Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Zeashan Butt
  4. Pani Jaisa Banne Ka Hunar

Pani Jaisa Banne Ka Hunar

پانی جیسا بننے کا ہنر

پانی جیسے بنو، یہ جملہ سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، اتنا ہی گہرا اور بامعنی ہے۔ کائنات کی تخلیق سے لے کر انسان کی بقا تک، پانی ایک بنیادی حقیقت ہے۔ قرآنِ مجید میں صاف لفظوں میں بتایا گیا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ زمین کا تقریباً ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے، انسان کے جسم میں بھی پانی غالب عنصر ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہم پانی کو صرف پینے کی حد تک تو یاد رکھتے ہیں، اس سے سیکھنے کی کوشش کم ہی کرتے ہیں۔ بروس لی نے کہا تھا کہ انسان کو پانی جیسا ہونا چاہیے۔ یہ کوئی فلسفیانہ نعرہ نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل نسخہ ہے، بس شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھ اور سیکھنے والا دل ہو۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ ہم نصیحت ہمیشہ اس وقت مانگتے ہیں جب حالات ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ حالانکہ سیکھنے والا انسان دیوار پر لکھی ہوئی بات سے بھی سبق لے لیتا ہے اور جو نہ سیکھنا چاہے، اس کے سامنے اگر سمندر بھی رکھ دیا جائے تو وہ پیاسا ہی رہتا ہے۔ پانی کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچک ہے۔ آپ اسے جس برتن میں ڈالیں، وہ اسی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ نہ شکوہ، نہ ضد، نہ انا۔ بس حالات کو قبول کرتا ہے اور اپنی اصل برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ہمارے نوجوان سب سے زیادہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔

آج کا نوجوان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ دنیا اس کی سہولت کے مطابق چلے گی۔ نوکری ایسی ہو جو دل کو بھی بھائے، تنخواہ بھی زیادہ ہو، باس بھی پسند کا ہو، کام بھی کم ہو اور عزت بھی بے حساب ملے۔ اگر ایسا نہ ہو تو فوراً جملہ آتا ہے: "یہ میری کمفرٹ زون نہیں ہے"۔ حالانکہ زندگی کا سادہ اصول ہے کہ کمفرٹ زون میں رہ کر صرف آرام ملتا ہے، ترقی نہیں۔ خاص طور پر ہماری بچیاں، جو شادی کے بعد ایک نئے گھر میں جاتی ہیں، اکثر شکایت کرتی نظر آتی ہیں کہ "ان کی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے، ماحول مختلف ہے، لوگ میرے جیسے نہیں ہیں"۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر کوئی یہی ضد پکڑ لے کہ سامنے والا میرے جیسا ہو تو پھر رشتے چلیں گے کیسے؟ انڈرسٹینڈنگ پیدا کرنے کے لیے خود کو بھی تو ڈھالنا پڑتا ہے۔ پانی یہی سکھاتا ہے کہ ماحول کو سمجھو، اس کی اچھی چیزیں اپناؤ، غیر ضروری ٹکراؤ سے بچو، تاکہ سامنے والا بھی تمہیں سمجھنے لگے۔

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ لچک کو کمزوری سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرت دیکھ لیجیے۔ مکہ میں تیرہ برس تک سخت ترین مخالفت، طعنے، اذیتیں اور سماجی بائیکاٹ، لیکن نہ ضد، نہ انتقام، نہ انا۔ حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدلی، ہجرت کی، صبر کیا اور جب فتح نصیب ہوئی تو وہی رسولِ اکرم ﷺ تھے جنہوں نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔ یہ کمزوری نہیں تھی، یہ پانی جیسی طاقت تھی۔ صحابۂ کرامؓ کی زندگیاں بھی اسی اصول کی عملی تصویر ہیں۔ حضرت عمرؓ جیسے جری انسان بھی جب حق سامنے آیا تو خود کو بدل لیا اور یہی لچک انہیں عظیم بنا گئی۔

پانی کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مطمئن مگر طاقتور ہوتا ہے۔ نہ شور، نہ ہنگامہ، نہ ہر وقت اپنی طاقت کا اظہار۔ خاموشی سے بہتا ہے، لیکن اگر راستہ نہ ملے تو پہاڑ بھی کاٹ دیتا ہے۔ ہمارے ہاں اس کے بالکل الٹ چلن ہے۔ ذرا سی طاقت ملی نہیں کہ شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ عہدہ ملا تو رعب، تھوڑی سی شہرت ملی تو غرور، دو پیسے آئے تو خود کو عقلِ کل سمجھنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اصل طاقت وہ ہوتی ہے جو نظر نہ آئے مگر محسوس ہو۔ پانی اگر تھوڑا بھی ہو اور جہاں نہ ہو، وہاں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی مقدار نہیں، افادیت اصل چیز ہے۔

نوجوانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ہر وقت اپنی طاقت ضائع کرنا دانشمندی نہیں۔ ہر بحث میں کود پڑنا، ہر معاملے پر رائے دینا، ہر جگہ خود کو منوانے کی کوشش کرنا، یہ سب ذہنی تھکن کے سوا کچھ نہیں۔ اگر آپ واقعی اہم ہیں تو آپ کی غیر موجودگی خود بولے گی۔ ادارہ ہو یا گھر، اگر آپ کا کام بولتا ہے تو آپ کو شور مچانے کی ضرورت نہیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی دیکھ لیجیے۔ نہ جذباتی نعرے، نہ غیر ضروری جوش، نہ فالتو تقریریں۔ خاموش، مطمئن، مگر دلیل میں اتنے مضبوط کہ بڑے بڑے لیڈر لاجواب ہو جاتے تھے۔ یہی پانی جیسی قوت ہے۔

اشفاق احمد مرحوم کہا کرتے تھے کہ خاموشی میں بڑی طاقت ہوتی ہے، بشرطیکہ وہ بزدلی نہ ہو بلکہ شعور ہو۔ واصف علی واصفؒ نے تو پوری زندگی انسان کو یہی سبق دیا کہ بہاؤ کے ساتھ چلو، ضد میں آ کر خود کو نہ توڑو۔ ان کے نزدیک سکون سب سے بڑی دولت تھا اور سکون وہی پاتا ہے جو ہر وقت اپنی انا کو آگے نہ رکھے۔ قاسم علی شاہ آج کے نوجوان کو یہی سمجھاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے سب سے پہلے اپنے اندر نظم و ضبط اور برداشت پیدا کرو۔ یہ سب باتیں مختلف انداز میں کہی گئیں، مگر اصل پیغام ایک ہی ہے: پانی جیسے بن جاؤ۔

پانی کی تیسری اور شاید سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ٹکراؤ سے بچتا ہے۔ سامنے چٹان آ جائے تو لڑتا نہیں، شور نہیں مچاتا، بلکہ خاموشی سے راستہ تلاش کر لیتا ہے۔ کبھی دائیں، کبھی بائیں، مگر بہاؤ جاری رکھتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس کے برعکس، ٹکراؤ کو بہادری سمجھا جاتا ہے۔ ذرا سی بات پر لڑائی، اختلافِ رائے کو دشمنی بنا لینا، منفی لوگوں کے ساتھ الجھتے رہنا، یہ سب ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ اصل جیت یہ نہیں کہ آپ نے کتنے لوگوں کو لاجواب کیا، بلکہ یہ ہے کہ آپ کتنی لڑائیوں سے بچ کر اپنی منزل تک پہنچے۔

ہم میں سے اکثر لوگ اپنی زندگی کی توانائی فالتو جھگڑوں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا اس کی زندہ مثال ہے۔ نہ ختم ہونے والی بحثیں، ذاتی حملے، کردار کشی اور آخر میں ہاتھ کیا آتا ہے؟ کچھ بھی نہیں، سوائے ذہنی بوجھ کے۔ پانی ہمیں سکھاتا ہے کہ ہر پتھر سے سر نہ ٹکراؤ، بعض کو نظرانداز کرکے آگے بڑھ جانا ہی عقل مندی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ کا اسوہ یہی تھا کہ غیر ضروری جھگڑوں سے بچتے، مگر حق کے معاملے میں ڈٹ جاتے۔ فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے ہاں طنزاً کہا جاتا ہے کہ "جو جھکتا ہے وہی کمزور ہوتا ہے"، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو جھکنا جانتا ہے وہی ٹوٹنے سے بچ جاتا ہے۔ پانی اگر اکڑ جائے تو تالاب بن کر سڑ جاتا ہے، بہتا رہے تو صاف رہتا ہے۔ یہی حال انسان کا ہے۔ جو خود کو حالات کے ساتھ بہنے دیتا ہے، وہ سیکھتا ہے، نکھرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے اور جو ضد میں اڑا رہے، وہ وقت کے ساتھ پیچھے رہ جاتا ہے۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ زندگی کوئی مقابلۂ کشتی نہیں کہ ہر ایک کو پچھاڑنا ضروری ہو۔ زندگی ایک سفر ہے اور اس سفر میں پانی جیسا ہونا سب سے بڑی حکمت ہے: لچکدار، مطمئن، طاقتور اور ٹکراؤ سے بچنے والا۔ اگر ہم نے یہ تین خوبیاں اپنا لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی آسان ہو جائے گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ ورنہ ہم پانی کے بغیر زندگی تو ناممکن سمجھتے رہیں گے، آخر میں ہمیشہ کی طرح تجربہ شرط ہے تھوڑا نہیں مکمل غور کیجے۔۔

Check Also

Shar Se Kair Ka Janam

By Hameed Ullah Bhatti