سیڑھی عبور کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔ جنگ بندی، جو پہلا مرحلہ تھا، پاکستان نے حاصل کر لیا ہے۔ دوسرے مرحلے کا آغاز نو اور دس اپریل کو اسلام آباد میں متوقع ہے، جہاں دونوں فریقین کو بٹھا کر پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا اور بات چیت کے ذریعے اس پیچیدہ اور خطرناک تنازع کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستان کی یہ کوششیں جہاں دنیا بھر میں اسے ایک منفرد مقام دے رہی ہیں، وہیں بھارت، جو ہمارا مستقل حریف ہے، شدید مایوسی کا شکار نظر آ رہا ہے اور ان حالات پر واویلا کر رہا ہے۔ اس کے لیے یہ بات حیران کن ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم فیصلہ ساز قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ واقعی پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہےایسا اعزاز جسے حاصل کرنے میں دیگر ممالک کو برسوں لگ جاتے ہیں، مگر پاکستان نے اسے مختصر مدت میں حاصل کر لیا۔

اس کامیابی کا کریڈٹ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور میاں شہباز شریف کو جاتا ہے، جنہوں نے باہمی تعاون اور انتھک محنت سے یہ مقام حاصل کیا۔ خصوصاً جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کچھ عرصہ قبل یہ کہا تھا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کا سفر اب شروع ہوگا، تو شاید اس وقت بہت سے لوگ اس پر یقین کرنے کو تیار نہ تھے۔ ایک طرف مسائل سے گھرا ہوا پرانا پاکستان اور عالمی سطح پر کم ہوتی ہوئی اہمیت، مگر عاصم منیر کی قیادت میں پہلے مرحلے میں روایتی حریف ہندوستان کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر جو پذیرائی ملی، اس نے اسے دوبارہ مرکزِ توجہ بنا دیا۔

دنیا بھر کے ممالک پاکستان کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات مضبوط کرنے لگے، کئی معاہدات طے پائے اور دفاعی تعاون میں اضافہ ہوا۔ آج ایک بار پھر پاکستان نے اس خطرناک جنگ کو عارضی طور پر روک کر ایک اور بڑی کامیابی اپنے نام کی ہے اور اس بار پہلے سے کہیں زیادہ عالمی توجہ حاصل کی ہے۔

اس وقت ساری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ جنگ بندی مستقل شکل اختیار کر سکتی ہے یا نہیں اور پاکستان اس میں مزید کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن موجودہ حالات اس بات کی نوید دے رہے ہیں کہ ان شاء اللہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے اور یہ اس کی ابتدائی سیڑھیاں ہیں جن پر پاکستان قدم رکھ چکا ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں، جب پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی حیثیت منوا لی، تو ملک کے اندر عوام اس بات کی منتظر تھی کہ اس خوشی کے موقع پر وزیراعظم میاں شہباز شریف پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کریں گے۔ کیونکہ جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نمایاں حد تک کم ہو چکی ہیں تقریباً بیس فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور فی بیرل قیمت ستاسی ڈالر تک آ گئی ہے، جبکہ مزید کمی کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عوام کو امید تھی کہ وزیراعظم اس حوالے سے کوئی خوشخبری دیں گے، تاہم شاید بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔ لیکن آج بھی عوام پرامید ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے اثرات فوری طور پر عوام تک منتقل کیے جائیں، تاکہ مہنگائی میں کمی آئے اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ یہی وہ اقدام ہے جو عوامی خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

Check Also

Jang Bandi Ke Baad Bhi Pakistan Ke Bad Khwahon Ke Waswasay

By Nusrat Javed